سردار مہتاب احمد خان دوبارہ مشیر ہوابازی

سردار مہتاب احمد خان دوبارہ مشیر ہوابازی
 سردار مہتاب احمد خان دوبارہ مشیر ہوابازی

  

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی سردار مہتاب احمد خان کو وزیراعظم شا ہد خاقان عباسی نے پی آئی اے کی تنظیم نو اور پی آئی اے میں کرپشن کے خاتمے اور ائیر پورٹس کے نظام کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لئے اپنا مشیر مقرر کر دیا ہے ۔ سردار مہتاب نے ہمیشہ جو بھی عہدہ قبول کیا ہے، اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے، چاہے وہ خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ ہو یا گورنر کا عہدہ ۔

اپنے دورِ گورنری کے دوران بھی انہوں نے فاٹا سیکرٹریٹ میں بہت سی اصلاحات کیں، فاٹا میں امن ، ترقی و خوشحالی کے لئے انقلا بی اقدامات اٹھائے تھے تاہم بیوروکریسی ان کے راستے میں رکاوٹ رہی اورآخر کار انہوں نے گورنر شپ چھوڑ دی تاہم اس دوران انہوں نے باڑہ خیبر ایجنسی میں بند کارخانے دوبارہ کھلوا دیئے، جبکہ دور دراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کے لئے اصلاحات بھی کیں ۔فاٹا کے لئے پہلی یونیورسٹی درہ آدم خیل میں قائم کی اور باقاعدہ کلاسیں بھی شروع کیں ۔ وادی تیرا ہ کو قابل رسائی علاقہ بنانے اور وہا ں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ساڑھے 3ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی تھی۔

آئی ڈی پیز قلیل مدت میں اپنے علاقوں میں با عزت طور پر واپس بھیجے تھے۔اب سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی تنظیم نو سردا ر مہتاب کے حصے میں آئی ہے اور ایک بار پھر یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ پی آئی اے کو ماضی کی طرح ایک جدید ایئر لائن بنانے میں سردار مہتاب اپنا کردار ادا کریں گے ۔سول ایوی ایشن جو ایئر پورٹس کے تمام انتظامات کی ذمہ دار ہوتی ہے ایئر پورٹس پر سمگلنگ، ایڈہاک ازم اور افراتفری کو ٹھیک کرنے میں سردار مہتاب معاون ثابت ہوں گے ۔سول ایوی ایشن میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں، وہ دور ہونے کا امکان ہے، سردار مہتاب جب وزیراعلیٰ تھے، تو اس وقت سے لے کراب تک بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں، گڈ گورننس اور سخت اصولوں کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا بھی سامنا کرناپڑتا ہے، کیونکہ سردار مہتاب ہمیشہ انتہائی سخت انتظامات رکھنے میں مشہور ہیں اور رشتہ داروں سمیت دوستوں کی سفارشا ت بھی نہیں مانتے او ر جو کام میرٹ پر ہو اس کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے ایک بار پھر پی آئی اے جیسے ادارے کی تنظیم نو جو کئی حکومتوں میں بڑے تجربہ کار نہ کرسکے سردار مہتاب کے ذمے ڈال دیا ہے اور یہ امید ہے کہ سردار مہتاب اس میں تنظیم نو کر کے کرپشن کو نا صرف ختم کریں گے، بلکہ اس ادارے کو منافع بخش بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

ائیر پورٹس کو مسافروں کے لئے جدید سہولتوں سے آراستہ کریں گے، پی آئی اے پر عام آدمی کے اعتماد کو بحال کریں گے۔ سفارش، رشوت اور سیاسی اثر رسو خ کا خاتمہ کریں گے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پی آئی اے کو تباہ کر دیا تھا سیاسی بنیادوں پر ہزاروں لو گ بھرتی کئے، جس سے قومی ائیر لائن مالی خسارے کا شکار ہو گئی اور بد انتظامیوں کی وجہ سے پی آئی اے کی کارکردگی پر منفی اثرات پڑے تھے، لیکن سردار مہتاب احمد خا ن نے مشیر ہوابا زی بننے کے بعد پی آئی اے پر مالی بو جھ بننے والے ڈائریکٹروں کو فارغ کر دیا میرٹ اور شفافیت کے نظام کو نافذ کیا میر ٹ پر بھر تیوں کے لئے NTSنافذ کیا اب پی آئی اے اور سول ایوی ایشن میں میرٹ کی بنیا د پر قابل اور ذہین لوگ بھرتی ہو رہے ہیں۔ سردار مہتاب احمد خان کا دور بحیثیت گورنر خیبرپختونخوا گڈ گورننس کا دورتھا ۔فاٹاکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بھرتیوں میں رقوم کے استعمال کا خاتمہ کیا تھا۔سیاسی اثر رسوخ اور سفارش کے کلچر کو ختم کیا تھا اور میرٹ کی بنیا د پر نوجوانوں کو نوکریاں ملتی تھیں ۔بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ایک ارب کی خطیر رقم سے اخوت بلا سود قرضوں کی سکیم شروع کی تھی اور لوگوں کو باعزت روزگار کے لئے بلا سود 50ہزار تک قرضے کا اجراء شروع کیا تھا ۔

اسی طرح بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو فنی تعلیم کے تحت 10 ہزار نوجوانوں کو ہر سال مختلف ہنر سکھانے کا پروگرام شروع کیا تھا اور ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا تھااب تک 49ہزار نوجوانوں کو فنی تر بیت دی گئی ہے۔ لیویز فورس کی بھرتیاں پاکستان ٹیسٹنگ سروس اسلام آباد کے ذریعے کی جاتی تھیں اور اہل جوانوں کی لیویز فورس میں بھرتی ہوتی تھی ۔

فاٹا میں کینسر کے مریضوں کو مفت علاج معالجے کی فراہمی کے لئے ارنم ہسپتال پشاور سے معاہدہ کیا تھا اور کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا ۔قبائلی علاقوں میں کرپشن کے خاتمے کے لئے کرپٹ ٹھیکیداروں اور افسران کو جیل میں ڈالاتھا اور ان سے لوٹی ہوئی رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی تھیں ۔

میرٹ کی بنیاد پر ایماندار اور دیانتدار افسران کو فاٹا سیکرٹریٹ سمیت قبائلی ایجنسیوں میں تعینات کیا جاتا تھا۔بھاری رقوم اور سیاسی اثر رسوخ کے عوض پوسٹنگ ٹرانسفرکے کلچر کو ختم کیا تھا ۔حتیٰ کہ تبادلوں میں ایم این ایز و سینیٹرز ،لیگیوں رشتہ داروں اور بیٹوں کی سفارش بھی نہیں مانتے تھے۔ترقیاتی سکیمیں ترقی سے محروم علاقوں میں میرٹ کی بنیاد پر منظور کی جاتی تھیں۔پولیٹکل ایجنٹ ہر مہینے کھلی کچہری لگاتے تھے اور عوامی مسائل سنتے تھے۔غیور قبائلی عوام آج بھی سردار مہتاب کو گڈگورننس کی وجہ سے اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -