”2018ءاور 2019ءمیں یہ ٹیم پاکستان آئے گی“ صرف ایک میچ سے نحوست کے بادل چھٹ گئے، نجم سیٹھی نے دوسرے میچ سے پہلے ہی پاکستانیوں کو سب سے بڑی خوشخبری آ گئی

”2018ءاور 2019ءمیں یہ ٹیم پاکستان آئے گی“ صرف ایک میچ سے نحوست کے بادل چھٹ گئے، ...
”2018ءاور 2019ءمیں یہ ٹیم پاکستان آئے گی“ صرف ایک میچ سے نحوست کے بادل چھٹ گئے، نجم سیٹھی نے دوسرے میچ سے پہلے ہی پاکستانیوں کو سب سے بڑی خوشخبری آ گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان اگلے تین سال تک ہر سال ورلڈ الیون کی میزبانی کرے گا جس میں مزید بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی شامل ہوں گے اور یوں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا تسلسل آ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔شیخ رشید کے ہاتھ میں موجود یہ لیڈیز پرس کس کا ہے؟شیخ رشید نے خود ہی راز سے پردہ اٹھادیا، ایسی بات کہہ دی کہ پورا پاکستان ہکا بکا رہ گیا

نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ”اب اگلے تین سال تک ہر سال ورلڈ الیون پاکستان آئے گی۔ یہ اس تسلسل کی پہلی سیریز ہے اور اس کے بعد 2018ءاور 2019ءمیں بھی سیریز ہوں گی۔ اور اگر سب کچھ ٹھیک ہوا تو پھر دیگر ملکوں کی ٹیمیں بھی پاکستان کی سرزمین پر کھیلیں گی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”جب یہ سیریز ختم ہو جائے گی تو سری لنکا نے بھی اگلے مہینے پاکستان میں ایک یا دو ٹی 20 میچ کھیلنے کی حامی بھری ہے اور پھر ویسٹ انڈیز نے بھی مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ نومبر میں 3 میچوں کی سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان آئیں گے۔“

پی سی بی اور پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ دو سال پہلے بورڈ ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا کہ اگر بین الاقوامی کھلاڑی آنے پر رضامند ہو جاتے تو انہیں کوئی نقصان پہنچتا۔ ان کا کہنا تھا ”اب ہم یقین کیساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور 90 سے 95 فیصد دہشت گردی ختم ہو چکی ہے۔ مناسب حالات نے بالعموم اور آئی سی سی نے بالخصوص بین الاقوامی کھلاڑیوں اس بات پر قائل کیا کہ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کیلئے حالات بہت بہتر ہیں۔“

یہ بھی پڑھیں۔۔۔شاہین آج پھر ورلڈ الیون سے ٹکرائیں گے،پاکستان کو سیزیر میں0-1کی برتری حاصل

انہوں نے کہا کہ ”اس سمت میں پہلا قدم یہ تھا کہ پاکستان میں کم از کم ایک میچ ضرور کروایا جائے اور اسی وجہ سے پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل میچ کرانے کیلئے دل و جان سے محنت کی۔ مختلف کرکٹ بورڈز سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی ماہرین آئی سی سی کے سیکیورٹی ماہرین کیساتھ لاہور آئے اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور پھر انہوں نے واپس جا کر اپنی رپورٹس پیش کیں۔ اور یہ سب کچھ ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کی وجہ بنا۔“

مزید :

کھیل -