انٹر نتائج کی تقریب بورڈ کے جوبلی ہال کے بجائے سٹیٹ بینک کے آڈیٹوریم میں منعقد کرنے ‘ کمپیئر کی عشقیہ شاعری پر شرکاء کی کڑی تنقید

انٹر نتائج کی تقریب بورڈ کے جوبلی ہال کے بجائے سٹیٹ بینک کے آڈیٹوریم میں ...

  

ملتان (سٹاف رپورٹر )تعلیمی بورڈ ملتان کے تحت انٹر میڈیٹ کے امتحانات 2017کے نتائج کی تقریب بورڈ کے جوبلی ہال کی بجائے سٹیٹ بینک کے آڈیٹوریم میں منعقد کئے جانے پر (بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

تعلیمی حلقوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنا جوبلی ہال ہونے کے باوجود تقریب سٹیٹ بینک کے آڈیٹوریم میں منعقدکرکے لاکھوں روپے کے غیر ضروری اخراجات کرنے کے باعث سوالات اٹھتے ہیں کہ ایک طرف تو کہا جا رہا ہے کہ تعلیمی بورڈ خسارے میں جا رہا ہے ۔ دوسری جانب اپنا وسیع ہال ہونے کے باوجود بھاری اخراجات کرکے تقریب باہر منعقد کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔دریں اثنا سٹیٹ بینک کے آڈیٹوریم میں ائر کنڈیشنڈ ٹھیک طریقے سے کام نہ کرنے کے باعث شرکا تقریب پسینے سے شرابور ہو گئے ۔ خود چیئرمین بورڈ پروفیسر ریاض ہاشمی بھی بار بار پسینہ صاف کرتے رہے ۔دریں اثناء تقریب میں اسسٹنٹ کنٹرولرالیاس صدیقی نے کمپیئرنگ کے دوران عشقیہ شاعری شروع کر دی جس پر شرکا نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں پوزیشن ہولڈرز طالبات‘ان کی مائیں اور معلمات بھی شریک ہیں ۔ اس موقع پر عشقیہ شاعری کمپیئر کو زیب نہیں دیتی ۔یہ کوئی مشاعرہ نہیں ۔ طلباوطالبات کی پوزیشنز کی تقریب ہے ۔اس موقع پر بیٹھے تعلیمی بورڈ کے حکام نے بھی اس کا نوٹس نہیں لیا ۔اس کے علاوہ کمپیئر الیاس صدیقی نے تقریب میں ایک ٹیچر کو سٹیج پر بلالیا اور کہا کہ یہ ٹیچر لطف آباد کا رہائشی ہے ۔ اس نے اپنے گھر کے 2کمروں میں سے ایک محلے کے طلبہ کو پڑھانے کے لئے مختص کر رکھا ہے ۔ اسی ٹیچر کی بیٹی نے میٹرک کے سالانہ امتحان میں پوزیشن حاصل کی تھی ۔ اس پر تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ انٹر میڈیٹ کے نتائج کی تقریب میں گزشتہ میٹرک کی پوزیشن کے حوالے سے ٹیچر کو سٹیج پر بلا کر وقت ضائع کرنے کی کیا منطق تھی ۔ اگر ٹیچر کو بلانا ہی تھا تو میٹرک کے رزلٹ کی تقریب میں بلایا جاتا ۔

عشقیہ شاعری تنقید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -