پلی بارگیننگ اہم قانونی شق ہے جس سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی ممکن ہورہی ہے: ڈی جی نیب لاہور

پلی بارگیننگ اہم قانونی شق ہے جس سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی ممکن ہورہی ہے: ڈی ...

  

لاہور(خبر نگار) ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہا کہ نیب وہ واحدادارہ ہے جو لوٹی گئی خطیر رقوم ملزمان سے برآمد کروا کر متعلقہ اداروں اور متاثرین کو واپس کر رہاہے۔جو کہ چیئر مین قومی احتساب بیورو (نیب) قمر الزمان چوہدری کی کرپشن کیسز میں برآمد شدہ رقوم کی واپسی کے حوالے سے واضح ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی ایک زندہ مثال ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایلیٹ ٹاؤن اور احمد ہائیٹس ہاؤسنگ کے 629متاثرین میں 15کروڑ66لاکھ روپے کے چیک تقسیم کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دورا ن کیا ہے۔ اس موقع پر ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے کہا کہ کرپشن کے دو مختلف کیسز ایلیٹ ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم اور احمد ہائٹس پراجیکٹ جھنگ میں ملزمان سے وصول ہونے والی پندرہ کروڑ چھیالیس لاکھ کی خطیر رقم متاثرین میں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ڈی جی نیب نے ایلیٹ ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم اور احمد ہائیٹس ہاؤسنگ پراجیکٹ کے 629متاثرین کو برآمد کی گئی 154.629ملین روپے کی رقوم کے چیک متاثرین کے حوالے کئے۔ملزمان سے برآمد شدہ رقم کی وصولی نیب کے پلی بارگین (PB) قانون کے تحت ممکن بنائی جا سکی ہے۔پلی بارکیننگ نیب آرڈینینس کی ایک اہم قانونی شق ہے جسکی وجہ سے فوری طور پر لوٹی گئی رقوم کی واپسی ممکن ہوتی ہے اس سے ملزمان سے ریکوری کے ساتھ ساتھ ملزمان سزا یافتہ بھی تصور کیے جاتے ہیں۔تقریب کے اختتام پرڈی جی نیب لاہور نے کہاکہ نیب کی موجودہ قیادت کی کرپشن کے خلاف اختیار کردہ زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے نیب ملزمان سے گذشتہ4سالوں میں 50ارب روپے وصول کر چکا ہے جو گاہے بگاہے متاثرین اور متعلقہ اداروں کو واپس لوٹائی جا رہی ہے۔ڈی جی نیب لاہور نے کرپٹ عناصر کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ نیب اپنے ویژن کے مطابق کرپٹ عناصر کے گرد گھیرا مذید تنگ کر رہا ہے اور معاشرے کو کرپشن کی لعنت سے پاک کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے بحر حال وہ دن دور نہیں جب نیب اور پاکستانی قوم کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خلاف شانہ بشانہ کھڑے ہو تے ہوئے ایک شفاف پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -