کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 4(3)

کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 4(3)
 کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 4(3)

  

یہی کیفیت دنیا میں انسان کی بھی ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوصف اور تیری تمام مخلوقات میں شاہکار اور عظیم ہونے کے باوجود اتنا کمزور واقع ہوا ہے کہ دنیا میں پیش آنے والے مصائب و آلام کو برداشت ہی نہیں کرپاتا اور معمولی سی تکلیف سے گھبرا اٹھتا ہے۔

اسی تناظر میں علامہ اگلے مصرعہ میں سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے خدا! اب تو ہی بتا یہی ہے فصل بہاری؟ کیا اسی کو فصل بہار کہتے ہیں اور کیا یہی وہ خوش کن ہوا ہے جو گلشن کے لیے بہار کا پیغام لے کر آتی ہے۔

چوتھے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن

ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

اس شعر میں علامہ انسان کو ایک اکائی قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اے اللہ! میں گناہ گار ہوں، مجھ سے بڑی خطا سرزد ہوئی ہے جس کی وجہ سے میں غریب الدیار ہوں یعنی مجھے میرے وطن سے دیس نکالا مل چکا ہے۔ میرا وطن تو جنت تھا جہاں تو نے مجھے آزادی سے رہنے کا حکم دیا تھا۔قرآن کے الفاظ میں ہے:

ترجمہ:تم دونوں جنت میں آزادی سے رہو اور یہاں کی نعمتیں بلاروک ٹوک کھاؤ لیکن ایک بات کا احتیاط فرمایا:

اللہ کا حکم ہے کہ تم دونوں بس اس درخت کے قریب نہ پھٹکنا، اگر تم نے اس بات سے سرتابی کی اور حکم عدولی کر لی تو پھر تمہاری سزا یہ ہو گی کہ تمہیں یہاں یعنی جنت میں رہنے کی آزادی تم سے سلب کر لی جائے گی لیکن آدم یعنی انسان یہ پابندی نہ کر سکا۔ قرآن کے الفاظ میں :

’’فعصٰی آدم‘‘پس آدم سے نافرمانی سرزد ہوئی اور وہ بہک گیا۔

اس سارے واقعے کی تفصیل قرآن میں مختلف جگہوں پر ہے۔ علامہ اقبال نے اسی کو بنیاد بنا کر فرمایا:

قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن

ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

اے اللہ! مجھ سے قصور ہو گیا تھا جس کی پاداش میں مجھے اپنے مقام اصلی یعنی جنت سے دیس نکالا مل گیا لیکن اے اللہ! یہ بھی تو دیکھ کہ میں تو زمین پر آن رہا لیکن تیری قریب ترین مخلوق یعنی فرشتے بھی تو اس جنت کے اہل نہ ہوئے اور ان کی آبادی سے جنت آباد نہ ہو سکی کیونکہ ان کے اندر صفات ملکوتی تھیں، صفات انسانی نہ تھیں اور جنت تواسی مخلوق کا مقام ہے جس میں ملکوتی اور انسانی دونوں صفات موجود ہوں اور گناہ کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود گناہ سے بچ کر دکھائے اور رب کا مقرب بنے اس لیے اے رب! تیری جنت اسی وجہ سے اب تک ویران پڑی ہے۔

پانچویں شعر میں فرمایا:

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد

اے اللہ! یہ دنیا جس میں تو نے انسان کوجنت سے نکال کر یہاں بھیج دیا ہے یہ تو فانی ہے اس کی ہر چیز بے بنیاد ہے فنا ہونے والی ہے۔ قرآن نے کہا:

بھلا اس فانی جہان میں دنیا کی زندگی گزارنا کون پسند کرتا یہ تو انسان ہی ہے جو اس دنیا کے جوروستم برداشت کر رہا ہے اور مستقل طور پر یہ ظلم برداشت کیے چلا جا رہا ہے۔ ظلم و جور برداشت کرنا انسان کی سرشت بن چکی ہے اسی لیے یہ دنیا کا جہاں انسان کی اس صفت کو دعائیں دے رہا ہے کہ اسی صفت برداشت کی وجہ ہی سے یہ فانی جہاں آباد ہے۔

اسی کو اگلے شعر میں علامہ نے مزید واضح کیا، فرمایا:

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں

وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

انسان کی طبیعت خطر پسند ہے اور اپنی فطری خطر پسند طبیعت کا خوگر ہو چکا ہے۔ شیطان اور نفس اس کے دو دشمن ہیں۔یہ انسان ان دونوں کے درمیان اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ میں:

شیطان اور نفس امارہ دونوں انسان کے دشمن ہیں اور ہر وقت انسان کی گھات میں لگے ہوئے ہیں۔ انسان ان دونوں دشمنوں کے حملوں سے بچ کر اپنی زندگی گزارتا ہے تو اس کو اللہ کی طرف سے پھر نوید ملتی ہے:

اے انسان! اب تو نفس مطمئنہ کی حدود میں داخل ہو چکا ہے لہٰذا میں تجھ سے خوش ہوں لہٰذا اب تو اپنے مقام اصلی یعنی جنت میں خوشی خوشی داخل ہو جا۔

آخری شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں

انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

جنت ایک ایسا مقام ہے جو ترے قدسیوں (فرشتوں)کی آماجگاہ بن ہی نہیں سکتا۔ یہ تو اصلاً تیرے متقی انسانوں ہی کی آماجگاہ ہے ۔ بالا خروہی اس کو آباد کرے گا۔ مراد یہ کہ حصول تقویٰ ہی انسان کی اصل ہے۔یہی صفت اس کو جنت میں لے جائے گی۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -