پاکستان،پاکستانیوں کا ہے

پاکستان،پاکستانیوں کا ہے
پاکستان،پاکستانیوں کا ہے

  

ایک زمانہ تھا جب روس اندھے سرمایہ دارانہ نظام کو اپنے ویٹو کے ذریعے لگام ڈال دیا کرتا تھا لیکن جب امریکی فتوے نے روس کو کافر قرار دے دیا اور روس کے خلاف جہاد کا نعرہ بلند ہوا تو روس پسپا ہو گیا۔روس نے بھی کمیونزم کے کفر سے توبہ کر لی ہے۔اب سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل امریکہ کو دنیا بھر میں روکنے والا کوئی نہ رہا،پوری دنیا بے لگام سرمایے کے زیر نگین آگئی۔آج کی دنیا کے خدو خال واشنگٹن میں تشکیل دئیے جاتے ہیں۔

اس دنیا کے حسن وقبح کی تحسین کا حق دار اور تکذیب کا سزا وار امریکہ کو ٹھہرایا جاناٹھہر گیا۔۔۔یہ امریکہ کی دنیاہے جس میں مقبول عوامی قیادتوں کے تختے الٹ دئیے گئے۔ شاہ فیصل قتل ہوا،بھٹو پھانسی چڑھا،لبیا میں قذافی ذلت آمیز انجام تک پہنچا،عراق میں صدام ویلن بنا دیا گیا،مصر میں منتخب حکومت جیلوں اور عقوبت خانوں میں بے نشان ہو گئی۔مصر میں فوجی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد قبرستان کا سکوت چھا گیا۔پورا شام لاشوں سے اٹا کھنڈر بن چکا ہے۔

وہاں عام لوگ مر رہے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کاآغاز اس وقت ہوگیا جب افغانستان کے معدنیاتی ذخائر پر امریکہ اور روس کی لڑائی شروع ہو گئی ۔

یہ نظریاتی جنگ نہیں تھی۔ نہ اس میں کمیونزم کی پیش قدمی اولین وجہ تھی اور نہ ہی اسلام کو خطرہ درپیش تھا۔کہ امریکہ کی مدد سے جہاد کیا جانا لازم ہو گیا تھا ۔امریکہ اس علاقے میں برطانوی استعمار کے وارث اور جانشین کے طور پر Russo phobiaکی تاریخی جنگ کی وراثت کیلئے لڑنے آیا تھا۔ افغانستان کی تین جنگیں برطانیہ نے روس کے خلاف لڑی تھیں اور چوتھی طویل ترین جنگ کا آغاز 1979ء میں ہوا جس کا اختتام اس وقت تک نہیں ہو گاجب تک افغانستان کی دھرتی اپنا سینہ خالی نہیں کر دیتی۔خارجی کمپنیاں اپنا دامن افغان خزانوں سے بھر نہیں لیتیں۔افغانستان کے پہاڑ کھوکھلے نہیں ہو جاتے۔

رجائیت زندہ رہنے کا بہت بڑا سہارا ہے۔آئیے کچھ دیر کیلئے خوش فہمی میں کچھ دور تک سفر کریں۔آئیے فرض کریں کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان سے اکھاڑ پھینکی جا چکی ہے۔اگر دہشت گردی کا نام و نشان مٹا دیا جائے تو پھر امریکہ کا افغانستان میں رہنے کا جواز ختم ہو جائے گا۔امریکہ اور اس کے حواریوں کی سامراجی مجبوری ہے کہ وہ افغانستان میں ہی رہیں۔ان ’’ مہذب‘‘ قبضہ کاروں کے درونِ خانہ کچھ اور مقاصد ہیں۔جب تک یہ خفیہ مقاصد افغانستان سے پورے نہیں ہوتے،نیٹو طاقتیں افغانستان کو چھوڑ کر جا نہیں سکتیں۔یہی وجہ ہے کہ موجود افواج کے افغانستان سے اخراج کی امیدیں پوری نہیں ہو رہیں بلکہ مزید فوجی خفیہ طور پر افغانستان میں لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔دہشت گردی کا پالن ہار اب دھشت گردی کے خاتمے کی ذمہ داری دوسروں پر کس بنیاد پر ڈال رہا ہے؟

َِِاِدھر دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ دہشت گردی سے پاکستان کی ریاست کو عدم استحکام کا سامنا ہے۔امریکہ "ڈومور" کہے یا نہ کہے،امریکہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں مخلص ہو یا نہ ہو،امریکہ کے افغانستان میں سامراجی مفادات ہوں یا نہ ہوں۔۔۔پاکستان خود ،اپنے آپ ، اب مزید دہشت گردی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔یہی وجہ ہے کہ سول حکومت جب دہشت گرد ی سے نمٹنے میں ناکام ہوئی تو فوج کو دہشت گردی کے خلاف میدان میں اترنا پڑا۔اب پاکستان میں دہشت گرد جہادی نہیں رہے۔اب یہ فسادی عنصر ہے جو غیر ملکی سرپرستی سے سرگرم ہے۔اسی وجہ سے فوج نے اپنے آخری اور حتمی آپریشن کا نام ’’ردالفساد‘‘ رکھا۔ فوج نے قبائلی علاقوں میں چھاننی لگا دی ہے قبائلی علاقوں کا معاشرتی ماحول اور اُس کے معاشی خدو خال بدل کر رکھ دئے۔ فوج نے وزیرستان کو آبادی سے خالی کرا دیا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کااپنے محفوظ پہاڑی ٹھکانوں میں پناہ لینا ممکن نہیں رہا۔ انہیں بھاگ کریاتو افغانستان میں پناہ لینی تھی یا پاکستان کی آبادیوں میں منتشر ہو کر چھپنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پاکستان کی حالیہ مردم شماری کا کام بھی فوج کی معاونت سے انجام پایا،یہ مردم شماری بھی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ایک کوشش ہے۔

ٹرمپ کے حالیہ ریاض کانفرنس کے فرموادت اور امریکہ کی پالیسی کی تشریحات کی تفہیم بہت ضروری ہے۔ دہشت گردی کے شکار پاکستان کے بارے میں دھمکی آمیز گفتگو کے اہداف کا تعین ضروری ہے۔دہشتگردی کے ٹھکانے افغانستان میں منتقل ہو گئے ہیں۔دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئ افغانستان کی سیکیورٹی فورسز مؤثر نہ سہی ،امریکہ تو افغانستان میں موجود ہے۔ جدید ترین اسلحہ سے لیس نیٹو کی افواج کی موجودگی میں دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں کیسے آ جاتے ہیں اور ان کے آنے کے ثبوت موجود ہیں۔کلبھوشن کاتسلیمی بیان مستقبل کی نشاندہی کرتاہے۔

ٹیکنالوجی کی برتری میں امریکہ دنیا بھر میں تسلیم شدہ طاقت ہے۔دوسری عالمی جنگ میں جاپان پر قبضہ کرنے سے لے کر ویت نام ، ہیٹی ، مشرقی یورپ اور مشرقی وسطیٰ کے گوناگوں تجربات کے ساتھ امریکہ عرصہ دراز سے افغانستان جیسے پسماندہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف دن رات بر سر پیکار ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے تو پھر آج بھی دہشت گردوں کی مؤثرموجودگی کا کیا جواز ہے۔ نیٹو کے اتحادی اپنے بے پناہ وسائل کے ساتھ اگر ناکام ہو گئے تو اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ دہشت گردی کے آکٹوپس کے کئی سر ہیں۔ افغانستان میں حقیقی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ افغانستان کے حقیقی حکمران افغان وار لارڈز ہیں جن کے دہشت گردوں کے ساتھ ثقافتی ،مذہبی اور لسانی تعلقات ہیں جن کی وجہ سے درون خانہ دہشت گردی کی جڑیں پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے باہر پھیل گئ ہیں۔ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ دہشت گرد ی عالمی طاقتوں کا تخلیق کردہ عالمی مسئلہ ہے۔ کیونکہ دنیا کے وسائل پر قبضہ قائم رکھنے کیلئے کوئی بہانہ چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی آڑ لے کر شام، فلسطین، عراق، لیبیا، افغانستان اور پاکستان میں دخل اندازی ممکن ہو سکتی تھی اور ہوسکتی ہے۔ امریکہ کی اسلحہ ساز صنعت کو منڈیاں چاہئیں۔ اسلحہ کی خرید و فروخت تب ممکن ہو گی جب اسلحے کی مانگ ہو گی۔

امریکہ کی مجبوری ہے کہ اپنی صنعت کو فروغ دینے کیلے اسلحہ کی مانگ کو قائم رکھے، یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب دنیا حالت جنگ میں رہے۔اگر انہونی ہو جائے کہ دنیا میں مکمل امن قائم ہو جائے تو اسلحہ ساز معیشت والے ممالک کا دیوالیہ ہو جائے گا۔

یہاں ٹرمپ کے چہیتے بھارت کے کردار کا حوالہ دینا بے محل نہیں ہو گا۔بھارت کی افغانستان میں موجودگی، امریکی منصوبوں کی نشاندہی کرتی ہے۔بھارت پاک افغان کی سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے چنیدہ مقامات پر اڈے بنائے بیٹھا ہے۔افغانستان کی حکومت کے گاڈ فادر ۔۔۔ امریکہ۔۔۔ کی اجازت کے بغیر یہ اڈے قائم کرنا ممکن نہیں ۔یہ ممکن نہیں کہ امریکہ کے علم میں نہ ہو کہ ان اڈوں سے بھارت کی سرگرمیاں کس نوعیت کی ہیں یا امریکہ یہ نہ جانتا ہو کہ بھارت اُن اڈوں سے بلوچستان میں اور کراچی میں کیا خوفناک کارروائیاں کر رہا ہے۔جب ٹرمپ اپنا خوبصورت چہرہ بگاڑ بگاڑ کر پاکستان کو دہشت گردی کے ٹھکانے ختم کرنے کی ہدایات جاری کرتا ہے تو کیا وہ توقع کرتا ہے کہ دہشت گردی کے سانپ کی لکیر پر چلتے چلتے پاکستان امریکہ کی گود میں بیٹھے بھارت کی دھشت گردی کی پناہ گاہوں پر پاکستان سے حملہ کرانا چاہتا ہے۔خدانخواستہ اگر ٹرمپ کی یہی منشا ہے تو یہ دور رس نتائج کی حامل بین الاقوامی پیچیدگی پیدا کر دے گی۔

عارضی طور پر امریکہ کی جنگ پر منحصر معیشت کو عارضی فائدہ ہو جائے گا لیکن اس تباہ کن جنگی صورتحال کی جوابدہی امریکہ پر ہی عائد ہو گی۔ بھارت کی افغانستان میں دہشت گردی کی سرپرستی دراصل مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو بلوچستان کی شورش سے کھٹائی میں ڈالنے کی سازش ہے۔ بلوچستان کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر سودا بازی کا بچگانہ اورناقابل عمل منصوبہ متوازی قوت نہیں رکھتا۔یاد رکھیے کہ آزادی پر کبھی سودا نہیں ہو سکتا ۔یہ تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے۔

یہ عمل بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور بھارتی افواج کے خلاف کشمیر کی مقامی عوامی تحریکیں سرگرم عمل ہیں جبکہ بلوچستان پاکستان کا ایک ایسا آئینی صوبہ ہے جس کی بنیاد قومی معاہدے پر رکھی گئی ۔مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے درمیان کنٹرول لائن ہے جب کہ پاک افغان سرحد بین الاقوامی سر حد ہے ۔کشمیر پاکستان کے ساتھ ملحقہ مسلم علاقہ ہے جبکہ بلو چستان بھارت کے ساتھ ملحقہ نہیں ہے۔بھارت کا بلوچستان پر کوئی قانونی یا تاریخی دعویٰ بھی نہیں ہے۔اس پس منظر میں امریکہ کی زیر نگرانی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف بھارت کی ثبوت شدہ سازشیں امریکی ووٹر کو منفی پیغام دیں گی۔ٹرمپ پہلے بھی امریکی ووٹروں کے سامنے معذرت خواہانہ انداز میں ڈرامے کرنے پر مجبور ہے۔

پاک بھارت کشیدہ تعلقات میں امریکہ کی ایک فریق سے جانب دارانہ معاونت، پاکستان کی ریاست کو عدم استحکام میں ڈالنے کے مترداف ہے۔جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلا ف ورزی ہے اور پاکستان کو عالمی ضمیر کے سامنے حقِ دفاع دیتا ہے۔بلوچستان میں تشدد کے واقعات غربت یا پسماندگی کے باعث نہیں ہو رہے ۔نہ قبائلی وفاداری ،پاکستانی قوم پرستی کے خلاف صف آرا ہے ۔

غیر ملکی ایجنسیاں فرقہ واریت کو ہوا دے کر پوری امت کی تقسیم کا پروگرام بنا رہی ہیں۔ریاض کانفرنس میں ٹرمپ نے خود اپنی صدارتی تقریر میں اسلامی دنیا کو منقسم کرنے کا نقشہ کھینچا۔ دہشت گردوں کی فہرست پیش کرکے میزبانوں کا حق مہمانداری ادا کر دیا۔ٹرمپ نے ایران ،قطر ،شام،اور حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیا۔ریاض کانفرنس گواہ ہے کہ ٹرمپ نے داعش اور طالبان کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں سے نکا ل دیا ۔داعش اور طالبان دونوں ایک اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور روس کے خلاف امریکہ کے اتحادی بھی اسی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مسلمانوں کی فقہی اکثریت نے امریکی جہاد میں شرکت نہیں کی تھی اسی لیے فقہی اعتبار سے مسلمانوں کی اکثریت اس اقلیتی گروہ کے تشدد کا شکار بنی ۔ فرقہ واریت کی روشنی میں افغانستان کی جنگ ، ریاض کانفرنس کا اجتماع اور ٹرمپ کا پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔امریکہ ایک جنگ کی طرف دنیا کو دھکیل رہا ہے۔ایران ،چین،روس اور پاکستان کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ورنہ دنیا کی جنگ پرست معیشت دنیا پر جنگ مسلط کرنے کے در پے ہے۔

یہ دو تہذیبوں کا تصادم نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔یہ محض ٹیکنالوجی کی برتری کی بنیاد پر دنیا کے مدفون وسائل پر قبضہ کرنے کے سامراجی پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔جو بھی کسی بھی انسانی گروہ کی آزادی پر پابندیاں لگائے گا یا اس کی خودمختاری میں دخل اندازی کرے گا، یقیناًایسے محکوم بنائے جانے والے لوگ ضرور مزاحمت کریں گے۔یہ مزاحمت پوری دنیا میں شکلیں بدل بدل کر اپنا اظہار کر رہی ہے۔

دنیا کی بالا تر اقوام کو اس مزاحمت کے اسباب کو سمجھنا چاہیے۔چھوٹی اور کمزور ریاستوں کو اپنی ٹیکنالوجی کے بل پر اطاعت پر مجبور کرنا آخر کار ایسی دخیل طاقت کے خلاف کسی ردعمل کو تو ضرور پیدا کرے گا۔دہشت گردی جعلی اور خود ساختہ ہے۔دہشت گردی سامراج کا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔دہشت گردی خودمختار ممالک میں گھسنے کا بہانہ ہے اور پھر ان ممالک پر معاشی قبضہ کرنے کا حیلہ ہے۔جس طرح ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کو اس نعرے پر اُستوار کیا تھا کہ’’امریکہ ،امریکیوں کا ہے‘‘ اسی طرح امریکی بھی صرف امریکہ کے لئے ہیں۔ساری دنیا نے امریکیوں کواپنے وسائل سے پالنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔دنیا کے ہر ملک کو یہ بھی حق دیا جانا چاہیے کہ وہ کہہ سکے کہ ’’ شام شامیوں کا ہے‘‘۔

ایران ایرانیوں کا ہے‘‘ فلسطین ، فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل ، اسرائیلیوں کا ہے ’اور ’’پاکستان پاکستانیوں کا ہے‘‘گلوبلائزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ تمام دنیا کی ارضی معدنیات چند ترقی یافتہ ممالک کے حوالے کر دی جائیں ،ٹرمپ کا پاکستان کے نام حالیہ ہدایت نامہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نہیں ہے بلکہ افغانستان کے پہاڑوں کو خالی کر کے سپر طاقتوں کی نگاہ فاٹا اور بلوچستان کے خزانوں پر ہے۔ یاد رکھیں کہ جس طرح امریکہ ، امریکیوں کیلئے ہے اسی طرح پاکستا ن صرف پاکستانیوں کاہے۔

مزید :

کالم -