وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ اٹھائیں

وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ اٹھائیں

  

راولپنڈی اسلام آباد میں بھی مذہبی و سیاسی جماعتوں اورسول سوسائٹی نے برما کے مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کیا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج کی طرف سے جاری مظالم کیخلاف بڑی بڑی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ،اسلا م آباد میں ریڈ زون کو سیل کردیاگیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، وزارت خارجہ نے برما کے پاکستان میں سفیر کو بلا کر شدید احتجاج بھی کیاہے اس کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی و سینیٹ کے جاری اجلاس میں بھی روہنگیا مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کیا گیا،قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے میانمارمیں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی ذمہ دار برما کی وزیر اعظم آنگ سان سوچی سے امن کا نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا،اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ پورا ملک روہنگیا مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کر رہا ہے، سب کے جذبات یکساں ہیں، آج یہ مسئلہ انسانیت کا مسئلہ بن گیا ہے، انسانیت اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی زبانیں گنگ ہو گئی ہیں، نوبل امن ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیت اس ظلم کی سرپرستی کر رہی ہے، یہ نسل کشی امن کیلئے خطرہ ہے اور مہاجرین کو نہایت ناگفتہ بہ حالات کا سامنا ہے، اس پہ دنیا چپ ہے، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو اس پر ایکشن لینا چاہیے، وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی خطاب میں سب سے پہلے روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ اٹھائیں۔

جے یو آئی (ف) کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور خان نے تحریک التواء کو حکومتی درخواست پر تحریک کے طور پر پیش گیا، قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ نے بھی برما میں مسلمانوں کی وسیع پیمانے پرانسانی حقوق کی پامالی کا اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی اور بے حسی پر سینٹ نے گہری تشویش ظاہر کی ، برما کی حکومت، فوج اور عسکریت پسندوں کے مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد کو سینٹ میں اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا، قرارداد قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے پیش کی تھی، حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیاکہ اس درندگی اور وحشت کو رکوانے کے لئے فوری طور پر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے رابطہ کیا جائے، ،سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق نے برما سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے،حکومت پاکستان سے مسلمانوں پر جاری مظالم پر واضح موقف اپنانے ،متاثرین کو ضروری سامان اور کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی اور میڈیکل کیمپس لگانے کی سفارش کی گئی۔ کمیٹی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میانمر حکومت کے ساتھ اس معاملے پر جلد رابطہ کرے،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سینیٹ کو برما میں روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے حوالے سے پاکستان کی واضح پالیسی بارے آگاہ کریں۔

سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں متعدد قراردادیں اتفاق رائے سے منظورکرلی گئیں اس کے ساتھ ساتھ سینیٹ میں وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی نا اہلی کی صورت میں نئے مرکزی و صوبائی قائد ایوان کے انتخابات تک متبادل نظام حکومت کیلئے آئینی ترمیم متعارف کروا دی گئی، بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے انتخابی قانون کے بل پر رپورٹ کی تیاری کیلئے میعاد میں مزید سات ایام کار کی توسیع کرنے کی تحریک پیش کی، تحریک کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا، آزاد سینیٹر محسن خان لغاری نے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی نا اہلی کی صورت میں عارضی متبادل نظام حکومت کیلئے آئین میں دو الگ الگ ترامیم کے بلز پیش کئے، جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، ہیلتھ ورکرز کے تحفظ کے اہتمام کے بل کی قومی اسمبلی سے 90دنوں میں منظور نہ ہونے پر اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کی تحریک سینیٹر عائشہ رضا نے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

جماعت اسلامی کے زیراہتمام احتساب مارچ پیر کے روز راولپنڈی مری روڈ پر پہنچا جس سے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق خطاب کیا انکا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا حقیقی احتساب تب ہو گا جب کرپشن کا لوٹا ہوا پیسہ قومی خزانے میں واپس آئے گا ، نواز شریف کی نااہلی سے مطمئن نہیں ہوں، ابھی کرپشن کے سینکڑوں سومنات باقی ہیں انہیں پاش پاش کریں گے ۔ کرپشن ختم کر کے ملک میں مفت تعلیم اور مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں، پاکستان کو کرپٹ مافیا اور ڈرگ مافیا نے یرغمال بنا یا ہوا ہے نیب کے میگا سکینڈل کے 150 مقدمات موجود ہیں نیب احتساب نہیں کر سکتا تو نیب کے دفتر کو تالا لگا دیں ، امریکہ نے ہر مصیبت کے وقت میں ہمارے دشمنوں کا ساتھ دیا ،انہوں نے برما کے سفارتخانے کو بنداوران کے سفیر کو ملک بدر کرنے کامطالبہ بھی کیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -