ہوشیار

ہوشیار

  

مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایک دم سے گھر بھر میں ایسی پرجوش تبدیلی آئے گی کہ ہر کوئی دلچسپی سے میر ی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ بات چھوٹی سی تھی ، میں نے ایک رات پہلے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شمشاد احمد خان کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ گورنمنٹ کالج میں جب سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے تو ایک تقریر ی مقابلہ کروایا تھا جس کا عنوان تھا ’کوکاکولا لسی سے بہتر ہے‘۔ چار گھنٹے تک انٹرویو کرنے کے بعد ساری رات ان کی باتیں میرے ذہن میں رہیں اور صبح سیر سے واپس آتے ہوئے میں نے سوچا کہ کس طرح جاتے ہی پورے گھر والوں کو اپنی طرف متوجہ کرلوں اور پھر مجھے خوبصورت تدبیر سوجھی اور گھر داخل ہوتے ہی سب سے کہا کہ کل مجھے ایک جگہ تقریر کرنی ہے جس کا عنوان کوکاکولا لسی سے بہتر ہے ۔ یہ سنتے ہی چھوٹے بڑے ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتے میں نے دوسری سانس میں کہا کہ سب کے سب مجھے ایسے پوائنٹس دیں جو مدلل ہوں تاکہ میں مقابلہ جیت سکوں جس میں اول آنے والے کو چاکلیٹ ، دوم کو پیٹیز اور تیسرے کو ایک ٹافی ملے گی، اس پر بچے خاص طور پر ہنسنے لگے ، البتہ چاکلیٹ کا سن کر انہوں نے مجھے پوائنٹس دینے شروع کردیئے ۔ حتیٰ کہ بچوں کی ماں بھی کچن سے برآمد ہوئی اور کوکاکولا کے حق میں تین چار دلائل جڑ دیئے کیونکہ وہ اس کا پسندیدہ مشروب ہے۔ میں نے بچوں سے کہا کہ سکول میں اپنے دوستوں سے ڈسکس کرکے آئیں اور شام تک میری تیاری کروائیں اور وہ اسی گرمجوشی سے سکول چلے گئے ۔

میرے لئے یہ سب کچھ حیران کردینے والا ردعمل تھا کہ کس طرح ایک انوکھی بات ان کے اندر دلچسپی کا الاؤ روشن کر سکتی ہے ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا آج کل چمتکار دکھا دکھا کر جنرل مشرف ، آصف زرداری اور نواز شریف کو کارنر کر چکا ہے کیونکہ شام شروع ہوتے ہی وہ جس انداز میں باتیں شروع کردیتے ہیں اور جس نقطہ نظر کو اجاگر کرنا شروع کردیتے ہیں ، آدھے عوام اسی طرح سوچنا شروع کردیتے ہیں اور ان کی گفتگو میں اگلے سارے دن وہ دلائل جھلکیاں دکھاتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں دو تین مثالیں بڑی واضح ہیں ۔ اگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے جی ٹی روڈ کے سفر کو میڈیا کوریج نہ ملتی تو ممکن ہے جنرل مشرف کی حکومت کو ہلانا ناممکن ہوتا۔ پھر اگر مہر بخاری سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو بار بار یہ نہ باور کرواتیں کہ آپ نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا ہے تو ممکن ہے ان کا انجام وہ نہ ہوتا جو ہوا، اسی طرح جب ملک ریاض نے چیف جسٹس کے بیٹے پر اربوں روپے کھانے کا الزام لگایا تو اس وقت تک لوگ دوسری بات سننے کو تیار نہ تھے جب تک کہ دنیا ٹی وی کے ایک پروگرام کے وقفے کے دوران کی گفتگو لیک نہ ہو گئی جس میں دو اینکر ملک ریاض کو خود سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ وہ کس سوال کا کیا جواب دیں اور آخر میں عمران خان کے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی وہ مثال ہے جس کی غیر ضروری تشہیر کرکے الیکٹرانک میڈیا نے سابق چیف جسٹس ظہیر جمالی کو مجبور کردیا کہ وہ ایک مضحکہ خیز پٹیشن کو نہ صرف قبول کرلیں بلکہ بالآخر ڈیڑھ کروڑ ووٹ لینے والے وزیراعظم کو ایک ڈکشنری کی مدد لے کر گھر بھیج دیں۔

جب تک الیکٹرانک میڈیا اس طرح پاپولر نہیں ہوا تھا تب تک پرنٹ میڈیا میں عام اصول یہ تھا کہ حکومت وقت کی اپوزیشن کی جائے تاکہ عوام میں زیادہ سے زیادہ مقبولیت حاصل کی جائے اور اس ضمن میں مرحوم مجید نظامی وہ جملہ ابھی تک کانوں میں گونجتا ہے کہ میاں صاحب ہم تب تک آپ کے ساتھ ہیں جب تک آپ حکومت میں نہیں آجاتے ، جونہی آپ حکومت میں آئیں گے ہم آپ کی اپوزیشن میں ہوں گے۔ لیکن اس اپوزیشن کی ٹھوس بنیاد ہوتی تھی اور کوئی بات بغیر ثبوت کے کم ہوتی تھی ۔ اب جب سے الیکٹرانک میڈیا کابھوت معاشرے کے ذہن پر سوار ہوا ہے تب سے دلیل ، منطق اور ثبوت جیسے الفاظ صحافیوں کی ڈکشنری سے غائب ہوتے جا رہے ہیں ، ہر شام ایسی ایسی افلاطونی بگھاری جاتی ہے کہ سننے اور دیکھنے والوں کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔

پرنٹ میڈیا کے دور میں ایک اور اہم بات یہ تھی کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر کوئی لفظ نہیں لکھا جاتا تھا ، تبصرے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا لیکن الیکٹرانک میڈیا نے تو ہر حد پارکرلی ہے ۔ اب ایک بار پھر سے نواز شریف کے خلاف فیصلے پر نظرثانی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے، الیکٹرانک میڈیا پھر سے حرکت میں آچکا ہے اور اسی طرح سادہ لوح عوام کو چکر دینے کے لئے تیار ہے جس طرح میں نے گھر میں چند لمحوں میں بچوں اور ان کی ماں کو دے دیا تھا، ہوشیار!

مزید :

کالم -