آزادی کپ،با اثر تماشائی اپنی من مانی کرتے رہے

آزادی کپ،با اثر تماشائی اپنی من مانی کرتے رہے

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کے لئے ضابطہ اخلاق تو جاری کردیا گیا تھا لیکن اس ضابطہ اخلاق پر عمل در آمد صرف عام تماشائیوں پر کیا گیا جبکہ مبینہ طور پر با اثر تماشائی اپنی من مانی کرتے رہے ۔میچ کے لئے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق شائقین کرکٹ کو پانی کی بوتل اور کھانے پینے کی اشیا ء ،سگریٹ، لائٹرز، بیٹری، چارجر اور لوہے کی کوئی بھی چیز اسٹیڈیم میں لے جانے پر پابندی تھی لیکن متعدد با اثر تماشائی اس ضابطہ اخلاق کی چند شقوں کی خلاف ورزی کرتے نظر آئے ۔سگریٹ پینے والے بعض با اثرتماشائیوں کی جیب میں لائٹر تھا اور ہاتھ میں پانی کی بوتلیں بھی تھیں اور ان سے یہ چیزیں نہ لی گئیں جبکہ عام تماشائیوں سے پانی کی بوتلیں اور لائٹر بھی سیکورٹی پر معمور اہلکاروں نے لے لئے ۔سٹیڈیم میں کسی بھی قسم کی ہلڑ بازی کو روکنے کے لئے شائقین کو نعرہ بازی منع کیا گیا تھا ضابطہ اخلاق کے تحت اگر کوئی شخص نامناسب نعرے بازی کرتے پکڑا گیا تو مجسٹریٹ فوری گرفتار کر کے اسے موقع پر سزا دینے کا مجاز ہوگا۔

علاوہ ازیں جبکہ سیکورٹی پر موجود ایک پولیس عہدیدار سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہر تماشائی کے ساتھ برابر کا سلوک کیا گیا ہے اور کسی کو بھی ضابطہ اخلاق کی کسی بھی شق کی خلاق ورزی کی اجازت نہیں دی گئی۔سب کی سختی سے تلاشی لی گئی اور ممنوعہ اشیاء بر آمد ہونے پر اسے قبضہ میں لے لیا گیا

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -