کراچی میں ہنگامے اور ہڑتال

کراچی میں ہنگامے اور ہڑتال

کراچی میں رینجرز اور پولیس کا ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس کے نتیجے میں کامیابی سے جرائم پیشہ لوگوں ، قاتلوں، بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں، ناجائز اسلحہ برآمد کیا جارہا ہے۔ دو سیاسی جماعتوں کے پکڑے جانے والے رہنماﺅں سے بھی اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے ایک سابق ایم پی اے کی گرفتار ی کے بعد متحدہ کے کارکن سٹرکوں پر نکل آئے ، پٹرول پمپ، سکول دکانیںاور کاروباری مراکز بند ہوگئے۔ سٹرکوں پر احتجاج کے لئے ٹائر جلائے گئے۔چار گاڑیاں نذر آتش کردی گئیںاور فائرنگ کے واقعات میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔حیدر آباد ، سکھر، میر پور خاص ، ٹنڈو الہ یارمیں بھی ہنگامہ آرائی کی گئی۔ ان واقعات کے بعد کراچی میں رینجرز اور پولیس کو بکتر بند گاڑیاں فراہم کردی گئیںاور آپریشن تیز کردیا گیا۔ شہر میں فروخت کے لئے امریکی ساخت کے راکٹ لانے والے دہشت گرد بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔رینجرز کے مختلف علاقوں میں چھاپے جاری ہیں۔ اب تک کے حالات سے معلوم ہو رہا ہے کہ رینجرز اور پولیس کامیابی سے اپنا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسرے شہروں میں بھاگ جانے والوں کے علاوہ شہر کے اندر چھپے ہوئے مجرموں کو پکڑنے میں انہیں زیادہ دشواری پیش نہیں آرہی۔ لیکن جس طرح کا رد عمل ایک جماعت کی طرف سے اپنے کارکنوں کو پکڑنے کے بعد ظاہر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ارادے یہی ہیں کہ دوسری سب جماعتوں کے جرائم پیشہ اور مسلح افراد کو تو پکڑ لیا جائے لیکن اگر ان کی طرف دھیان دیا گیا تو پھر یہ معاملہ بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے لئے بھی اس جماعت کے پاس پرامن احتجاج سے زیادہ پرتشدد احتجاج اور زبردستی دکانیں بند کرانے کا حربہ ہے جس کے ذریعے وہ ہر آن اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کو تیار رہتی ہے۔ شہر میں ہر کسی کو اپنی حفاظت کرنے اور کسی زیادتی کے خلاف احتجاج کرنے کا حق تو حاصل ہے، لیکن شہریوں کو یرغمال بنانے کے لئے خطرناک ناجائز اسلحہ جمع کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جرائم پیشہ لوگوں کو سیاستدانوں کے پیچھے پناہ لینے کی اجازت ہونی چاہئیے نہ مجرموں کو پناہ دینے والوں کے ساتھ عوامی تائید و حمایت ہوسکتی ہے۔ بعض لوگوں کی کوششوں سے مجرم سیاسی جماعتوں میں پناہ لے سکتے ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنے مسلح ونگز کو جوں کا توں رکھنے کے لئے کوشش کرسکتی ہیں، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر ایک جماعت کے کارکنوں کو غیر مسلح کیا جاتا ہے تو پھر دوسری جماعتوں کے کارکنوں اور حمائتیوں کو بھی غیر مسلح ہونا پڑے گا۔ کراچی کی تمام جماعتوں اور سیکورٹی ایجنسیز نے مل بیٹھ کر آپریشن کا جو لائحہ عمل طے کیا ہے اس کے مطابق معاملات کو آگے بڑھنے دینے ہی میں سب کا بھلا ہے۔ یہی عوام کی خواہش ہے۔ یہی پوری قوم اور مسلح افواج کا منشا ءہے۔ اب کوئی اپنے اسلحہ کے ذخائر کو دیکھتے ہوئے اگر مچلنے اور بگڑنے کی کوشش کرے گا تو اپنے ہزار واویلا کے بعد بھی قوم کی نظروں میں سرخرو نہیں ہوسکے گا۔ پوری قوم کراچی کو اسلحہ سے پاک پرامن شہر دیکھنا چاہتی ہے ، شہر پر اسلحہ کے زور سے کسی جماعت کو بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ جولوگ شہریوں کو یرغمال بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ان کے کام اور ان کے جبر اور تشد د کے ہتھکنڈوں سے سارا شہر واقف ہوجاتا ہے۔ عام لوگ اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت کے لئے خاموش رہتے ہیں بعض اوقات مجبوراً ہڑتال بھی کرتے ہیں لیکن کون کیا ہے یہ سب کے علم میں ہے۔ موجودہ حالات میں جبر کے ساتھ نہ قیادت کی جاسکتی ہے نہ ڈاکوﺅں اور دہشت گردوں کی سیاست کے نام پر پشت پناہی ممکن ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشن کے سلسلے میں سیاستدانوں کے اپنے طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق عمل نہ ہونے کی کوئی شکایت ہو تو یہ اس سلسلے میں بنائی گئی سیاسی کمیٹی یا دوسرے متعلقہ لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ شہر کے مختلف گروہوں کی قیادت کو اس سلسلے میں اپنی بات پہنچانے کے لئے اوپر تک رسائی حاصل ہونی چاہئیے تاکہ کسی طرح کی غلط فہمی اس آپریشن سے لوگوں کو بدظن کرنے کا باعث نہ بنے ، لیکن آپریشن پوری دلجمعی اور جامعیت کے ساتھ شہر میں مکمل امن قائم کرنے تک جاری رہنا چاہئے۔  ٭

مزید : اداریہ