سوامی کی بدکلامی

سوامی کی بدکلامی
سوامی کی بدکلامی

  

ہندوؤں کے ہاں ’’سوامی‘‘ ایک مذہبی لقب اور منصب ہے، جس طرح ہمارے ہاں ’’سائیں‘‘ اور فقیر یا ولی ہوتا ہے، بھارت میں سوامیوں کی کمی نہیں ،مگر رام راجی بھارت کا ایک معروف اور جانا پہچانا سوامی بھی ہے جو سیاسی سوامی ہے، بڑا اور عمر رسیدہ سوامی ،جس کا نام ہے، سبرامینیم سوامی، جو مسٹر مودی کی پارٹی بی جے پی کا سوامی ہے، اس سوامی نے ایک بڑہانکی ہے ،بلکہ ڈینگ ماری ہے، جو ہم پاکستانیوں کے لئے بہت بڑی دھمکی ہے اور جس کا ذکر آپ نے بھی گزشتہ روز کے اخبارات میں پڑھا اور سنا ہو گا، سوامی کی اس سیاسی ڈینگ کا خلاصہ یہ ہے کہ رام راجی بھارت نے 1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے کئے تھے، مگر اب چار ٹکڑے کئے جائیں گے!

اس سے پہلے ڈھاکہ میں ہی جا کر مسٹر مودی نے بھی ایک ڈینگ ماری تھی جس کا مطلب یہی تھا کہ 1971ء میں ہم نے مکتی باہنی کے نام سے اپنے سپاہی بھیج کر اور بنگلہ دیش بنا کر پاکستان کے دو ٹکڑے کئے تھے، موصوف نے اپنا اگلا قدم ذکر نہیں کیا تھا ،مگر اس کے دل میں غالباً یہی کچھ تھا، جسے اب سوامی جی نے اگل دیا ہے۔ یہ برہمن بنیا کا پرانا فن ہے ،جسے عرف عام میں گیدڑ بھبھکی کہا جاتا ہے اور ہماری بد قسمی یہ ہے کہ ہم اسے سچ سمجھ کر سہم جاتے ہیں، بلکہ ڈر کر دبک جاتے ہیں، 1857ء کے المناک تھپڑ سے ایسے سہمے اور دبکے ہیں کہ سنبھلنے اور ہوش میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہے! برہمن بھی ہماری اس کمزوری کو جانتا اور مانتا ہے اس لئے ڈیڑھ دو سو سال سے ہم پریہی اسلحہ آزماتا چلا آتا ہے ،اگر اقبال اور قائداعظم یا ان کے ہمرنگ، وہم آواز چند ایک مسلمان نہ ہوتے تو ہم جہاں پر آج ہیں ۔شاید یہاں نظر بھی نہ آتے! یہ تو ان دو مومنانہ آوازوں کا ثمر ہے ،جن کا غیر متزلزل عزم تھا کہ پاکستان تو اب اللہ کی مرضی اور اس کا امر ہے جو پورا ہو کر ہی رہنا ہے ورنہ ولبھ بھائی پٹیل تو دھمکیاں دئیے چلا جا رہا تھا کہ پاکستان بننے کی صورت میں بنگال اور پنجاب تقسیم ہوں گے(جو اصولی طور پر نہیں ہونا تھے کہ مسلم اکثریت کے علاقے تھے!!) اور اس تقسیم سے مسلمانوں کا قتل عام ہو گا۔

پٹیل تو یہ بھی کہتا تھا کہ پاکستان بنا بھی تو چار دن سے زیادہ نہیں چلے گا۔۔۔(اسی لئے تو نسل پرست اور مغرور برہمن نے پاکستان کے اثاثے غصب کر لئے تھے اور گزشتہ ستر سال سے مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل کے انبار لگاتا جا رہا ہے)۔۔۔ مگر پاکستان اللہ کے فضل سے ایٹمی طاقت ہے اور رام راجی بھارت ماتا کے مقابل گھور رہا ہے۔۔۔(میرا اندازہ یہ ہے کہ ہمارے پر عزم دلیر اورسرگرم سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی رعب دار آنکھیں اور موچھیں ٹی وی پر دیکھ کر ہی یرک گیا ہے اور اس گیڈر بھبکی کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا ہے)۔۔۔ ورنہ اسے تو سابق چینی وزیراعظم چو این لائی کی یہ پیشین گوئی اچھی طرح یاد ہے کہ سقوط ڈھاکہ کہانی کا انجام نہیں، بلکہ آغاز ہے، یعنی اب بھارت کے نسل پرست اور مغرور برہمن کے مظالم سے تنگ آنے والے علاقے صدیوں کی برہمنی قید سے آزاد ہوں گے! اب ٹکڑے ہوں گے، بھارت ماتا کے جو سیکولر ازم اور جمہوریت کے فریب پر قائم ہے!

جہاں دوسرے مذاہب کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا انکار ہو، وہاں سیکولر ازم کہاں اور جہاں شہری طبقاتی لعنت میں جکڑے ہوئے ہوں، وہاں جمہوریت کیسی؟ ہندو برہمن انڈیا اور ہندوستان کو چھوڑ کر رام راجی بھارت ماتا قائم کرکے ہندو مت یا ہندوتوا کی بنیاد پر برصغیر کے تمام انسانوں کو جکڑنا چاہتا تھا اور جکڑنا چاہتا ہے، وہاں دوسرے مذاہب کے لئے جگہ کہاں! ہندو کی یہی بات ہے جو ہم دنیا کو بتانے اور سمجھانے میں کوتاہی کا شکار ہیں، جبکہ یہی مکار برہمن ہمیں اور ہمارے قائداعظمؒ کو فرقو،تنگ نظر اور مذہبی قرار دے کر دنیا کے ہر فورم پر بدنام کررہا ہے اور خود ’’سرخ رو‘‘ ہو رہا ہے، حالانکہ اصل مذہبی جنوبی اور تنگ نظر وہ خود ہے!! سوامی جی دنیا بھر میں مسلمان کو خطرناک آفت ثابت کرکے اور اس پر عالمی صہیونیت اور ہندو بنیا کا سودی سرمایہ پانی کی طرح بہاکر قائل کرنا چاہتے ہیں، مگر اب ایسے نہیں ہوگا، بلکہ اب ایسا نہیں ہوناچاہیے، کیونکہ سقوط ڈھاکہ کے لئے زمین ہموار کرنے کے لئے اندرا گاندھی نے دنیا بھرکے ’’بڑوں‘‘ سے لائسنس لے لیا تھا جو مودی کے لئے ناممکن ہے، حتیٰ کہ اس کا ’’بے تکلف دوست‘‘ باراک اوباما بھی نہیں دے گا!

مودی جس طرح خلیج میں مندر کی بنیاد رکھ کر عربوں کو ہند بنانے کا آرزو مند ہے، اسی طرح وہ دنیا بھر کا منہ چڑانے کے لئے ڈھاکہ گیا اور اعلان کیا کہ بھارت ماتا کے دھوتی سامراج نے فوجی طاقت سے بنگلہ دیش بنایا تھا اور اب ۔۔۔بقول سوامی بدکلامی۔۔۔ پاکستان کے صرف چار ٹکڑے مزید کرے گا، لیکن مودی اور سوامی کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اب ایسا نہیں کر سکیں گے، بلکہ اپنے کروالیں گے، قطع نظر ہماری خداداد ایٹمی طاقت کے ہمارے پاس ایک لاجواب بم بھی موجود ہیں اور یہ ہمارا جانباز اور سرفروش سپاہی ہے، جس کی قیادت جنرل راحیل شریف کررہا ہے، جس کے بھائی شبیر شریف شہید نشان حیدر اور عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کے ہاتھوں مار کھا کر تم جہنم رسید ہو چکے ہو اور یہ شہید اسلام میں بہادری کے شاندار ابواب رقم کر چکے ہیں۔۔۔لیکن ہماری سیاسی، فکری اور سفارتی قیادت کو جاگنا ہوگا اور دنیا کو جھنجھوڑ کر بتانا ہوگا کہ نسل پرست اور مغرور برہمن کے یہ ڈھنڈھورچی جنگ کا بگل کیوں بجا رہے ہیں؟ انہیں روکا جائے، انہیں لگام دی جائے، یہ بزدلی، خوف اور خفت میں کچھ بھی کر سکتے ہیں؟

مزید :

کالم -