سمسانی کے گوجروں کی بپتا

سمسانی کے گوجروں کی بپتا

پرانے وقتوں میں جب عنان اقتدار بادشاہوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی، تو جنگ کی صورت حال بنتی رہتی تھی۔ کسی بادشاہ کو کبھی انتظام ِ سلطنت کے لئے اور کبھی اپنے ذاتی عیش و عشرت کے لئے ملکی خزانہ کفایت نہ کرتا تو وہ اپنے گردو پیش پر نظر دوڑاتا، جس ملک کو عسکری طور پر کمزور پاتا اس پر حملہ کر دیتا تھا۔ بعض اوقات اسے مادی احتیاجات کی خاطر اپنے سے تگڑے ملک پر بھی حملے کا رسک لینا پڑتا تھا۔ مفتوح ملک کے سپاہی میدان جنگ میں کام آ جاتے اور عام مرد و زن غلام بنا لئے جاتے تھے۔ لوٹ مار کا پہلا نشانہ مفتوح بادشاہ کے محلات بنتے تھے، اس کے بعد امیروں، وزیروں کی شامت آ جاتی تھی۔ آخر میں عوام فاتح فوج کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے۔ ان کے گھروں میں پڑے اناج کے ذخیرے اور اُن کے مال مویشی قبضہ میں کر لئے جاتے۔ مفتوحین سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے، لیکن چوں نہ کرتے، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا عوامی مقولہ ایسی ہی صورت حال پر صادق آتا تھا۔نیرنگی زمانہ دیکھئے کہ بادشاہت کی جگہ جمہوریت آ گئی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے باقاعدہ ادارہ سازی شروع ہو گئی، لیکن سپرٹ کے اعتبار سے ان اداروں اور پرانے مطلق العنان بادشاہوں کے کردار میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ پرانے زمانے میں اگر مال و دولت حاصل کرنے کے لئے مفتوحین کی کھالیں ادھیڑی جاتی تھیں تو اس جدید دور میں ملکی ادارے ایسی پالیسیاں بناتے ہیں، جن کے نتیجے میں اپنے ہی عوام کے گلے گھونٹ دیئے جاتے ہیں، ان پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے، ان کے پاس پرانے بادشاہوں کی طرح اسلحہ بردوش فوجیں تو نہیں ہوتیں، لیکن اُن کی کارکردگی کی روح لوٹ مار ہی ہوتی ہے۔ یہ لوٹ مار کن کن قانونی شقوں کے پردے میں ہوتی ہے اور کن کن ہتھکنڈوں کے ذریعے ہوتی ہے، ان سے عوام اکثر ناواقف ہی ہوتے ہیں، جس طرح پرانے بادشاہوں کے پاس زور اور جبر ہوتا تھا اور مفتوح ملک کے عوام اسے بَلا چون و چرا سہتے تھے اِسی طرح آج کے عوام بھی اداروں کے من مانے فیصلوں کے سامنے اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں۔ رہ سہہ کے عدالتیں اُن کا سہارا بن سکتی ہیں، لیکن آج کی عدالتوں سے انصاف حاصل کرنا کارے دارد ہے۔ عدالتوں کو مقدمات کی سماعت کے دوران استغاثہ اور مستغیث کے وکیلوں کی معاونت ملتی ہے۔ اگرچہ وہ زیر سماعت مقدمے کے قانونی پہلوﺅں پر بحث کر کے عدالت کی فیصلہ کرنے کے سلسلے میں مدد کرتے ہیں، لیکن یہ عمل بہت لمبا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ مقدمے کے اخراجات بڑے بڑوں کو کنگال کر دیتے ہیں۔ اس لئے عام شہری کو مختلف اداروں کی طرف سے ملنے والی تکالیف کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا۔ مثلاً کسی شخص کو بجلی کا بل اچانک معمول سے کئی گناہ زیادہ آ جائے تو اس کی گریہ و زاری پر واپڈا کے اہلکار کوئی توجہ نہیں دیتے، اُن کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے جمع کروا دو، بعد میں ایڈجسٹمنٹ ہو جائے گی۔ اِسی رگڑے جھگڑے میں آخری تاریخ کے گزر جانے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مصیبت زدہ شخص کوخطرہ درپیش ہوتا ہے کہ آخری تاریخ گزر گئی تو جرمانہ پڑ جائے گا، چنانچہ وہ ’مرتا کیا نہ کرتا‘ کے مصداق اِسی بل کو جمع کروانے پر مجبور ہو جاتا ہے، چاہے اسے قرض اُٹھانے کی ذلت سے دوچار ہونا پڑے۔جوہر ٹاﺅن میں میری رہائش کے نزدیک سمسانی گاﺅں ہے، جہاں سے مَیں صبح ہی صبح تازہ دودھ لینے جاتا ہوں۔ وہاں گوجروں کے پانچ سات ڈیرے ہیں۔ ان گوجروں کو گزشتہ دو چار سال سے وارننگ مل رہی تھی کہ وہ یہ علاقہ چھوڑکر کہیں دُور چلے جائیں، کوئی دو تین ماہ قبل انہیں سرکار کی طرف سے سخت آرڈر موصول ہوئے، تو وہ چند میل دُور جا بسے۔ وہاں سے وہ دودھ سمسانی لا کر گاہکوں کو بھگتانے لگے۔گاہکوں کو البتہ اب 75 روپے فی کلو ملنے والا دودھ 85 روپے میں ملنے لگا۔ پھر ایک روز گوجروں کی بھینسوں سمیت سمسانی میں مراجعت کی خبر مل گئی۔ معلوم ہوا کہ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی سفارش منظور ہو گئی ہے۔ گزشتہ جمعتہ المبارک کو مَیں معمول کے مطابق علی الصبح جب دودھ لینے سمسانی جا رہا تھا تو راستے میں دودھ کے گاہکوں کا ایک بڑا ہجوم دیکھا۔ معلوم ہوا کہ ایل ڈی اے والے ایک ڈیرے کی 50 کے لگ بھگ بھینسیں ہانک کر لے گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دو روز قبل ایک اور ڈیرے والے 50ہزار جرمانہ ادا کر کے اپنی بھینسیں چھڑا کر لائے تھے۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ جرمانے کی وہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوئی یا سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں چلی گئی۔ اب جو 50 بھینسیں لے گئے ہیں اُن کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ کوئی بتا رہا تھا کہ سرکاری اہلکار اِن بھینسوں کا دودھ 50 روپے فی کلو کے حساب سے بیچ رہے ہیں۔آج جبکہ چھٹا دن ہو گیا ہے ابھی تک سرکار نے فیصلہ نہیں سنایا کہ گوجروں نے کتنا جرمانہ ادا کرنا ہے، لیکن سمسانی کے اکثر لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں ہو رہا کہ گوجروں نے جو رقم بطور جرمانہ ادا کرنی ہے اس کا کتنا حصہ سرکاری خزانے میں جانا ہے اور کتنا جیبوں میں جانا ہے۔ معاملہ صرف سرکاری خزانے کا ہوتا تو واقعہ کے دوسرے ہی دن کوئی فیصلہ آ جاتا، لیکن ہمارے سرکاری اداروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ معاملات کو جلد حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہاں تو ظاہر سی بات ہے کہ گوجروں کی بھینسوں کا دو وقت کا دودھ جن کے تصرف میں ہے، وہ بھلا فیصلہ جلد کیسے کریں گے۔ گوالوں اور گوجروں کے خلاف جتنے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں اُن کا پس منظر سمجھنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ دودھ کی کمپنیاں جو گوجروں سے دودھ لے کر اس میں کیمیکلز کی آمیزش کرتی اور کریم نکالتی ہیں، وہ چاہتی ہیں ساری پاکستانی قوم بھینس کے تازہ اور خالص دودھ کو بھول کر ڈبے کے دودھ پر آ جائے۔ ان ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو ہمارے ریاستی نظام میں زبردست مداخلت حاصل ہے، انہیں بخوبی معلوم ہے کہ کس افسر کی کتنی قیمت ہے، چنانچہ وہ قیمت ادا کر کے فیصلے کروا لیتی ہیں۔ ان کے نزدیک اربوں کے فائدے سمیٹنے کے لئے دو چار کروڑ کھلا پلا بھی دیئے جائیں، تو نقصان کا سودا نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب ہندوستان میں پیر جمانے شروع کئے تھے، تو اُس کے بھی یہی ہتھکنڈے تھے۔ آج پاکستان کو بیسیوں کمپنیاں چوس رہی ہیں، لیکن حکمرانوں کو اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں!   ٭

مزید : کالم