انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم مکمل فعال، وکلاء سمجھنے کیلئے ہم سے تعاون کریں: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم مکمل فعال، وکلاء سمجھنے کیلئے ہم سے تعاون کریں: چیف ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے پرانے نظام کو نئے سسٹم کے ساتھ مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں وکلاء اور سائلین کے لئے پہلے سے بہت زیادہ آسانیاں اور سہولیات موجود ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے لاہور ہائی کورٹ میں شروع کیا جانے والا انٹر پرائز آئی ٹی سسٹم مکمل طور پر فعال ہے،پی آئی ٹی بی اور کنسلٹنگ کمپنی ٹیک لاجکس کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی (بقیہ نمبر44صفحہ7پر )

ہے کہ آئی ٹی سسٹم میں کسی بھی قسم کا کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار میڈیا نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں کیا، اس موقع پر رجسٹرار سید خورشید انور رضوی، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری محمد اکمل خان اور ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد بھی موجود تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی نئے نظام کے پیرامیٹرز کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پوری دنیا میں ڈیجیٹل سسٹم ہیں ہمیں بھی دنیا سے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے۔چیف جسٹس نے وکلاء سے کہا کہ سسٹم کو سمجھنے کے لئے ہم سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تمام مقدمات کے فزیکل آڈٹ کے بعد انکی کیٹیگریزی بنائی گئی ہیں ،اب کاز لسٹ بنچ وائز جاری کی جارہی ہیں، سول، فوجداری، رٹ، فیملی اور رینٹ مقدمات کے ڈاکٹس کے حساب سے بنچز تشکیل دیئے گئے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ بہت جلد تمام وکلاء کے تعاون سے کاز لسٹوں کی پرنٹنگ کا عمل بھی ختم کر دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ سائلین کو بھی بذریعہ ایس ایم ایس انکے مقدمات سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ کسی معزز وکیل یا سائلین کو مقدمات سے متعلق کسی پریشانی کا سامنا ہوتو وہ آئی ٹی سیکشن جانے کی بجائے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) سید شبیر شاہ سے رابطہ کریں، اگر ان کی سطح پر معاملہ حل نہیں ہوتاتورجسٹرار سید خورشید انور رضوی سے بات کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنے کیلئے بار کے تعاون کی ضرورت ہے، سسٹم میں چند مقدمات سے متعلق چیدہ چیدہ مسائل ہو سکتے ہیں، جن کی نشاندہی بہت ضروری ہے، لیکن پورے سسٹم کو غیر فعال کہنادرست نہیں۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -