سپریم کورٹ نے نواز شریف پر نرم ہاتھ رکھا ،اعتزاز احسن

سپریم کورٹ نے نواز شریف پر نرم ہاتھ رکھا ،اعتزاز احسن

  

اسلام آباد (آن لائن) پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں نواز شریف پر نرم ہاتھ رکھا ہے اور نیب نے ظفر حجازی پر نرم ہاتھ رکھا ہے۔ اگر نواز شریف پیپلزپارٹی میں ہوتے تو اب تک گرفتار ہو چکے ہوتے اور جیل کی ہوا کھا رہے ہوتے ۔ اب (بقیہ نمبر41صفحہ7پر )

نواز شریف کو پاکستان میں ضمانت کرانا پڑے گی کیونکہ ریفرنس فائل ہونے کے بعد نواز شریف کے لئے ضمانت ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار پی پی پی رہنما اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کیا ۔انہو ں نے کہا کہ نواز شریف کو وزارت عظمی سے کرپشن کی وجہ سے نکالا گیا ہے کیونکہ نواز شریف نے ہر جگہ کہا کہ آخر مجھے کیوں نکالا گیا ؟ انہوں نے کہا کہ نواز شریف بھاگتے بھاگتے ملک سے ہی بھاگ گئے ہیں ۔ اب ہمیں نواز شریف سے سوال کرنا ہو گا کہ آخر ان سے پاکستان سے کس نے نکالا اور کس خوف کی بنیاد پر نواز شریف پاکستان سے بھاگیں ہیں ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اب نواز شریف کو پاکستان میں آنے کے لئے ضمانت کرانا پڑے گی کیونکہ ریفرنس فائل ہو جانے کے بعد ضمانت کا ہونا ضروری ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف پیپلزپارٹی کا حصہ ہوتے تو کب کے ان کی گرفتاری ہو چکی ہوتی ۔ اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ نواز شریف پر پانامہ کیس میں پانچ ججز کا فیصلہ بہت نرم ہاتھ تھا دوسری جانب ظفر حجازی پر بھی نیب نے نرم ہاتھ رکھا ہوا ہے حالانکہ ظفر حجازی نے اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں کیا تھا بلکہ اس نے جو کچھ بھی کیا اس سے نواز شریف کی ذات کو فائدہ پہنچا ۔

اعتزاز احسن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -