چودھری سرور کے گورنر ہاﺅس میں

چودھری سرور کے گورنر ہاﺅس میں

ان دنوں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کاہنی مون پیریڈ چل رہاہے اور شاید یہ ہنی مون پیریڈ اس گورنر ہاﺅس میں اُن کے آخری دن تک اسی طرح چلتا رہے گا،کیونکہ یہ پہلے ہی ایک نمائشی عہدہ تھا اور اب توکچھ زیادہ ہی نمائشی لگنے لگا ہے۔ان جیسا مرنجاں مرنج،شریف النفس اور خاموش طبع انسان دیکھنے دکھانے ہی کے کام آسکتا ہے۔ممکن ہے کہ چودھری صاحب بھی غالب کی طرح اپنے منہ میں زبان رکھتے ہوں،لیکن فی الحال کسی نے انہیں مُدعا بیان کرتے نہیں سنا۔بس وہ اپنے پرانے دوستوں سے ملنے ملانے میں مصروف ہیں۔کچھ کو وہ دعوت دے کر بلارہے ہیںاور کچھ بن بلائے چلے آرہے ہیں۔خود بھی گورنرہاﺅس کے درو دیوار دیکھ رہے ہیں اور اپنے دوستوں کوبھی دکھا رہے ہیں۔ویسے ان کے لئے گورنر ہاﺅس کے شاندار،پُرشکوہ اور عالی شان درو دیوار میں شاید کچھ نیانہ ہو، کیونکہ وہ پچھلے کئی برسوں سے برطانیہ میں مقیم تھے اور دارالعوام کے رکن تھے۔ہمارا گورنرہاﺅس لاکھ شاندار،پُرشکوہ اور عالی شان سہی،لیکن یہ برطانوی دارالعوام کی عمارت کا مقابلہ ہر گز نہیں کرسکتا ۔ہاں اگر چودھری سرور سیدھے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گورنر ہاﺅس آتے تو ان کی حیرت شاید کبھی ختم نہ ہوتی۔

پچھلے پندرہ بیس برسوں میں مجھے اس گورنر ہاﺅس میں متعدد مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔جناب خالد مقبول کے دورمیں تویہ مجھ جیسے قلم کاروں کا گھر ہی بن کررہ گیا تھا۔چائے کی طلب ہوتی تو ہم کسی قدیم چائے خانے کارخ کرنے کی بجائے گورنر ہاﺅس پہنچ جایا کرتے تھے ۔ گورنرخالد مقبول کے ساتھ کئی شہروں کے دورے بھی کئے ،اس لئے اس گورنر ہاﺅس میں کم از کم میرے لئے اب کوئی نئی بات نہیں رہی۔نئی بات اگر ہے تو یہ کہ اب اس کا مکین نیا ہے۔اگرچہ دیسی بندہ ہے، لیکن اسے ولایت کی ہوالگ گئی ہے، اس لئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے گا۔

برادرم عمران حسین چودھری اور نواز کھرل نے لارڈ نذیر احمد کی کتاب ”اندازِ بیاں اور“کی تعارفی تقریب کا اہتمام گورنر ہاﺅس میں کرکے دراصل لاہور کے ادیبوں کو گورنر صاحب سے ملوانے کا بندوبست کیا تھا۔ادیب اور شاعر،چونکہ بہت بڑی تعداد میں یہاں موجود تھے، اس لئے یہ تقریب عوامی رنگ اختیار کرگئی تھی،شاید یہی صورتِ حال دیکھ کر گورنر صاحب نے آخر میں اپنی تقریر میں کہا تھا:”اب گورنر ہاﺅس کے دروازے عوام کے لئے کھلے رہیںگے“۔

امید ہے کہ تقریب کے بعد برادرم عمران حسین چودھری اور نواز کھرل نے گورنر صاحب کو بتا دیاہوگا کہ یہ لاہور کے عوام نہیں خواص تھے،بلکہ یوں کہا جائے تو درست ہوگا کہ یہ برصغیر کے سب سے بڑے ادبی مرکز لاہور کے ”دارالامرا“کے ”لارڈز“ہیں،اور دنیا کے کسی بھی شہر میں موجود اردو زبان کا کوئی ادیب اس وقت تک ادبی دنیا میں معتبر نہیں ہوسکتا، جب تک لاہور کے ادبی لارڈز کی آشیرباد حاصل نہ کرلے۔یقین نہیں آتا تو آپ لارڈ نذیر احمد سے پوچھ لیں،وہ اپنی دونوں کتابیں چھپواتے ہی لاہور کیوں آئے؟اب لارڈنذیر احمد کی دونوں کتابیں لاہور کے لارڈزنے”او کے “کر دی ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اب ان کی مزید کتابیں آئیںگی۔

”ایک دن جیو کے ساتھ“ کرکے شہرت پانے والے صحافی،مقبول سیاسی تجزیے کرنے والے تجزیہ نگار اور میرے دوست سہیل وڑائچ گورنر ہاﺅس میں ادیبوں کو دیکھ کر خاصے مسرور تھے، وہ چونکہ گورنر ہاﺅس کی خاص محفلوں اور نشستوں میں آتے رہتے ہیں، اس لئے ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید ادیب اور شاعر گورنر ہاﺅس میں پہلی بار آئے ہیں۔ایسا ہر گز نہیں ہے ،گورنر ہاﺅس میں پچھلے پندرہ بیس برسوں میں متعدد ادبی تقریبات منعقد ہوئی ہیں، جن میں صرف لاہور کے نہیں، ملک بھر کے ادیب شریک ہوتے رہے ہیں“۔

”اندازِ بیاں اور“لارڈ نذیراحمد کے انٹر ویو ز اور تقریروں کا مجموعہ ہے جو عمران حسین چودھری نے بہت سلیقے سے مرتب کیا ہے۔ایک ہی شخصیت کے مختلف انٹرویو ز جس خوب صورتی اور ذہانت سے اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں ،وہ مجھے آج سے پہلے اس قسم کی کسی کتاب میں کبھی دکھائی نہیں دئیے۔یوں یہ انٹر ویوز ریڈ ایبل (Readable)ہوگئے ہیں۔لارڈنذیراحمد کی شخصیت کو جاننے کے لئے ان انٹرویوز کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے ۔یہ انٹرویو ز پڑھتے ہوئے مجھے سوانح عمری کا لطف ملا۔لارڈنذیر احمد نے اپنے بچپن اور غربت کے قصے نہایت مزے لے لے کر بیان کئے ہیں،مثلاً ایک جگہ انہوںنے فرمایا کہ مَیں لندن میں آلو کے چپس فروخت کیا کرتا تھا۔جو چپس شام کو بچ جاتے ،وہ مَیں خود کھا لیا کرتا تھا، یوں میں موٹا ہوگیا ۔ان کے انٹرویوز میں سے سوانح عمری کا مزہ دینے والے چند جملے آپ بھی ملاحظہ کیجئے، مجھے یقین ہے کہ یہ جملے پڑھنے کے بعد آپ ان کی کتاب”اندازِ بیاں اور“دھونڈنے نکل کھڑے ہوںگے:

٭....قبرستان میں بیٹھ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

٭....کالج کے زمانے میں کاروبار شروع کردیا اوردو ٹریکٹر اپنے ہاتھ سے پینٹ کر کے پاکستان بھیجے۔

٭....برطانیہ سے سڑک کے راستے پاکستان آتے ہوئے زیادہ وقت لگ گیا تو والدین نے سمجھا کہ شاید میں مر گیا ہوں۔

٭....مَیں نے ایرانی آیت اللہ سے کہا کہ جب تک آپ میری گاڑی واپس نہیں کریںگے ،مَیں آپ سے تعاون نہیں کروںگا۔

٭....1992ءمیں مجھے رادھرم میں کم عمر ترین مجسٹریٹ کی حیثیت سے تعینات کردیاگیا۔

٭....1998ءمیں جمعة الوداع کے موقع پر خانہ کعبہ کے دروازوں کو تھام کر مانگی گئی دعا قبول ہوئی اور مَیں لارڈبن گیا۔

٭....لارڈ بنا تو والدہ نے لوگوں سے کہا:”میرا بیٹا لندن میں تحصیل دار لگ گیا ہے“۔

٭....مَیں پہلا مسلمان ہوں جس کو یروشلم میں یہودی پارلیمنٹ میں خطاب کا موقع ملا۔

٭....پُراسرار مخلوق میاں نواز شریف کو اغوا کرنا چاہتی تھی۔

٭....ترکی کے سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کے خلاف مقدمات بنائے گئے تو انہوںنے مجھے ترکی بلالیا۔

٭....قرآن پاک کا وہ نسخہ اب بھی ہاﺅس آف لارڈز کی لائبریری میں موجود ہے ،جس پر مَیں نے حلف لیا۔

آخرمیں میری غزل کے دو شعر ملاحظہ کیجئے اور اجازت دیجئے:

چلا ہے قافلہ اور راہ بر نہیں کوئی

اسی لئے ہمیں لٹنے کا ڈر نہیں کوئی

ہمارے پیشِ نظر منزلیں بہت ناصر

ہمارے زیرِ قدم رہ گزر نہیںکوئی

مزید : کالم