سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس ، نظام ٹھیک کام کرتا تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا : جسٹس دوست محمد

سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس ، نظام ٹھیک کام کرتا تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا : ...

  

اسلام آباد(صباح نیوز) جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ اگر نظام ٹھیک کام کرتاتوہم کویہ دن نہ دیکھناپڑتالیکن مایوس نہیں ہونا چاہئے ، بلوچستان میں وفاقی حکومت اوردوست ممالک کوسی پیک کے تحت مل کرایک جدیداور عالمی معیار کا ہسپتال بھی بنانا چاہیے۔سپریم کورٹ میں سانحہ کوئٹہ پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ انشاللہ پاکستان قائم اوردائم رہے گا اگرہم متحد رہے تو بہت جلددہشت گردی کے خطرات بھی ٹل جائیں گے۔سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران بلوچستان حکومت نے متاثرین بحالی سے متعلق تحریری رپوٹ جمع کروادی جبکہ کوئٹہ پولیس کی طرف سے بھی سربمہر تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی ، عدالت نے دونوں رپورٹوں کو اطمینان بخش قرار دیا ہے تاہم عدالت نے بلوچستان پولیس کی سربمہررپورٹ قابل ستائش قرار دے کرپولیس افسران کوواپس کردی او رہدایت کی ہے کہ مقدمہ کی تحقیقات جلد مکمل کرکے چالان جمع کرایا جائے اور ٹرائل شروع کیا جائے ، عدالت نے اپنے حکم میں بلوچستان حکومت کی طرف سے متاثرہ وکلاء اور ان کے خاندانوں کی بحالی کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے اسی جذبے کے ساتھ اقدامات کاسلسلہ جاری رہے گا عدالت نے ہدایت کی ہے کہ بلوچستان باراورایڈووکیٹ جنرل باہمی مشاورت سے شہدا ء کے لواحقین کیلئے ہاوسنگ سوسائٹی کامعاملہ حل کریں اور اس ضمن میں ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سانحہ کوئٹہ پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔عدالت نے فریقین سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16اکتوبر تک ملتوی کردی۔

جسٹس دوست محمد

مزید :

علاقائی -