سترہ افراد کے اغواء پر حکومتی بے حسی کیوں؟

سترہ افراد کے اغواء پر حکومتی بے حسی کیوں؟

  

کیاہمارے پیارے واپس آئیں گے ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے جو ہمارے بچوں کو اغواء کر رہے ہیں کیا ہمارے بچے زندہ واپس آسکیں گے ۔یہ آہ و بکاہ آج لنڈی کوتل خیبر ایجنسی کے سترہ گھرانوں میں بپا ہے آپ کویاد ہو گا کہ عید الضحیٰ کے تیسرے دن لنڈی کوتل کے علاقہ عدل خاد کے سترہ دوستوں نے پکنک کا پروگرام بنایا اور لنڈی کوتل کے حدود میں پاک افغان سرحد کے قریب صحت افزا ء مقام انذری ناو کے بلند پہاڑی علاقے میں گئے جہاں قدرتی چشموں ساتھ ساتھ انجیر اور دوسرے لاتعداد درخت ہیں جہاں پہنچے کے بعد مذکورہ سترہ افراد لاپتہ ہو گئے جس کے متعلق اب مختلف قسم کی افواہیں گردش کر رہی ہیں بعض ذرائع اس خدشے کا اظہا ر کر رہے ہیں کہ مسلح گروپ مذکورہ افراد کو اغواء کرکے افغانستان لے گئے ہیں جس کی تصدیق اور بازیابی کیلئے لنڈی کوتل سے قبائلی عمائدین کا سات رکنی جرگہ افغانستان گیا ذرائع کے مطابق کہ جرگہ دو دن بعد واپس آگیا اور اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی اس تمام صورتحال میں حکومت کی طرف اس واقعہ پر خاموشی سے لنڈی کوتل کے عوام میں شدید تشویش پائی جا تی ہے مغوی افراد کے اہل خانہ شدید غم اور دکھ میں مبتلا ہیں ابھی تک مغوی افراد کے اہل خانہ سے نہ تو پولیٹیکل ایجنٹ اور نہ منتخب ممبر قومی اسمبلی سمیت سینٹریاسیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے داد رسی کی ہے تمام مغویوں کا تعلق شنواری خوگہ خیل قوم سے ہیں جسمیں ایک مغوی شفیع اللہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور گھر کا واحد کفیل ہے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر علامہ نورالحق قادری نے کہا کہ لنڈیکوتل سے اغواء ہونے والے سترہ افراد کو اغواء ہوئے آٹھ دن گزر گئے ہیں لیکن تک حکومت کے کسی نمائندے نے کوئی بیان جاری نہیں کیاانہوں نے کہا کہ لنڈیکوتل میں امن اومان کی صورتحال بہت بہتر ہو گئی تھی اور لنڈیکوتل کے عوام بلا خوف گھومتے پھرتے تھے لیکن سترہ افراد کی اغواء کے بعد لوگوں بے چینی پھیل گئی ہے نورالحق قادری نے کہا کہ مغویوں کے اہل خانہ شدید غم اور تکالیف سے دو چار ہیں اس لئے حکومت کے اعلی حکام اور پولیٹیکل ایجنٹ کو چاہئے کہ انکی داد رسی کی جائے ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل کے سیکرٹری عدنان نے بتا یا کہ ایم این اے افغان قونسلر کے ساتھ جلد ہی ملاقات کرکے اس مسئلے کا حل نکالیں گے۔ جمعیت علماء اسلام فاٹاکے جنرل سیکرٹری مفتی اعجاز شنواری نے بتا یا کہ حکومت کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ معلوم کریں کہ مغوی کس کے پا س ہیں انہوں نے کہا کہ اتنے چیک پوسٹوں کے باجود سترہ افراد کی اغواء ہونا انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کی ناکا می ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ مغویوں کے اہل خانہ سے ملنے انکے گھر جائیں اور انکی داد ررسی کی جائے کیونکہ مغویو ں کی اہل خانہ اس وقت سخت مشکل اور پر یشانی میں مبتلا ہیں لنڈیکوتل کے زیادہ تر لوگ چھٹیوں کے دن پہاڑوں میں پکنک پوائنٹ پر اور صحت افزا مقام کی طرف سیر واتفریح اور پکنک منانے کیلئے جا تے ہیں لیکن اس اغواء کے بعد لوگوں میں خوف وہراس پایا جاتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -