کراچی ،تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اساتذہ کا پریس کلب پر احتجاج

کراچی ،تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اساتذہ کا پریس کلب پر احتجاج

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں اساتذہ نے تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف منگل کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیااور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔احتجاج کے شرکاء نے جب وزیر اعلی ہاؤس کی جانب پیش قدمی کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں اساتذہ تنخواہ نہ ملنے پر سراپا احتجاج بن گئے۔کراچی پریس کلب کے باہر 2012 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے احتجاج کیا۔احتجاج میں خواتین اساتذہ بھی شامل تھیں، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرزاٹھارہے تھے جب پر ان کے مطالبات درج تھے۔مظاہرین نے کہاکہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 7500 تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں، جس کے باعث گھرکے چولہے بند ہوگئے ہیں۔لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔بعدازاں مظاہرین نے وزیر اعلی ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔احتجاج کے شرکاء نے جب وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب پیش قدمی کی تو پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے۔ معاملہ جب بات چیت سے حل نہ ہوا تو پولیس نے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا پولیس کے لاٹھی چارج کے بعد کئی ملازمین کی حالت غیر ہوگئی جبکہ متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔واقع کی اطلاع کے بعد وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر شاہ پریس کلب پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کیے۔اس موقع پر ناصر شاہ نے کہاکہ اساتذہ پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ مظاہرین کے مطالبات کے حل کیلیے بھر پور کوشش کی جائے گی۔مظاہرین نے وزیراطلاعات کو بتایاسیکرٹری ایجوکیشن نے دو ہفتے میں مسئلہ حل کرنے کا کہاتھا لیکن تاحال کچھ نہیں ہوا۔انہوں نے متعدد بار سیکرٹری سے ملنے کی کوشش کی لیکن وہ ملتے ہی نہیں ہیں۔مظایرین نے کہا کہ ہمارے مطالبات حل نہ ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت سندھ ہمارے مطالبات فوری حل کرے۔

مزید :

ملتان صفحہ اول -