ہاؤس ان آرڈر کرنے کیلئے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا، علامہ ساجد نقوی

ہاؤس ان آرڈر کرنے کیلئے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا، علامہ ساجد نقوی

  

راولپنڈی (جنرل رپورٹر) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جس طرح اب سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ خوش آئند ہے لیکن یہ سنجیدگی عملی طور پر بھی نظر آنی چاہیے، جب ہم اپنا ہاؤس ان آرڈر کررہے ہیں تو پھر ہمیں تمام تقاضوں کو بھی پورا کرنا ہوگا، دہشت گردی نے امن وامان کی تباہی کے ساتھ ساتھ ملک کو معاشی،معاشرتی ہر حوالہ سے تباہ کیا،اب تک جو لوگ گرفتار کئے گئے ، جن کے کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے اور جو مارے گئے ان کے حقائق سے عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا فی الوقت سب کچھ مبہم ہے، ذمہ داران اس ابہام کو ختم کریں۔ا ن خیالات کا اظہار انہو ں نے وفاقی وزیرخارجہ ، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے مختلف بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ ملکی اور بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں بالآخر مقتد ر حلقے اور ذمہ داران سنجیدگی سے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں جوکہ خوش آئند ہے لیکن یہ سنجیدگی عملی طور پر بھی نظر آنی چاہیے کیونکہ پاکستان عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے اور دہشت گردی کے واقعات کے بعد مختلف علاقوں سے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا رہا ، کچھ لوگ مارے بھی جاتے رہے لیکن آج تک ان کی شناخت نہیں کی گئی، معاملات کو ابہام میں رکھا جاتا رہا۔ اب عوام یہ تقاضا کرتے ہیں کہ جن دہشت گردوں کو گرفتار کیاگیا، ان کے کیسز فوجی عدالتوں میں بھجوائے گئے ان کا کچھہ چھٹا کھولا جائے حالیہ چند دنو ں میں سندھ حکومت کی جانب سے 90 کیسز فوجی عدالتوں کو بھجوائے گئے ہیں اس حوالے سے حقائق عوام تک پہنچائے جانے چاہئیں کہ کون لوگ گرفتار ہوئے،کون سے کیسز بھجوائے گئے۔ تین اہم وزراء نے مختلف اوقات میں بیانات دیئے ہیں جب طے کرلیاگیاہے کہ اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہے تو پھر اس کے تمام تقاضے بھی پورے کرنا ہونگے۔عالمی بدلتے منظر نامہ پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے اور ایک مرتبہ پھر دہراتے ہیں کہ پاکستان کی خود مختاری، سلامتی اور دفاع پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، پاکستان پر اگر کوئی کڑا وقت آیا تو پوری قوم متحد ہوکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -