برما کے مسلمانوں کے حق میں عظیم الشان ریلی بڑا کارنامہ ہے

برما کے مسلمانوں کے حق میں عظیم الشان ریلی بڑا کارنامہ ہے

  

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی برما کے مظلوم ومقہور روہنگیا مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں کراچی میں اتوار 10 ستمبر کو جماعت اسلامی کراچی نے مزار قائد اعظم تا تبت سنٹر ’’سپورٹ روہنگیا مارچ‘‘ کا اہتمام کیا تھا جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس ریلی کی حمایت و تائید اور شرکت کی اپیل کرنے والوں میں تمام مسالک کے جید علماء کرام شامل تھے جن میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ دارالعلوم کورنگی کے مہتمم مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی منیب الرحمان، شیعہ عالم علامہ ناظر عباس نقوی، جامعہ نعیمیہ کراچی کے مفتی جمیل احمد نعیمی جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر جامعہ احسن العلوم گلشن اقبال کے مہتمم مفتی زر ولی خاں جمعیت غربائے اہلحدیث کے رہنما علامہ حافظ محمد سلفی اور جامعہ اشرف المدارس کے مہتمم مولانا حکیم مظہر سمیت مرکزی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی سمیت تحریک انصاف جمعیت العلمائے اسلام (ف) جمعیت العلمائے پاکستان، مسلم لیگ (ق) مسلم لیگ (ف) ملی مسلم لیگ، جمعیت الحدیث، صدر کراچی بار نعیم قریشی اور دیگر تاجروں اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شامل تھیں۔

اس احتجاجی ریلی میں شرکاء کی تعداد حالیہ برسوں میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور پر جوش تھی۔ جو اس امر کی غماز ہے کہ یہ ریلی محض جماعت اسلامی کے کارکنوں کی نہیں تھی بلکہ یہ ان سب لوگوں کی تھی جو ’’روہنگیا مسلمانوں‘‘ کی نسل کشی کے خلاف دنیا کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے اس ریلی میں برما کے مسلمانوں کی امداد کے لئے بھی شرکاء نے عطیات دیئے۔ کراچی بار کے صدر نعیم قریشی نے کراچی بار کی طرف سے سوا لاکھ روپے کا چیک دیا۔ جبکہ انجمن ارائیاں کے رہنما عبدالسلام ارائیں نے دس لاکھ روپے کا چیک عطیہ میں دیا۔ ریلی میں ’’عطیات بکس‘‘ میں بھی بڑی تعداد میں فنڈ ڈالے گئے۔ جسکے بارے میں جماعت اسلامی کراچی کے سکریٹری اطلاعات جناب زاہد عسکری نے بتایا کہ ان ’’عطیات بکس‘‘ میں شہریوں نے کروڑوں روپے کے عطیات دیئے ہیں جو ترکی کی ایک فلاحی تنظیم کے تعاون سے روہنگیا مسلمانوں کے لئے امدادی سامان کی صورت میں برما اور بنگلہ دیش پہنچایا جائے گا۔ زاہد عسکری نے یہ بھی بتایا کہ جماعت اسلامی کے (شعبہ خدمت خلق) الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر عبدالشکور ترک حکومت کے تعاون سے برما کا ویزا حاصل کر کے اس وقت برما اور بنگلہ دیش میں داخل ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’سپورٹ روہنگیا مارچ‘‘ میں جمع ہونے والے فنڈ سے امدادی سامان وہاں پہنچانے کے انتظامات کریں گے ’’الخدمت فاؤنڈیشن‘‘ نے ترک فلاحی تنظیم کے اشتراک سے وہاں امدادی کام شروع کیا ہے۔ اس سپورٹ روہنگیا مارچ میں پاکستان کی غیر مسلم کمیونٹی بھی شریک ہوئی اور روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لئے عطیات بھی جمع کرائے، عطیات جمع کرانے والوں میں سکھ برادری کے کرن سنگھ بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے پچاس ہزار روپے کا عطیہ جمع کرایا۔ کراچی کے شہریوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے کسی سیاسی و مذہبی عصبیت کو اس میں آڑے نہیں آنے دیا یہی اس ’’شہر قائد‘‘ کا ماضی میں امتیاز رہا ہے۔ جو ایک بار پھر اپنی پرانی شناخت کی طرف پلٹ رہا ہے۔ اس ریلی کی تائید و حمایت کرنے والوں نے اپنی سیاسی و مذہبی اور زبان و نسل اور مسلکی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر کی ہے اس کا کریڈٹ جواں ہمت امیر انجینئر حافظ نعیم اور جماعت اسلامی کی مقامی قیادت کو جاتا ہے جنہوں نے بڑی تندہی سے کام کر کے اس مشترکہ شو کو کامیاب بنانے کی کوشش کی اور اس کی تائید و حمایت کی اپیل کرنے کی درخواست لے کر ہر سیاسی و مذہبی جماعت کی قیادتوں کے پاس گئے اور جید علماء کرام کی طرف سے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے عوام سے شرکت کی اپیل کی گئی۔ کاش سندھ کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کی طرح ایم کیو ایم بھی اسکی حمایت کرتی جو سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اور جس کے پاس سندھ کے شہری علاقوں کی پارلیمینٹ میں نمائندگی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان، روہنگیا مسلمانوں کے حق میں نکلنے والی احتجاجی ریلی کی حمایت و تائید چاہے نہ کرتی۔ یہ ان کا حق ہے مگر حقیقت سے بعید بیان دیکر مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی تو نہ کرتی۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے غیر ضروری بیان کو اردو بولنے والی کمیونٹی کے سنجیدہ اور ذی فہم وہ حلقے بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں جو سندھ کے مخصوص سیاسی پس منظر میں ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں الطاف حسین سے اظہار لاتعلقی کے بعد ان کے بہی خواہوں میں شمار ہوتے ہیں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے انسانیت سوز مظالم اور نسل کشی کا موازنہ سندھ میں آباد شہری علاقوں کے ساتھ سلوک کوایک طرح کا سلوک قرار دینا ڈاکٹر فاروق ستار کا ایم کیو ایم پر خودکش حملہ کرنا ہے جس کے منفی اثرات سے بچاؤ کا واحد راستہ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس کوئی اور نہیں ہے کہ وہ بھی اپنا اور اپنی قیادت کا بے رحمانہ محاسبہ کریں۔ ایم کیو ایم پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے۔ سندھ میں اگر اردو بولنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک ہی ہوتا ہے۔زیادہ واقعات اس وقت ہوئے جب ایم کیو ایم وفاقی حکومت اور سندھ حکومت میں بااختیار تھی۔ کراچی میں پونے تین سو بے گناہ نہتے مزدوروں کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں مالک کے بھتہ نہ دینیپر آگ لگا کر زندہ جلانے کا الزام ان کی پارٹی کے ذمہ داروں پر لگا ہے۔ پانچ سال اس واقعہ کو ہوگئے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار کے اس بیان کا محاسبہ نہ کیا گیا تو یہ کہا جائیگا کہ ان کا اپنے سابق قائد الطاف حسین سے اظہار لاتعلقی محض اپنے وجود کو برقرار رکھنے کا ایک حربہ ہے۔ ان سے الگ ہونے والے ان کے بعض پرانے ساتھی تو یہ پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اسی طرح کا ایک عارضی بندوبست ہے۔ جس طرح کا 1992ء کے فوجی آپریشن کے بعد الطاف حسین نے قیادت سے الگ ہونے کا اعلان کرکے کیا تھا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ اس الزام میں کوئی حقیقت ہے یا نہیں بنیادی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کا برما کے مسلمانوں اور سندھ میں آباد بولنے والوں کے مسائل کا موازنہ درست نہیں۔ جس میں کوئی صداقت نہیں ہے ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہونے والے مہاجروں کو پاکستان میں آئینی پاکستان میں رہنے کے تمام حقوق حاصل ہیں۔ یہاں اردو بولنے والی کمیونٹی کو درپیش سیاسی اور انتظامی مسائل کا کوئی موازنہ برماکے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے انسانیت سوز اور نسل کشی کے واقعات سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس نامہ نگار کا تعلق اردو بولنے والے ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہونے والے خاندان سے ہے۔ میری والدہ محترمہ کے نوکزن ان کی آنکھوں کے سامنے پاکستان آتے وقت قتل ہوئے تھے، مگر میری والدہ آخری سانس تک پاکستان کو مسلمانوں کے لئے عطیہ خداوندی قرار دیتی رہیں۔ میں اگرچہ خود مہاجر نہیں ہوں، کیونکہ میں پاکستان میں پیدا ہوا۔ مگر مہاجر ماں باپ کی اولاد تو ہوں، مجھے پاکستان میں وہ تمام حقوق حاصل ہیں، جو کسی بھی شہری کو اس سرزمینپاکستان نے دیئے ہیں، سندھ میں اردو بولنے والی کمیونٹی کے ساتھ بعض معاملات میں جو امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، وہ صرف اردو بولنے والوں کے ساتھ ہی نہیں، سندھ کے تمام شہری علاقوں کے ساتھ ہے۔ جس کا سبب یہاں برسر اقتدار سول اور فوجی حکمرانوں کی سیاسی ضرورتوں کو اہمیت دینا ہے اور ایم کیو ایم میں سب برابر کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ وہ تین عشروں سے سول اور فوجی حکومتوں میں شریک اقتداررہی ہے۔ مورخ ایم کیو ایم کے اس کردار کو فراموش نہیں کرے گا۔ سندھ کی سیاست کا المیہ مسائل درمسائل سیاست ہے، جس سے نجات ضروری ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -