حالات سول وار کی طرف جارہے ہیں، انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے: منور حسن 

حالات سول وار کی طرف جارہے ہیں، انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے: منور حسن 

  

کراچی (رپورٹ /نعیم الدین ) جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ موجودہ حالات سول وار کی طرف جارہے ہیں ۔مجھے 2018تو کیا اس کے بعد بھی انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں ۔امریکہ اور بھارت اپنے نقطۂ نظر کے تحت کسی کیلئے بھی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے الفاظ استعمال کردیتے ہیں۔ حالانکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ انتہا پسندی کیا ہے ؟ پاکستان کے خلاف بیرونی دشمن سازشیں کررہا ہے ، اب یہ معلوم کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ اصل دشمن کون اور دوست کون ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے جس کا خاتمہ نہایت ضروری ہے اور اب بھی اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو آگے جاکر اسے روکنا ناممکن ہوجائے گا۔ ماضی میں اگر کوئی شخص رشوت لیتا تھا تو لوگ اس کا سوشل بائیکاٹ کردیا کرتے تھے ، لیکن اب بڑے لوگوں کے ساتھ نام آنے پر بھی بعض لوگ اس بات کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ ’’اگر بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘۔ اگر ملک کے حالات کو بہتر کرنا ہیں تو آپ کو سب سے پہلے کرپشن جیسے ناسور کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر ملک میں بہتری کے آثار نظر نہیں آتے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ 2018 میں آپ کو الیکشن ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میری بینائی بہت کمزور ہے مجھے تو 2018 کے بعد بھی الیکشن ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔ موجودہ حالات میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ حالات سول وار کی طرف جارہے ہیں ۔ موجودہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری خارجہ پالیسی کوئی خاص نہیں ہے، اس طرف خصوصی توجہ کی ضرو رت ہے۔ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حالات انتہائی حساس ہیں جس کسی کو چین سے دوستی کا رشتہ استوار کرنا ہے یا افغانستان کے حوالے کوئی کام کرنا ہے تو اسے پاکستان سے گذر کر جانا ہوگا ، پاکستان کے تعاون اور مدد کے بغیر کوئی چیز ممکن نہیں ہے۔ 2018 کے الیکشن کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جس طرح کی صورتحال چل رہی ہے، اس میں مجھے بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ کیونکہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی اختیارات نہیں ہے کہ وہ آزاد فیصلے کرسکے۔ ملک میں دہشتگردی کی وارداتوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی سب کے سامنے ہے کہ دہشتگردی کی آج تک صحیح تعریف سامنے نہیں لائی گئی۔ امریکہ اور بھارت اپنے نقطۂ نظر کے تحت کسی کیلئے بھی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے الفاظ استعمال کردیتے ہیں۔ حالانکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ انتہا پسندی کیا ہے ؟ امریکہ پاکستان کے بارے میں شور مچاتا ہے کہ Do More جو کہ غلط ہے ۔ کشمیر کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ جو اس وقت کشمیر میں ہورہا ہے وہ حقائق کے منافی ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہونا چاہئیں اور کشمیری عوام کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ کراچی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی اس وقت مسائلستان بنا ہوا ہے ، پہلے یہاں کے مسائل ترجیح بنیادوں پر حل کیے جائیں ، کراچی کے میئر کو سندھ حکومت نے بے اختیار کیا ہوا ہے اور زچ کرکے رکھا ہوا ہے۔ جہاں تک الطاف حسین کی سیاست کے خاتمے کا تعلق ہے تو کسی کی سیاست کو زبردستی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر الطاف حسین کو اپنی سیاست ختم کرنا ہوتی تو وہ خود اعلان کرچکے ہوتے۔ اعلان نہ کرنے کا مطلب تو یہی ہے کہ وہ ابھی سیاست جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ متحدہ کے مختلف دھڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد آئندہ عام انتخابات میں سندھ کے شہروں کی سیاسی صورتحال میں کیا تبدیلی آسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان تمام دھڑوں میں سے اصل ایم کیو ایم کون سی ہے۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ، لیکن ایم کیو ایم کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ کے عام انتخابات میں سندھ کے شہروں میں اس طرح سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی جس طرح ماضی میں ہوتی رہی ہے۔ دراصل سندھ کے عوام بھی 30 سالوں میں ایم کیو ایم کو آزما چکے اور دیکھ چکے ہیں کہ مستقل اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کیلئے کچھ نہ ہوسکا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں مختلف شعبوں میں بہت اچھے کام ہوئے ہیں ، لیکن وہاں کے اچھے کاموں کو سامنے نہیں لایا جاسکا۔ کیونکہ وہ بالکل الگ الگ تھلگ صوبہ ہے۔ میڈیا میں وہاں کے حوالے سے کچھ زیادہ نہیں دیکھا جاتا۔ اس صوبے میں پولیس اور بلدیات کے محکموں کے حوالے سے نمایاں کام ہوئے ہیں مگر انہیں اجاگر نہیں کیا گیا۔ یہ ایک مختلف نوعیت کی بات ہے اسے اگر اجاگر کیا جاتا تو پورے ملک کے عوام کو اس صوبے کی ترقی کے بارے میں اچھا تاثر ملتا ، لیکن اس کو بدقسمتی کہیں گے کہ اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی ، وہاں ان دونوں شعبوں کے علاوہ بھی دیگر محکموں میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -