ضلعی عدلیہ میں خاتون ججوں کیلئے صنفی تنوع کی پالیسی نافذ

ضلعی عدلیہ میں خاتون ججوں کیلئے صنفی تنوع کی پالیسی نافذ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کے عدالتی اصلاحات پروگرام کے تحت ضلعی عدلیہ میں خاتون ججوں کے لئے باضابطہ طور پر صنفی تنوع (جینڈر ڈائیورسٹی) کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت خاتون ججوں کو مرد ججوں کے برابر مواقع ملیں گے۔پالیسی میں پہلی بار اس امر کو زیر غور لایا گیا ہے کہ مستقبل میں لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لئے مرد سیشن ججوں کے ساتھ ساتھ خاتون سیشن ججوں کو بھی زیر غور لایا جائے گا، ماضی میں کبھی بھی خاتون سیشن ججوں کو لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لئے زیر غور نہیں لایا گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کی منظوری کے بعد ڈائریکٹویٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے جینڈر ڈائیورسٹی پالیسی ضلعی عدلیہ میں نافذ کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے، پالیسی کے مطابق ضلعی عدلیہ میں خواتین کوججوں کی بھرتیوں میں میرٹ اور قابلیت کے بنیاد پر شامل کیا جائے گااور وہ ججوں کی بھرتیوں میں آزادانہ حصہ لے سکیں گی ۔جبکہ مرد ججوں کی طرح خاتون ججوں کو بھی ضلعی عدلیہ کے انتظامی امور میں مساوی نمائندگی دی جائے گی ،خاتون ججوں کو بھی ترقی کے لئے اضافی قابلیت دکھانا ہوگی ، پالیسی کے مطابق خواتین کو کریمنل کوآرڈی نیشن کمیٹی اور غیرملکی جوڈیشل کانفرنسز میں شرکت کے مواقعوں میں بھی برابر کی نمائندگی دی جائے گی ۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ میں خاتون ججوں کو مناسب رہائشگاہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

صنفی تنوع پالیسی

مزید :

صفحہ آخر -