ملکی معیشت کی بحالی کا عزم

ملکی معیشت کی بحالی کا عزم

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کو درپیش معاشی اور سیکورٹی مسائل کے حوالے سے کوئی سیاسی دباﺅ قبول نہیں کررہی ۔آئی ایم ایف کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے باصلاحیت ٹیم دن رات کام کررہی ہے۔ان کی اہل ٹیم ملک کو دوبارہ مضبوط معاشی بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔بین الاقوامی اداروں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں، طرفین کو اپنے اپنے مینڈیٹ کا ادراک ہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو جائیں گے۔ وفد کے اراکین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس معاشی بحالی کا مربوط پروگرام اورمقصد کا شعور موجود ہے۔وزیر اعظم کی طرف سے عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے اپنی حکومت کے عزم کا اظہار دراصل دوسری اقوام کے سامنے اپنے قومی عزم کا اظہار ہے۔ پوری قوم یہ توقع رکھتی ہے کہ ہم جو قرض لیتے ہیں اسے عالمی ادارے بھیک نہ سمجھیں۔ ان قرضوں پر ہمیں بھاری سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے عوض اگر ہم سود کے علاوہ ان اداروں کی اپنے معاملات میں مداخلت اور ان کی کڑی شرائط بھی تسلیم کرتے رہیں تو اسے محض حکومتوں کی نالائقی ہی کہا جائے گا۔ البتہ قرض دینے والے عالمی اداروں کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ وہ دئیے گئے قرضوں کے بیان کردہ مقاصد کے لئے موثر استعمال کی ضمانت حاصل کریں ، ان کے ضائع ہونے یا ایسے انداز میں خرچ کرلئے جانے پر اعتراض کریں جس کے بعد کوئی حکومت ان قرضوں کی واپسی کے قابل ہی نہ رہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ماضی میں ہماری حکومتوں نے جو قرضے لئے انہیں موثر انداز میں خرچ نہیں کیا جاتا رہا۔ ان کو ایسے مقاصد کے لئے خرچ نہیں کیا گیا جس سے بھاری زرمبادلہ خرچ کرکے درآمدکی جانے والی کوئی چیز ملک کے اندر ہی تیار ہونے لگتی یا بڑے ڈیم تعمیر ہونے کے بعد ان کے ذریعے ہونے والی آبپاشی اور بجلی سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہمیں قرضے واپس کرنے کے بعد بھی مستقلافوائد مہیا کرتا۔ زیادہ تر ہم نے غیر پیداآور مقاصد کے لئے قرضے لئے جن کے لینے کا کوئی جواز نہیں تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم قرضوں کے بوجھ تلے پستی رہی ۔ ان کے سود ہی کی ادائیگی کے لئے ہمیں اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کرنا پڑتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ ہماری حکومتیںلئے ہوئے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کے لئے بھاری شرح سود پر نئے قرضے لے رہی ہیں۔ ہمیں ہر آن یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں قرضوں کی اقساط ادا نہ کر سکنے کی بناءپر ہم دیوالیہ قرار نہ پا جائیں۔ قرضوں کی واپسی کے سلسلے میں آج تک ہماری حکومتوں کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔ ہم عالمی اداروں کی نظر میں اچھے قرضہ لینے والے ہیں ، جو قرضوں سے کوئی فائدہ اٹھائیں نہ اٹھائیں لیکن مع سود ان کی واپسی طے شدہ شرائط کے مطابق باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ ہم اچھے قرضے لینے والے ہیںلیکن قرضوں کے موثر استعمال کے سلسلے میں ہرگز اچھے نہیں۔ایک موقع پر ہم نے اپنا سائنس سلیبس تبدیل کرنے کے لئے کروڑوں روپے کا قرض لیا ، سلیبس تیار کرایا گیا اس کے مطابق کتابیں لکھوائی گئیں لیکن نئے سلیبس اور نئی کتابوں کی راہ میں پرانی کتابیں لکھنے والے رکاوٹ بن گئے ، جس وجہ سے نئے سائنس سلیبس کے سلسلے میں کچھ بھی نہ ہوسکا۔ قرض لی گئی ساری رقم ضائع گئی ۔ یہ قرض ملک کو بھاری سود سمیت واپس کرنا پڑا۔ اس طرح کے لئے گئے قرض کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ جن کے مطالعہ کے بعد انسان یہی سوچتا ہے کہ شاید اس ملک کے مفادات کی نگہبانی کرنے والا کوئی شخض یا ادارہ ملک میں سرے سے موجود ہی نہیں ۔وزیر اعظم کی طرف سے اپنی حکومت کے ذریعے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور مضبوط معاشی بنیادوں پر کھڑے کرنے کے عزم کا اظہار بہت خوش آئند ہے۔ آئی ایم ایف کے وفد نے بھی حکومت کے معاشی بحالی کے مربوط پروگرام اور مقصد کے شعور کی تعریف کی ہے۔ دہشت گردی ، بجلی بحران اور معاشی بحران ختم کرنے کے سلسلے میں حکومت کو ہر کوئی درست سمت میں جاتے ہوئے دیکھ رہا ہے ۔ ملکی سیاسی طاقتیں اور محب وطن حلقے حکومت کی کامیابیوں کے متمنی ہیں۔ مہنگائی اور بالخصوص پٹرول، بجلی اور گیس کے بڑھے ہوئے نرخوں سے عوام بے حد مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں۔ لیکن اگر بجلی بحران ختم ہونے سے صنعت کا پہہہ چلنے لگے ، لوگوں کے لئے لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوجائیں، معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوجائے تو اس سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے ضروری امن قائم کرنے کے لئے بھی موجودہ حکومت نے قومی مفاہمت کے ساتھ صحیح اقدامات شروع کررکھے ہیں جن کے نتیجے میں پوری توقع ہے کہ پاکستان اور ملت اسلامیہ کی خیر خواہ تمام قوتیں مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے ملک میں پائیدار امن قائم کر سکیں گی جس کے بعد ہم ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بھی اپنے تمام تنازعات طے کرنے میں کامیاب رہیں گے۔لیکن اس سارے عمل میں صرف حکومت کی نیک نیتی اور ماہر ٹیم کا دن رات کام کرنا ہی کافی نہیں، ہمیں اپنی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے دشمن کی سازشوں اور ہمارے حالات بگاڑنے کے ہتھکنڈوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ ہماری قو م او ر سرزمین میں قدرت نے وہ سب کچھ دے رکھا ہے جس سے ہم بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ کر اقوام عالم میں اپنے لئے قابل رشک مقام بنا سکتے ہیں۔لیکن میگا کرپشن، ناکام منصوبہ بندی ، اور بھاری رقوم کا ضیاع اور بدامنی و دہشت گردی ہمیں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے دھکیلنے کے سامان کرتی رہی ہیں۔ان تمام میدانوں میں سدھار کے بغیر ہم معیشت کے استحکام کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ اس کے لئے حکومتی مشینری اور سیکورٹی اداروں کو جہاں دن رات کام کرنا ہوگا وہاں اپنا اپنا کام کرتے ہوئے باہمی رابطے اور تعاون کی فضا کو بھی بہتر سے بہتربنانا ہوگا۔ان پہلوﺅں کو نظر انداز کیا گیا تو دن رات کام کرنے والی اہل ترین ٹیمیں بھی کوئی نتائج نہیں دے سکیں گی۔ امید ہے پوری قوم بھی چاک و چوبند ہو کر ان قومی مقاصد کے لئے حکومتی مشینری کا ساتھ دے گی، نفا ق اور انتشار کو اپنی صفوں کے قریب نہیں پھٹکنے دے گی۔

مزید : اداریہ