انتخابی گہما گہمی کے ساتھ کرکٹ میلے کی رونقیں

انتخابی گہما گہمی کے ساتھ کرکٹ میلے کی رونقیں

  

ان دنوں لاہوریوں کی ڈبل موجیں ہیں۔ ایک طرف حلقہ این اے 120 میں انتخابی گہما گہمی عروج کو پہنچ رہی ہے تو دوسری جانب کرکٹ میلے کی رونقیں دیدنی ہیں۔ ورلڈ الیون کی مضبوط ٹیم کے ساتھ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے مقابلے قذافی سٹیڈیم میں شروع ہو چکے ہیں۔ زندہ دلانِ لاہور کو انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی مبارک ہو۔ لاہوریے روائتی جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کئی روز تک ٹکٹوں کی خریداری کے لئے تگ و دو اور بے چینی سے ان کے بے پناہ جذبے اور خوشی کے اظہار کا ثبوت ملتا رہا۔ جہاں تک سیاسی سرگرمیوں کی بات ہے۔ سینئر ترین تجزیہ نگار اور پرانے بابے یہ کہتے ہیں کہ 1970ء کے الیکشن کی یاد تازہ ہو رہی ہے حلقہ بہت بڑا ہے تواس کے امیدواروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ تاہم بھرپور کمپین اور پوری سنجیدگی سے الیکشن لڑنے والوں کی تعداد اتنی ہی ہے، جو عموماً ہوا کرتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کانٹے دار الیکشن ہوگا۔ گلی، محلوں اور سڑکوں کی صورت حال دیکھتے ہوئے یہ بات درست لگتی ہے انتخابی سرگرمیاں شام ہوتے ہی شروع ہوتی ہیں اور رات گئے تک ڈور ٹو ڈور کمپین سے لے کر انتخابی دفاتر میں اُونچی آواز میں ڈیک لگا کر اپنی اپنی پارٹی کا پیغام سنوایا جاتا ہے اور ڈاکو مینٹریز کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ مقابلہ ون ٹو ون کی بجائے ون، ٹو، تھری والا ہوگا۔ محترمہ کلثوم نواز کی انتخابی مہم ان کی صاحبزادی مریم نواز بھرپور انداز میں چلا رہی ہیں روزانہ تین چار گھنٹے ریلی اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مرکزی دفتر موہنی روڈ پر بنایا گیا ہے، جہاں سے ڈور ٹو ڈور ٹیمیں روانہ ہوتی ہیں۔ ریلیوں کی رونق بڑھائی جاتی ہے بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کا کام مکمل کرنے کے بعد دوسرے مرحلے کا کام تمام فنی تقاضوں کے مطابق شروع ہو چکا ہے۔ ووٹ نمبر اور پولنگ اسٹیشن کی نشاندہی والی پرچیاں تیار ہو رہی ہیں۔ حلقے میں کل 520 پولنگ بوتھ ہیں جبکہ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 220 ہے۔ یہاں پر کلثوم نواز کے پولنگ ایجنٹوں کی فہرستوں کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔ الیکشن مہم کے بعد سب سے اہم کام یہی ہوتا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے ایسا ہوم ورک برائے نام کیا تھا اور وہ شکست کھا گئے تھے۔ فی الحال تو ایسی تیاریوں کے بارے میں یاسمین راشد کے کیمپ سے کوئی اطلاع نہیں، ممکن ہے آخری ایک دو روز میں اس جانب کوئی توجہ دی جائے۔

یاسمین راشد اور فیصل میر فی الحال ڈور ٹو ڈور کمپین اور کارنر میٹنگز پر زور دے رہے ہیں۔ عمران خاں نے قرطبہ چوک مزنگ میں پچھلے ہفتے جلسہ کیا تھا تو انہیں حاضری دیکھ کر مایوسی ہوئی تھی۔ لندن جانے سے پہلے انہوں ن ے جہانگیر ترین، چودھری سرور، عبدالعلیم خان، محمود الرشید اور دیگر رہنماؤں کو حلقے میں تیزی سے کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے (ن) لیگ کی مخالف سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کر کے انہیں پی ٹی آئی کی مہم میں شامل کرنے کے لئے کہا گیا۔ اس پر کچھ ہلچل ہوئی ہے۔ چودھری برادران نے سینئر رہنما کامل علی آغا کی قیادت میں تین رکنی ٹیم کو کمپین کے لئے نامزد کیا ہے۔ باقی جماعتوں نے بھی اچھا رسپانس دیا ہے۔ چودھریوں نے پی ٹی آئی کی ٹیم (چودھری سرور، محمود الرشید) سے شکوہ کیا کہ جن لوگوں کو آپ سے تعاون کے لئے نامزد کیا جاتا ہے، آپ کی طرف سے ان میں سے بعض لوگوں کو (ق) لیگ میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس پر پی ٹی آئی رہنما وضاحتیں کرتے رہے۔ یہ بات واضح ہے کہ عمران خان کو یاسمین راشد کے لئے سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چودھری اعجاز نے جب وہ پنجاب تنظیم کے صدر تھے تو بہت زیادہ تنظیمی کام کیا تھا۔ اس حوالے سے ان کی سپیشل ڈیوٹی ڈور ٹو ڈور کمپین کے لئے یاسمین راشد کے ساتھ لگائی گئی ہے، جس کا فائدہ ہو رہا ہے لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ تقریبات وغیرہ میں اعجاز چودھری کا نام اور تصویر غائب ہوتی ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قیادت کی طرف سے میڈیا ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے۔ اعجاز چودھری جس طرح کمپین کر رہے ہیں اور چینلز پر بھی بھرپور انداز میں پارٹی موقف پیش کر رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے ان کو پیچھے نہیں دھکیلنا چاہئے۔ عمران خان لندن سے واپس آ کر خود انتخابی مہم کی نگرانی کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، دیکھئے، کیا فائدہ ہوتا ہے یاسمین راشد حلقے کے 29 ہزار ووٹوں کے نشان انگوٹھا سے بائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے کے معاملے پر شور مچاتی رہی ہیں ان کی ہاں میں ہاں فیصل میر نے بھی ملائی یاسمین راشد اپنے اعلان کے مطابق فی الحال یہ معاملہ عدالت میں لے کر نہیں گئی ہیں۔ اس معاملے پر الیکشن رزلٹ کے بعد ’’پھڈا‘‘ پڑنے کا امکان ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کی تسلی کروا دی جائے۔

جہاں تک پی پی پی کے امیدوار فیصل میر کی کمپین کا تعلق ہے وہ ذاتی طور پر اپنے دوستوں اور حامیوں کے ساتھ سرگرم ہیں۔ ثمینہ گھرکی، عزیز الرحمن چن اور دیگر ان کی مدد کے لئے کئی اجلاس منعقد کر چکے ہیں۔ دیکھئے آگے چل کر وہ اپنی مہم کس طرح تیز کرتے ہیں جماعت اسلامی نے اپنے امیدوار ضیاء الدین کے لئے اس ہفتے سرگرمیاں تیز کی ہیں حافظ سلمان بٹ، امیر العظیم ذکر اللہ مجاہد اور دیگر رہنما ان کے لئے کام کر رہے ہیں۔ امیر جماعت سراج الحق نے رہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر احتجاج موثر انداز میں کیا ہے۔ لاہور میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ تاہم ہمیشہ کی طرح کراچی میں ریلی دیگر تمام جماعتوں سیاسی اور دینی جماعتوں کے بھرپور تعاون سے بہت بڑی اور متاثر کن تھی۔ سراج الحق نے پروگرام کے مطابق لاہور سے راولپنڈی تک احتساب مارچ بھی کامیابی سے کیا۔ داتا دربار سے خصوصی دعا کے ساتھ شروع ہونے والا مارچ پروگرام کے مطابق بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس احتساب مارچ کی رونق سے بھی ان کے امیدوار ضیاء الدین کو فائدہ پہنچا یوں جماعت اسلامی نے دہرا فائدہ اٹھایا۔

اس ہفتے انٹرا پارٹی الیکشن کے لئے جمعیتہ العلمائے پاکستان (نورانی) کا دو روزہ میلہ جامع تعلیم القرآن واقع مغل پورہ میں ہوا۔ چیئرمین الیکشن بورڈ پیر میاں عبدالخالق بھرچونڈی شریف نے اپنی ٹیم کے ساتھ انتخابات کرائے۔ پیر اعجاز ہاشمی کو دوبارہ مرکزی صدر منتخب کیا گیا جبکہ محمد اویس نورانی سیکرٹری جنرل چنے گئے۔ سینئر نائب صدر کے لئے صاحبزادہ قاری احمد میاں کو منتخب کیا گیا۔ پیر اعجاز ہاشمی نے مولانا نورانی (مرحوم و مغفور) کے بیٹے شاہ اویس نورانی کو اپنے ساتھ رکھا ہواہے۔ چاروں صوبوں سے منتخب صدور اور جنرل سیکرٹری صاحبان کے علاوہ شوریٰ کے دو سو ارکان نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا۔ انتخابات کے بعد پیر اعجاز ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگلے مہینے رابطہ عوام مہم شروع کی جائے گی۔ جے یو پی آئندہ الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ایک خاندان کا نہیں، تمام کرپٹ لوگوں کا احتساب کیا جائے ملک دشمن قوتوں کو ناکام بنانے کے لئے قومی یکجہتی کا ثبوت دیا جائے۔ الطاف حسین کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لاکر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -