نئی تعلیمی پالیسی میں گرلزسکولوں کی شرح دوگنا کر کے 70فیصدکر دی : عاطف خان

نئی تعلیمی پالیسی میں گرلزسکولوں کی شرح دوگنا کر کے 70فیصدکر دی : عاطف خان

  

پشاور( سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخواکے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے اور نئی تعلیمی پالیسی میں لڑکیوں کے سکولوں کی شرح دوگنا کرکے 70فیصد کر دی ہے جبکہ صوبے میں ملک کی تاریخ کا پہلا گرلز کیڈٹ کالج قائم کرکے اس میں کلاسوں کا بھی باقاعدہ اجراء کردیا گیا ہے جو حکومت خیبر پختونخوا کا لڑکیوں کی تعلیم میں بھرپور دلچسپی کا مظہر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روزپشاور میں پشاور پبلک سکول گرلز ونگ کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں بورڈ کے ارکان کے علاوہ سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر شہزاد بنگش ،سکول کے پرنسپل اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں پشاور پبلک سکول گرلز ونگ کی مزید بہتری کے لئے کئی تجاویز اور سفارشات زیر غور آئیں اور اس سلسلے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔وزیر تعلیم نے تمام ماڈل سکولز اور کالجز کے حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ کفایت شعاری کو اپنائیں اورغیر ضروری اخراجات سے گریز کریں تاکہ سکولوں اور کالجز کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور والدین پر بھی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اصلاحات کے نتیجے میں والدین کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہواہے اوراب تک نجی تعلیمی اداروں کے ڈیڑھ لاکھ سے زائدبچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرایا گیاہے جو انتہائی حوصلہ افزاء امر ہے ۔ان کا مزیدکہنا تھاکہ ترقیافتہ خیبر پختونخوا کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا اور سرکاری سکولوں میں حقیقی تبدیلی لانی ہو گی کیونکہ ان سکولوں میں 40لاکھ سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے پڑھتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارا مقصد تعلیم کے شعبے سے کمائی کا حصول یا لوگوں کوروزگار فراہم کرنا ہر گز نہیں بلکہ نئی نسل کومعیاری تعلیم سے آراستہ کرکے اسے ملک و قوم کے لئے بہترین اثاثہ بناناہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا میگا پراجیکٹ ہے جس کا بجٹ گزشتہ ساڑھے 4سالوں کے دوران61ارب روپے سے بڑھا کر 138ارب روپے کردیا گیاہے اور سرکاری سکولوں میں پہلی مرتبہ سزا و جزا کا نظام متعارف کرادیا گیا ہے اعلیٰ کارکردگی پر اساتذہ کو لاکھوں روپے کے کیش انعامات جبکہ بری کارکردگی پر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرکے ان سے کروڑوں روپے کی ریکوری بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرکاری سکولوں میں صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی پراب تک 25ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور 21لاکھ میں سے 14لاکھ بچوں کو فرنیچر فراہم کی ہے جبکہ معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے 40ہزار اساتذہ خالصتاً میرٹ پر بھرتی کر دیئے گئے ہیں اور امسال مزید 15ہزار اساتذہ بھرتی کئے جارہے ہیں جس سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوجائے گا ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -