ورلڈ الیون کرکٹ میچ ، پولیس کی ناقص حکمت عملی ، ٹریفک پلان ابتدائی طور پر ناکام

ورلڈ الیون کرکٹ میچ ، پولیس کی ناقص حکمت عملی ، ٹریفک پلان ابتدائی طور پر ...

  

لاہور(کرائم رپورٹر، خبرنگار) ورلڈ الیون کرکٹ میچ پر سٹی ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی کے باعث ٹریفک پلان ابتدائی طور پر ناکام، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل، مریض ایمبولینسوں میں تڑپتے رہے جبکہ شہری دن بھر اوررات تک سڑکوں پر خوار ہوتے رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ الیون کرکٹ میچ پر سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک پلان ترتیب دینے کے باوجود مال روڈ، شاہراہ قائداعظم، فیروز پور روڈ، گلبرگ، کینال روڈ سمیت اہم شاہراؤں ، سڑکوں اور چوراہوں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا ہے اور ٹریفک پلان سے ہٹ کر حفیظ سنٹر سے قذافی اسٹیڈیم اور ایف سی کالج سے مسلم ٹاؤن جانے والی سڑکوں سمیت شہر کی 10 بڑی سڑکوں کو بند کرنے سے گلبرگ ، کینال روڈ اور جیل روڈ پر شدید ترین ٹریفک جام رہی ہے اور اس کے ساتھ شاہراہ قائداعظم ، مال روڈ ، جیل روڈ ،فیروز پور روڈ اور وحدت روڈ پر بھی شہری سڑکوں پر خوار ہوتے رہے ہیں، جبکہ مریض ایمبولینس گاڑیوں میں پھنسے رہے ہیں۔ اس موقع پر سب سے زیادہ کینال روڈ پر شہری خوار ہوتے رہے ہیں اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل رہا ہے۔ ’’ پاکستان سروئے‘‘ میں قذافی اسٹیڈیم آنے والی تمام کی تمام شاہراؤں اور سڑکوں پر شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ورلڈ الیون کے لئے جانے کے شائقین کے لئے بنائے گئے جنرل پارکنگ اسٹینڈز بھی سود مند ثابت نہ ہو سکے اور اس کے ساتھ جنرل پارکنگ اسٹینڈز سے شٹل بس کے ذریعے قذافی اسٹیڈیم تک پہنچانے کا عمل بھی سست روی کا شکار رہا ہے جبکہ ٹریفک وارڈنز خوش گپیوں میں مصروف رہے ہیں، جس پر سٹی ٹی او لاہور بار بار ذاتی طور پر اور وائرلیس کے ذریعے ٹریفک وارڈنز کو وارننگ دیتے رہے۔ اس کے باوجود ٹریفک وارڈنز ٹس سے مس نہ ہوئے۔ جس کے باعث ورلڈ الیون پر تربیت دیئے جانے والا ٹریفک پلان ابتدائی طور پر ہی ناکام نظر آیا ہے۔ ’’ پاکستان سروئے‘‘ میں سٹی ٹریفک پولیس کے 28 سے زائد سینئر ٹریفک وارڈنز اور وارڈنز کی عدم دلچسپی پر مجبوراً ایس پیز، ڈی ایس پیز اور تھانوں کے ایس ایچ اوز سیکیورٹی ڈیوٹی کے ساتھ ٹریفک کے فرائض بھی انجام دیتے نظر آئے ہیں۔ اس کے ساتھ وی آئی پی روٹس کے علاوہ باقی شاہراؤں اور سڑکوں پر شدید ترین ٹریفک جام رہی ہے اور ورلڈ الیون کے لئے جانے والے شائقین کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑا ہے جبکہ اس کے ساتھ شہر کی اہم شاہراؤں اور سڑکوں سمیت چوراہوں میں ٹریفک بدترین ٹریفک جام ہونے پر شہری بروقت اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے ہیں جس پر شہری ذہنی اضطراب کا شکار نظر آئے اور شہری سٹی ٹریفک پولیس کے حکام کو دن بھر اور رات گئے تک کوستے رہے ہیں۔ اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ شہر میں عام دنوں میں بھی ٹریفک جام رہتی ہے اور اب سٹی ٹریفک پولیس نے باقاعدہ ٹریفک پلان تربیت دیا ہے اس کے باوجود ٹریفک کی بندش نے سٹی ٹریفک پولیس کے حکام کی ناقص حکمت عملی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ سٹی ٹریفک پولیس حکام کو چاہیے تھا کہ وی آئی پیز روٹس کے ساتھ شہر کی باقی شاہراؤں اور سڑکوں سمیت چوراہوں پر بھی ٹریفک وارڈنز تعینات کئے جاتے۔ سٹی ٹریفک پولیس کی تمام تر نظریں وی آئی پیز روٹس کی جانب ہیں جس کے باعث شہر بھر کی ٹریفک درہم برہم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ کونوٹس لینا چاہیے جبکہ اس حوالے سے ایس پی ٹریفک سردار محمد آصف کا کہنا ہے کہ ٹریفک پلان تربیت دینے سے وی آئی پیز روٹس سمیت تمام سڑکوں اور شاہراؤں پر ٹریفک کا نظام بہتر ہے اور اس میں قذافی اسٹیڈیم، فیروز پور روڈ اور وحدت روڈ، مسلم ٹاؤن موڑ، گلبرگ سے قذافی اسٹیڈیم جانے والی سڑک سمیت ٹریفک پلان میں آنے والی شاہراؤں اور سڑکوں کوبند کیا گیاہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ ٹریفک پلان پر عمل کریں۔ اس حوالے سے گزشتہ چار دنوں سے درپیش مشکلات کے باعث آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے تاہم اکا دکا مقام پر ٹریفک کی ست روی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -