کراچی آپریشن، تمام سٹیک ہولڈرزکی رضا مندی سے شروع ہوا

کراچی آپریشن، تمام سٹیک ہولڈرزکی رضا مندی سے شروع ہوا
کراچی آپریشن، تمام سٹیک ہولڈرزکی رضا مندی سے شروع ہوا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی کی تازہ ترین صورت حال کے حوالے سے کسی کو بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے، یہ واقعات کا تسلسل ہے اور اب سلسلہ شروع ہوا ہے تو اسے ٹھپ کرنے کا بھی طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے، یہ مکمل حقیقت ہے کہ اب تک کراچی میں جو لوگ بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ان کا تعلق کسی نہ کسی جماعت سے ہے خواہ وہ متحدہ ہے، پیپلزپارٹی یا اے۔ این۔ پی اس کے علاوہ سنی تحریک اور جماعت اسلامی کو بھی لپیٹا گیا، اس کے بعد دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں، شہری نشانہ بنے تو ملک کی بناءپر بھی بم برسائے گئے انہی حالات میں جرائیم پیشہ افراد کو شہ ملی وہ سرگرم ہوئے۔ راہزنی اور ڈاکے عام ہو گئے حتی کہ یکے بعد دیگرے بنک لوٹے گئے سی۔ سی۔ فوٹیج بھی کام نہ آئی۔ کہتے ہیں کہ ان وارداتوں کے ذمہ داروں کو گرفتار کر کے سزا دلانے میں ناکامی ہوئی تو اغواءبرائے تاوان اور بھتہ خوری کے مجرموں پر کیسے ہاتھ ڈالا جا سکتا تھا۔

بدترین بدامنی کی اس صورت حال میں سبھی نے بلا تخصیص کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہرایک جماعت نے بیان کی حد تک یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جماعت میں بھی کوئی جرائم پیشہ ہوا تو اس کی حمائت نہیں کی جائے گی۔ اسی جذبے کا اظہار وزیراعظم کی موجودگی میں کیا گیا اور میاں محمد نوازشریف نے اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کراچی کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے رینجرز اور پولیس کو جرائم پر زیادہ اختیارات دے کر اعتماد کااظہار کیا کیونکہ رینجرز اور پولیس کی طرف انہی اختیارات کا رونا رویا گیا تھا۔ اس پر سب سے صاد بھی کیا چنانچہ رینجرز کو ہدف دے کر امن قائم کرنے کے لیے کہا گیا کہ بلا امتیاز کارروائی کی جائے، وزیراعظم نے تمام وفاقی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی اس میں تعاون کی ہدائت کر دی۔ اس حوالے سے سندھ حکومت اور سید قائم علی شاہ کی سربراہی کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ بہتر اقدام تھا کہ وہ 18 ویں ترمیم بھی تو متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اور صوبوں کے بہرحال حقوق ہیں۔

رینجرز کی ابتدائی کارروائی اطمینان بخش تھی اور کوئی بڑا اعتراض نہ ہوا کہ سبھی گرفتار ہونے والے اہم لوگ نہیں تھے چھوٹے درجے کے حضرات تھے اور یہ بھی تمام طبقوں سے متعلق تھے اس سلسلے میں وزیرداخلہ کی توجہ پھر سے دلانا مقصود ہے کہ بھرپور ایکشن کی خبروں ہی کے دوران مطلوب اہم لوگ یا تو زیر زمین چلے گئے اور یا پھر عارضی طور پر ملک ہی چھوڑ گئے تھے اس کے باوجود نارتھ ناظم آباد سے ایک سابق ایم۔ پی۔ اے ندیم ہاشمی کی دو پولیس والوں کے قتل کے مقدمہ میں مشتبہ کے طور پر گرفتاری نے یکایک ہی نئی صورت حال پیدا کر دی۔ اس گرفتاری کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔ لیکن متحدہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ ضروری جانا۔ کراچی میں سناٹا پیدا کیا۔ چھ گاڑیاں جلائیں۔ حیدر آباد میں ہڑتال کی اور بعض دوسرے شہروں میں فائرنگ اور توڑ پھوڑ کی گئی اور اسے عباس رضوی نے اپنا آئینی حق قرار دے دیا۔ احتجاج کا حق آئینی ہے اور حیدر عباس رضوی نے سندھ اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ طریقہ ہے اور آئینی ہے تو پھر بدھ کو کراچی اور سندھ میں جو ہوا وہ کیسے جمہوری اور آئینی ہو سکتا ہے؟ اور پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ اب اگر دوسری جماعتوں کے لوگ ملوث پائے گئے اور ان کی گرفتاریاں ہوئیں تووہ احتجاج نہیں کریں گے؟ اس سلسلے میں لیاری کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جہاں ماضی میں جب بھی پیپلز اس کمیٹی یا عزیز بلوچ خلاف کارروائی ہوئی تو کیسا کیسا احتجاج ہوا، کراچی میں امن کے لئے اگر سب جذبہ حب الوطنی کا اعلان کرتے ہیں تو ان کو برداشت سے بھی کام لینا ہو گا اور گرفتاریوں کے حوالے سے قانون کا راستہ اپنانا ہو گا اس سلسلے میں خود رینجرز اور پولیس کو بھی خواہ مخواہ کی بجائے ثبوتوں کی بناءپر کارروائی اور گرفتاری کرنا ہو گی اور قانون ہی کے مطابق ملزموں کو عدالتوں کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔

اب ذرا حالات ملا حظہ فرمائیں، متحدہ نے بہت زور سے کہا سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ اب قائد تحریک الطاف حسین کہتے ہیں نئے صوبے بنانے کے لیے بھی کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے۔ یہ تو واضح طور پر کراچی سمیت سندھ کے بعض دوسرے علاقوں کو شامل کر کے سندھ تقسیم کرنے کی بات ہے اور پھر یہ کل جماعتی کانفرنس سے کیسے حل ہو گا؟ اس لئے اسے کچھ اور ہی دامنی پہنائے جائیں گے۔ اور اب وہی محترم الطاف حسین اپنے کارکنوں کو خبردار کرتے اور کہتے ہیں 1992 والا آپریشن شروع ہونے والا ہے بدھ کو کراچی اور سندھ کے بعض دوسرے شہروں میں ہوا کیا یہ اسی خبرداری کا پر تو تو نہیں؟ دوسرے متحدہ والے اس بات پر کیوں چپ ہیں کہ سندھ میں حکومت پیپلزپارٹی کی اور وفاق میں مسلم لیگ ن برسراقتدار ہے۔ بلوچستان اور پنجاب کے گورنر تبدیل ہو گئے۔ خیبر پختون خوا میں یہ عمل ہونے والا ہے تو پھر سندھ میں تاحال متحدہ کے ڈاکٹر عشرت العباد اور کون سا لمبی مدت والاریکارڈ پیش کرنا چاہتے ہیں؟

ہمارے محترم ڈاکٹر طاہرالقادری پھر بولے، اور انہوں نے ایک اور نئے انقلاب کا نعرہ لگا دیا وہ کہتے ہیں ملک کے جتنے ڈویژن ہیں اتنے صوبے بنا دو، محترم طاہرالقادری کو معلوم ہوا کہ یہ تجویز بہت پرانی ہے جب تحریک استقلال ایک بڑی جماعت تھی تو میاں محمود علی قصوری نے آئینی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے جو رپورٹ تیار کی اس میں یہی مشورہ دیا گیا تھا یہ رپورٹ آج بھی ایر مارشل (ر) اصغر خان کے پاس محفوظ اور اخبارات کے صفحات میں مرقوم ہے دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ وقت ایسے شوشوں کا نہیں۔

مزید : تجزیہ