وزیراعظم کی خوش آئند یقین دہانی

وزیراعظم کی خوش آئند یقین دہانی

  

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت پرنٹ میڈیا کے موجودہ قانونی سٹرکچر میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کررہی اور نہ کوئی تجویز زیر غور ہے تاہم اگر کسی نئے قانون کی ضرورت یا موجودہ قانون میں ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو وہ اے پی این ایس،سی پی این ای، پی ایف یو جے اور دوسرے سٹیک ہولڈروں سے مشاورت کے بعد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی اور آئینِ پاکستان کے تحت آزادئ صحافت کو یقینی بنایا جائے گا،وزیراعظم نے یہ یقین دہانی آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس) کے سیکرٹری جنرل عمر مجیب شامی کو کروائی،جنہوں نے اُن کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کر کے اُن سے اِن اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت اخبارات کے اجراء کا موجودہ نظام بدل دیا جائے گا اور اخبار نکالنے کے لئے ’’ڈیکلریشن‘‘ کی بجائے ’’لائسنس‘‘ جاری کیا جائے گا ،جو ایک سال کے لئے ہو گا اور بعد میں ہر سال اس کی تجدید کرانا ہو گی، نئے قانون میں سرکاری افسروں کو اخبارات اور پریس کے دفاتر پر چھاپے مارنے کے وسیع اختیارات دینے کی بھی اطلاعات تھیں۔ سیکرٹری جنرل اے پی این ایس نے اس پر اپنی تشویش سے وزیراعظم کو آگاہ کیا،جس پر اُن کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون آئین کے آرٹیکل 19سے متصادم نہیں بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کی یقین دہانی اپنی جگہ خوش آئند ہے اور آزادئ صحافت کے ساتھ اُن کی کمٹمنٹ کا اعادہ کرتی ہے،تاہم اِس ضمن میں جو اطلاعات اب تک منظر عام پر آئی ہیں اُن سے اتنا اندازہ تو ضرور ہو جاتا ہے کہ اِس سلسلے میں بعض لوگ کوئی سرگرمی دکھا رہے تھے اور کوئی نہ کوئی متنازعہ مسودہ ضرور گردش کر رہا تھا، ممکن ہے وہ اپنے آپ کو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ثابت کرنے میں کوشاں ہوں،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وفاقی سیکرٹری اطلاعات کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت نہ پڑتی اور دو افسروں کو او ایس ڈی اور ایک کو معطل نہ کیا جاتا،تحقیقات کے لئے فیکٹ فائنڈنگ افسر کا تقرر بھی اِسی لئے عمل میں آیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ہو کیا رہا تھا اور کیوں ہو رہا تھا۔وزارتِ اطلاعات کے سیکرٹری کا یہ اقدام بھی قابلِ تحسین ہے۔

یہ انکشاف بھی اپنی جگہ تعجب خیز ہے کہ پرنٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے وزیر مملکت برائے اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب کے چار جعلی خط بھی تیار کئے گئے تھے، جن کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ حکومت اور پرنٹ میڈیا کے تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے،اب انہوں نے اس سارے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تو پتہ چل سکے گا کہ آخر جعلی خطوط کی تیاری کا کیا مقصد تھا؟ حکومت کی ایک اہم وزارت کے اندر جو اس کی کان اور آنکھیں ہے۔اگر اِس طرح کی کوئی پخت و پز ہو رہی تھی تو لازماً اِس کا کوئی ایسا جذبہ محرکہ بھی ہو گا جس سے کچھ مقاصد کاحاصل کرنا مقصود ہو،یہ ساری مشق آخر بلا مقصد اور بلا جواز تو نہیں ہو سکتی۔اگر اِس کا مقصد وزیر اطلاعات کے خلاف کوئی سازش تھی تو اسے بھی منظر عام پر آنا چاہئے۔امید ہے تحقیقات کے بعد یہ سب کچھ معلوم ہو سکے گا، فی الحال تو اطمینان کی بات یہ ہے کہ آزاد�ئ صحافت کے منافی سازش شروع ہی میں طشت ازبام ہو گئی ہے۔

پاکستان میں پرنٹ میڈیا نے مجموعی طور پر ہمیشہ ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے،اخبارات نہ کبھی مادر پدر آزادی کے طلب گار ہوئے ہیں اور نہ عملاً ایسا ممکن ہے، صحافت اگر آزادی کے ساتھ ذمے داری کا مظاہرہ کرے گی تو ہی پھلے پھولے گی،اِس وقت حکومت کو بجا طور پر الیکٹرانک میڈیا کے بعض حصوں سے شکایت ہو سکتی ہے جسے خود اخبارات اور عام ناظرین بھی محسوس کرتے ہیں،کیونکہ آزادئ اظہار کے نام پرجھوٹ اور فریب کی اشاعت تو کسی صورت نہیں ہونی چاہئے،لیکن اگر الیکٹرونک میڈیا کسی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کر رہا ہے تو اس کے لئے ریگولیٹری ادارہ بھی موجود ہے اور ملکی قوانین کے تحت بھی کارروائی ہو سکتی ہے مطبوعہ صحافت میں ادارتی چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط ہے الیکٹرونک میڈیا میں جس چیز کا بظاہر فقدان نظر آتا ہے اس لئے الیکٹرونک میڈیا کے تجربے کا انطباق پر نٹ میڈیا پر کرناویسے بھی قرین انصاف نہیں۔

اخبارات سے شکایات کے ازالے کے لئے اس وقت پریس کونسل آف پاکستان کا پلیٹ فارم موجود ہے،جس کسی کو بھی شکایت ہو وہ اس سے رجوع کر کے ریلیف حاصل کر سکتا ہے پھر مُلک میں ازا لۂ حیثیت عرفی کا قانون بھی ہے،جس کے تحت عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے البتہ اِس قانون کو اگر زیادہ موثر بنا دیا جائے تو حالات میں بڑی حد تک بہتری آ سکتی ہے، اور کسی نئے قانون کی ضرورت سے بے نیاز بھی ہوا جا سکتا ہے حکومت کو اگر کسی اخبار سے شکایت ہو تو اس کے لئے بھی بہت سے قانونی راستے کھلے ہیں اِس لئے کسی خصوصی قانون کی ضرورت تو بہرحال محسوس نہیں کی جا رہی تاہم وزیراعظم کا یہ کہنا صائب ہے کہ اگر حکومت کسی نئے قانون کی ضرورت محسوس کرے گی تو اخبارات اور صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی،وزیراعظم نے بروقت یہ یقین دہانی کرا کے شکوک و شبہات کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔

مزید :

اداریہ -