خوفناک آتشزدگی: اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے

خوفناک آتشزدگی: اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے

  

عوامی مرکز اسلام آباد میں خوفناک آتشزدگی سے ہونے والی تباہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع چھ منزلہ عمارت میں ہفتے کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھی، بتایا گیا ہے کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی۔ اس عمارت میں آگ بجھانے والے آلات زائد المیعاد اور ناکارہ تھے۔ تیزی سے آگ پھیلنے پر فائر بریگیڈ کو بلانا پڑا۔ تین منزلوں تک پھیلنے والی �آگ پر پہلے ایک گھنٹے میں قابو پا لیا گیا۔ اسی دوران تیز ہوا کی وجہ سے آگ دوبارہ بھڑکی اور تیزی سے پوری عمارت خوفناک شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ ریسکیو کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کی گاڑیوں نے بھی آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ چنانچہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس میں تمام دفاتر کا ریکارڈ بھی جل گیا۔ بتایا گیا ہے کہ عوامی مرکز میں وفاقی محتسب، سی پیک ایکسی لینس سنٹر، وزارت صنعت و پیداوار سمیت درجنوں اہم دفاتر قائم تھے۔ سب سے اہم ریکارڈ سی پیک کا ہے، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ آتشزدگی سے محفوظ رہا ہے۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں آگ کے پھیلنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ عمارت میں آگ بجھانے کے آلات ناکارہ تھے یہ بھی کہا گیا کہ آگ بجھانے کا کام تیزی سے نہیں ہوا۔ اس قسم کی محکمانہ تحقیقات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ تمام ٹیکنیکل اور ماہرانہ پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کی انکوائری کی جائے۔ اتنی اہم جگہ (ریڈ زون) غیر معمولی اہمیت کے حامل دفاتر اور ان کے ریکارڈ کو ایمرجنسی کی صورت میں بچانے کے لئے مناسب انتظامات کیوں نہیں کئے گئے اور اس کی ذمے داری کس محکمے یا ادارے پر عائد ہوتی ہے ان کے خلاف ایکشن لیا جانا ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں سازش کے تحت تو آگ نہیں لگائی گئی۔ اگرچہ سی پیک ریکارڈ کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس بارے میں بھی اعلیٰ حکام کو پوری ذے داری کے ساتھ وضاحتی بیان دینا چاہئے۔ جان بچانے کی کوشش میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی مالی امداد بھی ہونی چاہئے۔

مزید :

اداریہ -