امریکی ڈرون حملوں کے خلاف متعدد ممالک نے پاکستانی مہم کی حمایت کردی

امریکی ڈرون حملوں کے خلاف متعدد ممالک نے پاکستانی مہم کی حمایت کردی
امریکی ڈرون حملوں کے خلاف متعدد ممالک نے پاکستانی مہم کی حمایت کردی

  

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان نے اپنے علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا کیس سفارتی سطح پر کرلیا ہے ، اس حوالے سے پوری دنیا میں پاکستانی سفارتخانوں اور ہائی کمشنر کو الرٹ کردیا گیا ہے اور پوری دنیا میں لابنگ شروع کردی گئی ہے، اس کے نتیجے میں اب تک متعدد ملکوں نے پاکستان کے موقف کی حمایت کردی ہے ۔ اس طرح کل جماعتی کانفرنس میں کیے گئے فیصلے پر پیشرفت ہوئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا اور حکومت کو کچھ علم نہیں کہ ڈرون طیارے حملے کرنے کے لیے کہاں سے اڑکرآتے ہیں ، حال ہی میں بعض افغان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد افغانستان میں مصالحت کے عمل کے لیے سہولت مہیا کرنا ہے جبکہ گوانتا موبے جیل میں موجود پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے امریکہ سے بات چیت جاری ہے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف سولہ سے اٹھارہ ستمبر تک ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے جبکہ ان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز آج جمعہ کو ترکمانستان کے دارالحکومت بشکیک میں بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ملاقات کریں گے ۔شام میں جاری بحران کے حوالے سے اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کے سفارتی حل کی توقع کرتا ہے وہاں لڑائی کے کسی بھی فریق کو کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرنے چاہئیں ، پاکستان شام میں یہ ہتھیار استعمال کیے جانے سے متعلق اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کررہا ہے۔

مزید : قومی