پاناما کیس میں تین رکنی بینچ نے پہلے مرحلے میں ہی حتمی فیصلے کا حق محفوظ کرلیا تھا: جسٹس کھوسہ

پاناما کیس میں تین رکنی بینچ نے پہلے مرحلے میں ہی حتمی فیصلے کا حق محفوظ ...
پاناما کیس میں تین رکنی بینچ نے پہلے مرحلے میں ہی حتمی فیصلے کا حق محفوظ کرلیا تھا: جسٹس کھوسہ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ پاناما کیس میں تین رکنی بینچ نے پہلے مرحلے میں ہی حتمی فیصلے کا حق محفوظ کرلیا تھا۔

پاناما فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دو ججز نے بیانات اور تقاریر پر نواز شریف کو نا اہل کیا، فیصلہ دینے کے بعددو ججز بینچ کا حصہ نہیں بن سکتے تھے، 20 اپریل کے فیصلے پر عملدر آمد کیلئے انہی ججز کو بٹھایا گیا جنہوں نے فیصلہ دیا تھا۔

خواجہ حارث کے دلائل پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ تین رکنی بینچ نے نا اہلی کا اپنا فیصلہ دیا ہے، فیصلے کا پیرا چار واضح ہے جس میں لکھا ہے کہ تین رکنی بینچ نے فیصلہ دینا ہے، تین رکنی بینچ نے پہلے مرحلے میں حتمی فیصلے کا حق محفوظ رکھا، خواجہ صاحب! فیصلہ لکھنے والوں کو سمجھا رہے ہیں، آپ کا مقصد کیا ہے؟ فیصلہ لکھنے والوں کو معلوم ہے کہ کیا لکھا ہے۔

جسٹس کھوسہ کے ریمارکس پر خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ وہ کسی بھی فیصلے کی تشریح کر سکتے ہیں، فیصلے میں نہیں لکھا کہ فیصلہ دینے والے ججز ہی عملدر آمد بھی کرائیں گے، ’ آپ کا موقف مختلف ہو سکتا ہے لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں‘۔

مزید :

اسلام آباد -