آزادی کپ ، قذافی سٹیڈیم میں چوکوں ، چھکو ں کی بارش ، ورلڈالیون کو شکست دیدی

آزادی کپ ، قذافی سٹیڈیم میں چوکوں ، چھکو ں کی بارش ، ورلڈالیون کو شکست دیدی

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) آزادی کپ کے پہلے ٹی ٹونٹی میں پاکستان نے ورلڈ الیون کو 20رنز سے شکست دے دی ، اور3 میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ورلڈ الیون مقررہ 20 اوورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر177 رنز بناسکی ۔تفصیلات کے مطابق ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ قومی ٹیم نے پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر 197 رنز بنائے، پاکستان کی جانب سے دیئے گئے 198 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ورلڈ الیون کی جانب سے ہاشم آملہ اور تمیم اقبال میدان میں اترے اور آتے ہی جارحانہ بلے بازی کا آغاز کر دیا، تاہم ٹیم کا سکور ابھی 43 پر ہی پہنچا تھا کہ تمیم اقبال بولڈ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ تمیم اقبال نے 3 چوکوں کی مدد سے 18 رنز بنائے، ان کی وکٹ رومان رئیس کے حصے میں آئی، اس کے بعد ہاشم آملہ بھی وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور کیچ آؤٹ ہو کر واپس چلے گئے۔ رومان رئیس کی گیند پر عماد وسیم نے ان کا کیچ لیا۔ ہاشم آملہ نے 4 چوکوں کی مدد سے 26 رنز بنائے۔ اس کے بعد کپتان فاف ڈوپلیسی اور ٹم پین نے ورلڈ الیون کے سکور کو 100 تک پہنچایا، تاہم ابھی سکور 101 پر ہی پہنچا تھا کہ ڈوپلیسی شاداب خان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ فاف ڈوپلیسی نے 4 چوکوں کی مدد سے 29 رنز بنائے۔ ورلڈ الیون کی چوتھی وکٹ 107 کے سکور پر گری جب ٹم پین ایک اونچی شارٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ رومان رئیس نے باؤنڈری کے انتہائی قریب ان کا انتہائی خوبصورت کیچ لیا۔ ٹم پین نے دو چوکوں کی مدد سے صرف 25 رنز بنائے، جبکہ ڈیوڈ ملر 9 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جو شاداب خان کی گھومتی ہوئی گیند پر وکٹ کیپر کپتان سرفراز احمد کے ہاتھوں اسٹمپ آؤٹ ہوئے۔جارح مزاج گرانٹ ایلیٹ 14 رنز بناکر سہیل خان کی گیند پر عماد وسیم کو کیچ دے بیٹھے۔ اس سے قبل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ورلڈ الیون اور پاکستانی ٹیم کے درمیان آزادی کپ کے پہلے ٹی ٹونٹی معرکے کا آغاز ہواتو ورلڈ الیون کی پہلے بیٹنگ کی دعوت پرپاکستان ٹیم کی جانب سے فخر زمان اور احمد شہزاد میدان میں اترے۔ فخر زمان نے آتے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور دو چوکے مار کر کھیل کو دلچسپ بنا دیا، تاہم پہلے ہی اوور میں وکٹوں کے پیچھے سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔ مورنے مورکل کی گیند پر ہاشم آملہ نے ان کا کیچ لیا۔ فخر زمان صرف 8 رنز ہی بنا سکے۔اس کے باجود احمد شہزاد اور بابر اعظم نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے سکور کو 100 سے زائد رنز تک پہنچایا۔ پاکستانی ٹیم کو دوسرا نقصان 130 کے سکور پر اٹھانا پڑا جب احمد شہزاد ایک اونچی شارٹ کھیلنے کی کوشش میں اپنا کیچ دے بیٹھے۔ بین کٹنگ کی گیند پر ڈیرن سیمی نے ان کا انتہائی خوبصورت کیچ لیا۔ احمد شہزاد نے 34 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 3 چوکوں کی مدد سے 39 رنز بنائے،جب 142 پرپہنچا تھاتو جارحانہ انداز سے بلے بازی کر رہے بابر اعظم بھی آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ بابر اعظم نے صرف 52 گیندوں پر10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 86 رنز بنائے۔ عمران طاہر کی گیند پر ڈیوڈ ملر نے باؤنڈری کے قر یب بھاگتے ہوئے ان کا کیچ لیا،تاہم قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد صرف 4 رنز بناکر تھریسا پریرا کی گیند پر ٹم پین کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے ، پاکستان کے پانچویں آؤٹ ہونے کھلاڑی شعیب ملک تھے جنھیں آخری اوور میں تھریسا پریرا نے بولڈ کر کے واپس بھیجا۔ شعیب ملک نے 20 گیندوں کا سامنا کیا اور 4 چوکوں کی مدد سے 38 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ عماد وسیم 15 جبکہ فہیم اشرف بغیر کوئی رن بنائے ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستانی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر 197 رنز بنائے۔ ورلڈ الیون کی جانب سے تھریسا پریرا کامیاب گیند باز رہے جنہوں نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مورنے مو ر کل، بین کٹنگ اور عمران طاہر کے حصے میں صرف ایک ایک وکٹ آئی۔ اس سے قبل ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی کا ٹاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا یہ دنیائے کرکٹ کا بہت بڑا ایونٹ ہے۔ ہماری ٹیم میں ٹی ٹونٹی کے اچھے اور بہترین کھلاڑی موجود ہیں۔ سرفر ا ز احمد نے گفتگو میں کہا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا ہی فیصلہ کرتے، پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ہمارا سارا فوکس کرکٹ پر ہے۔ ہماری ٹیم میں 8 کھلاڑی ہوم گراؤنڈ پر پہلی بار انٹرنیشنل میچ کھیل رہے ہیں تاہم ورلڈ الیون کیخلاف بھرپور انداز سے بیٹنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر بیٹی کی پیدائش کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہ بن سکے جبکہ عثمان شنواری کی جگہ سہیل خان کو ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔ٹاس سے قبل مہمان ٹیم کو خصوصی رکشوں میں لایا گیا تو شائقین کرکٹ کے جوش میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مہمان کھلاڑیوں کو رکشوں میں گراؤنڈ کے چکر لگوائے گئے اور شائقین نے کھڑے ہو کھلاڑیوں کا استقبال کیا۔کپتان فاف ڈوپلیسی، ہاشم آملہ، عمران طاہر، مورنی مورکل اور ٹم پین ایک رکشے میں بیٹھے جبکہ ڈیرن سیمی، جارج بیلی دوسرے رکشے میں بیٹھ کر میدان میں داخل ہوئے۔سات ممالک کا 14 رکنی ورلڈ الیون اسکواڈ کپتان فاف ڈوپلیسی، ہاشم آملہ، ڈیوڈ ملر، مورنی مورکل، عمران طاہر، ٹم پین، جارج بیلی، گرانٹ ایلیٹ، سیموئل بدری، بین کٹنگ، پال کولنگ وڈ، تمیم اقبال، ڈیرن سیمی اور تھسارا پریرا پر مشتمل ہے۔سکیورٹی فورسز نے گراؤنڈ کے اندر اور باہر پوزیشنیں سنبھالی ہوئی ہیں۔قذافی اسٹیڈیم میں داخلے سے قبل مختلف مقامات پر گزر گاہیں بنائی گئی جہاں اسکیننگ گیٹ لگائے گئے جس میں سے تماشائیوں کو گزار کر گراؤنڈ میں داخلے کی اجازت دی گئی۔قذافی اسٹیڈیم کے باہر اور مختلف مقامات پر جگہ جگہ خیر مقدمی بینرز اور بل بورڈز آویزاں کئے گئے ہیں جبکہ گراؤنڈ کے آہنی دروازے پر کھلاڑیوں کی تصویروں والے بل بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔ سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے بھی خصوصی پلان ترتیب دے رکھا ہے۔شہریوں کی سہولت کیلئے پارکنگ ایریا سے مفت شٹل سروس کا انتظام بھی کیا گیا اور شائقین کرکٹ کو 38 بسوں کے ذریعے پارکنگ سے اسٹیڈیم کے انٹری پوائنٹس تک پہنچایا گیا۔چنگ چی، آٹو رکشے، ایل پی جی، ایل این جی اور سی این جی گاڑیوں کا پارکنگ ایریا میں داخلہ ممنوع تھا۔گاڑی میں موجود تمام افراد کے پاس شناختی کارڈ اور ماسوائے ڈرائیور تمام افراد کے پاس میچ کا ٹکٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ میچ کیلئے ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق شائقین کرکٹ پانی کی بوتل اور کھانے پینے کی اشیا اسٹیڈیم میں نہیں لے جا سکیں گے۔ذرائع کے مطابق سگریٹ لائٹرز اور لوہے کی کوئی بھی چیز اسٹیڈیم میں لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر انکلوڑر میں مجسٹریٹ تعینات ہو گا۔ضابطہ اخلاق کے مطابق شائقین کسی قسم کی نعرے بازی نہیں کرسکیں گے، ہلڑ بازی، غیرشائستہ نعروں پر فوری قانونی کارروائی کی جائے گی اور نامناسب نعرے بازی کرنے والے کو مجسٹریٹ فوری گرفتار کر کے موقع پر سزا دے گا۔کراچی سے خیبر تک اب صرف کرکٹ کی بات ہوگی، رمیز راجامیچ کی سکیورٹی کیلئے پلان بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق گراؤنڈ کے اندر اور باہر پاک فوج اور رینجرز کے اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے جبکہ پولیس کے 19 ایس پیز، 45 ڈی ایس پیز اور 6 ہزار اہلکار سکیورٹی کی ذمہ داری ادا کریں گے۔ورلڈ الیون میں شامل سیموئل بدری نے بھی لاہور پہنچ کر ٹیم کو جوائن کرلیا جس کے بعد مہمان ٹیم کا 14 رکنی اسکواڈ مکمل ہوگیا۔مہمان کھلاڑیوں نے صبح اٹھ کر ہلکی ورزش کی جس کے بعد انہوں نے ہوٹل کے ریستوران میں بھرپور ناشتہ کیا۔ قومی کرکٹرز بھی میدان میں اترنے سے قبل پرجوش ہیں اور نوجوان کھلاڑی بابر اعظم اور عماد وسیم بھی بال کٹوانے کے لئے ہوٹل میں ہی قائم پارلر پہنچ گئے جہاں انہوں نے مداحوں کیساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کے چیئرمین ششانک منوہر نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا خیر مقدم کیا۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا پاکستانی کھلاڑیوں اور شائقین کو اپنے ملک میں کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ پرامید ہیں کہ پاکستان میں 12ستمبر17 ء کا دن عالمی کرکٹ کی بحا لی کا دن ہوگا۔پہلے ٹاکرے سے قبل مہمان ورلڈ الیون کی ٹیم نے گزشتہ روز قذافی اسٹیڈیم میں بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کی بھر پور پریکٹس کی۔

آزادی کپ

مزید :

کراچی صفحہ اول -