پارٹنر شپ کے تحت نئے ہسپتال بنانے کی حکومتی تجویز

پارٹنر شپ کے تحت نئے ہسپتال بنانے کی حکومتی تجویز

  

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لندن میں ہیلتھ روڈ شو کے موقع پر بتایا ہے کہ پنجاب حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت صوبے میں نئے ہسپتال بنائے گی۔ اہل ثروت اور تجربہ کار ڈاکٹر آگے آئیں، ملک کو پاکستانی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جو لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، انہیں کوئی رکاوٹ پریشان نہیں کرے گی، سرمایہ کاری اور شراکت داری کی نگرانی میں خود کروں گا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے یہ باتیں دکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے کی ہیں۔ صحت کے شعبے میں وزیر اعلیٰ پنجاب غریبوں اور مستحق افراد کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے گزشتہ چند برسوں میں اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایمر جنسی او روارڈوں کی حالت بہتر بناتے ہوئے ادویات کی فراہمی اور مہنگے آپریشنوں اور ٹیسٹوں کے معاملے میں غریب مریضوں کے لئے خصوصی رعائت کا سلسلہ شروع کیا گیا اس مقصد کے تحت صوبے میں صحت کے لئے بجٹ میں کافی اضافہ بھی کیا گیا۔مسئلہ یہ ہے کہ دہائیوں سے صحت کے شعبے کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ پینے کا صاف پانی، سیوریج سسٹم کی خرابی، ملاوٹ شدہ خوراک اور دیگر عوامل کے باعث مریضوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے صحت کے مسائل کو حل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ڈاکٹر دیہات اور پسماندہ علاقوں میں ڈیوٹی دینے کے لئے رضا مند نہیں ہوتے۔ پانچ چھ سال سے ڈاکٹروں کی تنظیموں کے وجود میں آنے سے ہسپتالوں میں آئے روز ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں۔ کبھی ڈاکٹر اپنے ملازمتی ڈھانچے کے حوالے سے مطالبات منوانے کے لئے ہڑتال کرتے ہیں تو کبھی اُن کا مریضوں یا انتظامیہ کے ذمے داران سے جھگڑے پر ڈیوٹی چھوڑ کر مریضوں اور حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ حال ہی میں تو دو دو ملازمتیں کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن ہو ا تو بھی داکٹروں نے ہڑتال کر دی گویا وہ یہ حق مانگ رہے تھے کہ انہیں ایک وقت میں دوسرکاری ملازمتیں کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ ان حالات میں اگر پارٹنر شپ کے تحت نئے ہسپتال بنائے جائیں تو ان مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور مریضوں کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے گی۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی اس پیشکش پر صاحب ثروت اور تجربہ کار ڈاکٹروں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ اس سسٹم کے تحت شعبہ صحت میں ترقی کے راستے کھل سکیں گے اور مستقبل میں بہتر علاج معالجے کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید :

اداریہ -