فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 210

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 210
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 210

  

’’کنیز‘‘ کے کلائمکس کی فلم بندی کا قصہ ہمیں یاد آ رہا ہے۔ یہ فلم مختلف وجوہات کی بنا پر کافی لیٹ ہو گئی تھی۔ شوٹنگ کا سلسلہ تھا کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا تھا۔ اس کا تذکرہ آپ آگے پڑھیں گے۔ تمام مرحلے طے ہو چکے تھے۔ فلم کے کلائمکس کے بعد کا ایک مختصر لیکن اہم سین فلمانا باقی رہ گیا تھا۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران میں وحید اور محمد علی دونوں کو سچویشن کے اعتبار سے اپنی اپنی اداکاری کا مظاہرہ کرنے کا بھرپور موقع ملا تھا۔ کسی سین میں اگر محمد علی بڑھ چڑھ کر بولے تھے تو دوسرے سین میں وحید مراد نے محمد علی کو مہر بہ لب کر دیا تھا۔ فلم کا یہ قریب قریب آخری سین تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ اب محمد علی اور وحید مراد دونوں کو علم ہو چکا ہے کہ وہ دونوں بھائی ہیں۔ ایک ہی باپ اور ماں کا خون ان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور صبیحہ خانم ان کی ماں ہیں۔ وحید کو اس حقیقت کا محمد علی سے پہلے علم ہو چکا تھا اور بڑے بھائی کے ساتھ ان کے برتاؤ میں رشتے اور رتبے کے حساب سے تبدیلی آ گئی تھی لیکن محمد علی کو بہت دیر سے یہ حقیقت معلوم ہوئی تھی۔ اس دوران میں وہ اپنے خاندانی غرور اور امارت کی شان میں چُور تھے۔ اپنے چھوٹے بھائی کو بُرا بھلا کہنے کے علاوہ اس کی شادی کے معاملے میں بھی رکاوٹ پیدا کر چکے تھے۔ یہی نہیں‘ وہ اپنی ماں کو بھی ان جانے میں ذلیل و خوار کر چکے تھے۔ لیکن فلم کے کلائمکس کے منظر میں جب صبیحہ خانم عین ان کی شادی کے وقت محفل میں پہنچ کر یہ اعلان کرتی ہیں کہ’’ وہ محمد علی کی ماں ہیں اور اگر زیبا کی شادی وحید مراد سے محض اس بنا پر نہ کی گئی تھی کہ وہ ایک کنیز زادی کے بیٹے ہیں تو پھر یہی جرم محمد علی کا بھی ہے۔ وہ بھی ایک کنیز زادی کے بیٹے ہیں۔ میرے بیٹے ہیں‘‘۔ نواب صاحب (آغا طالش) صبیحہ کو پہچان گئے تھے مگر صاف مُکر گئے اور انہوں نے اپنی بہو کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا مگر ایک پرانے خاندانی ڈاکٹر (ساقی) نے صبیحہ کے حق میں گواہی دے کر محمد علی کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ صبیحہ ہی ان کی ماں ہیں۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 209 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نواب صاحب اپنے پوتے پر جان چھڑکتے تھے۔ اسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتے تھے۔ اسے ماں کی باتوں سے پگھلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اس کو پرچانے کی بہت کوشش کی مگر محمد علی نے بھری محفل میں اپنی ماں کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا اور نواب صاحب کے روکنے‘ محبت کے واسطے دینے اور منّت سماجت کرنے کے باوجود اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور سب کچھ چھوڑ کر ماں کے ساتھ چلے گئے۔

نواب صاحب نے پہلے تو محبت کے واسطے دیئے اور آخر میں تنگ آ کر دھمکی دے دی کہ وہ اس عورت کے ساتھ گئے تو وہ انہیں اپنی جائیداد اور وراثت سے عاق کر دیں گے۔

اس کے باوجود محمد علی باز نہ آئے۔ جاتے ہوئے انہوں نے صرف اتنا کہا ’’نواب صاحب! یہ عورت میری ماں ہے۔ اس کی خاطر میں آپ کی جائیداد تو کیا‘ ساری دنیا چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘

پھر انہوں نے صبیحہ سے مخاطب ہو کر کہا ’’آیئے امّی۔‘‘

صبیحہ خانم نے اس موقع پر زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکالا۔

اس سے پہلے ہی وہ بہت کچھ بول چکی تھیں اور ایسا بولی تھیں کہ اہل محفل ہی نہیں‘ سینما میں بیٹھے ہوئے فلم بینوں کے دلوں کی حرکت بھی ساکت ہو گئی تھی۔ جاتے ہوئے انہوں نے صرف ایک نظر اپنے ہارے ہوئے سسر کی جانب ڈالی۔ اس نگاہ میں مامتا کی فتح کا غرور بھی تھا اور بیٹے کی اپنائیت کا افتخار بھی۔ زندگی بھر کی کٹھنائیوں کے بعد یہ ایک لمحہ میّسر آیا تھا‘ جب انہیں اپنی محنت اور ریاضت کا صلہ ملا تھا۔ انہوں نے نواب صاحب کی حویلی سے نکالے جانے پر رخصت ہوتے وقت انہیں چیلنج کیا تھا کہ وہ اپنے دوسرے بیٹے پر کسی نواب کے نام کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گی مگر اسے ایک بہت بڑا آدمی بنا کر دکھا دیں گی۔ اس سین میں صبیحہ خانم کی اداکاری لازوال تھی اور طارق صاحب نے اس ایک خاموش کلوز اپ میں فلم کی ساری کہانی اور تھیم کو سمیٹ کر رکھ دیا تھا۔

ماں اپنے بیٹے کو لے کر چلی گئی اور نواب صاحب اپنے زخم چاٹتے رہ گئے۔ صبیحہ محمد علی کو ساتھ لے کر اپنے غریبانہ گھر میں پہنچیں جہاں ان کا چھوٹا بیٹا وحید مراد ان تمام ڈرامائی واقعات سے بے خبر غمگین اور دل شکستہ بیٹھا ہوا تھا۔

وہ فاتحانہ انداز میں کمرے میں داخل ہوئیں اور کہا ’’دیکھ بیٹا۔ میں تیرے لئے کیا لے کر آئی ہوں؟ میں تیرے بھائی کو لے آئی ہوں۔‘‘

وحید نے سر اٹھا کر بے یقینی سے دیکھا تو محمد علی دولہا کے زرق برق لباس میں‘ دروازے میں داخل ہو رہے تھے۔ طارق صاحب نے محمد علی کی ساری ندامت اور پشیمانی صرف ایک کلوز اپ میں سمو کر رکھ دی تھی جب محمد علی نے خاموش شرمندہ نگاہوں سے وحید مراد کی جانب دیکھا۔ ماں کے چہرے پر اگر فاتحانہ مسرت اور مامتا کا جلال تھا تو بڑے بھائی کے چہرے پر حزن و ملال‘ غم و اندوہ‘ احساس ندامت اور پچھتاوا صاف دیکھا جا سکتا تھا۔

کلائمکس کے سین میں صبیحہ خانم کا وہ کلوز اپ اور اس مختصر سے سین میں محمد علی کا یہ خاموش کلوز اپ کہانی کا حاصل تھا۔

وحید کو تو پہلے ہی علم تھا۔ دونوں بھائی بے اختیار بغل گیر ہوئے تو کیمرہ پھر صبیحہ خانم کے خاموش کلوزاپ پر چلا گیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر ملکوتی مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے تشکر بھری نگاہوں سے آسمان کو دیکھا اور دعا کیلئے صرف ہاتھ اٹھا کر رہ گئیں۔

محمد علی نے چھوٹے بھائی کے سامنے اظہار ندامت کرنا چاہا تو وحید مراد نے انہیں روک دیا اور کہا ’’بھیا! کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ میں خود بھی تو ان جانے میں آپ کو دکھ پہنچاتا رہا ہوں۔‘‘

یہ ایک مختصر سین تھا لیکن اسے آپ ’’حاصلِ فلم‘‘ کہہ سکتے ہیں۔

ایک معمولی سے فرنیچر سے محروم چھوٹے سے کمرے میں وحید مراد ایک کُھّری چارپائی پر بیٹھے ہیں۔ غریبانہ ماحول کا عکاس کمرہ ہر قسم کی آرائش سے محروم ہے لیکن صبیحہ اور محمد علی کے اندر داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے کہ کمرہ رنگ و نور سے معمور ہو گیا ہے۔

سین کی فلم بندی شروع ہونے سے پہلے جب ہم اس سیٹ پر پہنچے تو وحید مراد اور حسن طارق صاحب بات چیت میں مصروف تھے۔ ہمیں دیکھ کر طارق صاحب مسکرائے اور بولے ’’آفاقی صاحب! وحید کا کہنا ہے کہ اس سین میں انہیں کچھ کہنے اور کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ اب آپ انہیں سمجھایئے۔‘‘

ہم چارپائی کے سامنے والی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ گئے اور وحید مراد کی طرف دیکھا۔ وہ خاصے سنجیدہ نظر آ رہے تھے۔

کہنے لگے ’’آفاقی صاحب! میں طارق صاحب سے یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے بھی اس سین میں کچھ کہنا چاہئے۔ یہ سین تو سراسر محمد علی صاحب کا ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’یہ تو سچویشن کا تقاضا ہے۔‘‘

بولے ’’پھر بھی۔ میرے حصّے میں تو صرف ایک مکالمہ ہی آیا ہے۔ مجھے بھی کچھ بولنا تو چاہئے۔‘‘

ہم نے کہا ’’مثلاً آپ اس سین میں کیا کہیں گے؟‘‘

اس جوابی سوال سے وہ سٹپٹا سے گئے‘ پھر کہا ’’آپ رائٹر ہیں۔ یہ تو آپ بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہم جو سمجھتے تھے وہ ہم نے لکھ دیا۔ آپ بھی پڑھے لکھے اداکار ہیں۔ آپ مشورہ دیجئے کہ اس موقع پر آپ کو کیا کہنا چاہئے؟‘‘

انہوں نے چند لمحے سوچا پھر بے بسی سے ہماری طرف دیکھا۔

ہم نے کہا ’’دیکھئے وحید‘ ہم نے اپنی دانست میں کہانی اور تمام کرداروں سے پورا پورا انصاف کیا ہے۔ یہ مختصر سین کہانی کو نقطۂ اختتام تک پہنچانے کیلئے رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے مختلف مواقع پر آپ بھی خوب بول چکے ہیں اور محمد علی بھی بولنے کا حق ادا کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے والے سین میں صبیحہ بھابی نے بھی مکالمے بولنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ سب کچھ تو ہو چکا ہے‘ کہا جا چکا ہے اور دکھایا جا چکا ہے۔ آپ نے بھی انجانے میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ بہت کچھ کیا ہے۔ بہت کچھ کہا ہے۔ آپ بھائی کی محبت میں اپنی محبت اور اپنی منگیتر سے بھی دستبردار ہو چکے ہیں۔ اب اگر بڑے بھائی کو حقیقت کا علم ہو چکا ہے اور اس نے اسے تسلیم کر کے اپنی زیادتیوں کی تلافی کرنے کا اعلان کر کے اپنی ماں اور بھائی کو اپنا لیا ہے۔ دادا کی جائیداد کو ٹھوکر مار دی ہے۔ اپنی اناپرستی اور راج ہٹ سے باز آ چکا ہے اور اپنے ہاتھ سے زیبا کے ساتھ آپ کی شادی کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے تو اس موقع پر آپ کے کہنے کیلئے باقی کیا رہ جاتا ہے؟ آپ سوچ کر ہمیں بتایئے۔ ہم اسے مکالموں کی شکل دے دیں گے۔‘‘

وحید نے کچھ سوچا پھر مسکرائے اور بولے ’’آپ سے کون جیت سکتا ہے۔ آخر رائٹر ہیں نا‘‘

ہم نے پوچھا ’’اب تو سین سے مطمئن ہو نا؟‘‘

انہوں نے مسکرا کر گردن ہلا دی اور اس سین کی فلم بندی بڑی خوش اسلوبی سے مکّمل ہو گئی۔

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ یہ عجیب شخص ہے۔ ابھی فلم کے آغاز کا تذکرہ کر رہا تھا اور اچانک فلم کے آخری سین کا احوال بیان کرنے لگا۔ ہم پہلے سیٹ کی فلم بندی کا ذکر کر رہے تھے۔ اطمینان کی بات یہ تھی کہ اس سیٹ پر کئی روز تک شوٹنگ جاری رہی اور اس دوران میں محمد علی‘ زیبا اور وحید مراد تینوں یکجا بھی ہوئے‘ کامران مرزا اور طارق صاحب کو یہ دھڑکا بھی لگا رہا کہ دیکھئے کب بدمزگی کا آغاز ہوتا ہے مگر ایسی کوئی بات نہ ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک تو محمد علی اور زیبا دونوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے سیٹ پر بلاوجہ کے جھگڑوں سے پرہیز کریں گے۔ دوسرے یہ سبھی فن کار صبیحہ خانم کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انہوں نے بھی اپنی شفقت اور محبت بھرے برتاؤ سے ان تینوں کا دل موہ لیا تھا اور سیٹ پر ایک گھریلو سا ماحول پیدا ہو گیا تھا جس میں صبیحہ خانم کو سچ مچ گھر کی خاتون سربراہ کی حیثیت حاصل تھی۔

اس سیٹ پر کئی ڈرامائی اور سنجیدہ سین فلمائے گئے۔ یہ ایک ہیرو اور اس کی ماں کے گھر کا سیٹ تھا۔ ظاہر ہے کہ صبیحہ خانم کو کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل تھی اور جہاں وہ رہتی تھیں اسی جگہ بیشتر واقعات کو رونما ہونا تھا۔ مثلاً ایک وہ سین جب وحید دوڑے ہوئے ماں کو پکارتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور انہیں گود میں اٹھا کر چکّر دینا شروع کر دیتے ہیں۔

وہ پیار بھری ڈانٹ پلاتی ہیں ’’ارے ارے چھوڑ‘ کیا کر رہا ہے۔ میں گر جاؤں گی۔‘‘

وحید انہیں زمین پر کھڑا کر کے کہتے ہیں ’’امّی! میں پاس ہو گیا ہوں۔‘‘

صبیحہ تشکّر بھری نظروں سے آسمان کی طرف دیکھتی ہیں اور ان کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ جاتے ہیں۔ پھر وہ بیٹے کو پیار کرتی ہیں اور شاباش دیتی ہیں۔ جب وہ وحید کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتی ہیں تو وحید مراد ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کر چومنے لگتے ہیں مگر پھر اچانک ان کے کُھردرے‘ محنت کش ہاتھوں کو دیکھ کر غمزدہ ہو جاتے ہیں۔

صبیحہ کہتی ہیں ’’بیٹا! یہ ہاتھ اس بات کے گواہ ہیں کہ تیری ماں نے تیری پرورش کیلئے کسی کا احسان نہیں اٹھایا۔ خود محنت مزدوری کر کے تجھے پالا ہے۔‘‘

وحید کہتے ہیں ’’بس امّی! میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب میں آگے نہیں پڑھوں گا۔‘‘

صبیحہ اچانک حیران ہو کر انہیں دیکھتی ہیں ’’یہ کیا کہہ رہا ہے؟‘‘

’’ٹھیک کہہ رہا ہوں امّی۔ اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔ اب میں آپ کو کام نہیں کرنے دوں گا۔ میں پڑھائی چھوڑ دوں گا۔ نوکری کروں گا‘ محنت کروں گا مگر اب آپ کو کام نہیں کرنے دوں گا۔‘‘

صبیحہ غصّے سے اس کو دیکھتی ہیں ’’بڑا ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ مجھ سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ ماں سے گستاخی کرنے لگا ہے۔‘‘

وحید ایک دم شرمندہ ہو کر ماں کے ہاتھ تھام لیتے ہیں اور گلو گیر آواز میں کہتے ہیں ’’میرا یہ مطلب نہیں امّی۔ آپ کی حکم عدولی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘

ایک اور ڈرامائی سین میں ہیروئن کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر محمد علی‘ وحید مراد کو طعنہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں ’’میں اپنے سے کم تر لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا‘‘ پھر وہ وحید کو بتاتے ہیں کہ وہ ایک کنیز زادی کا بیٹا ہے۔

وحید غصّے سے بے قابو ہو کر محمد علی کا گریبان پکڑ لیتے ہیں اور دانت پیس کر کہتے ہیں ’’اگر میری ماں کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو میں جان سے مار دوں گا۔‘‘

محمد علی زہرخند کے ساتھ جواب دیتے ہیں ’’پہلے جا کر اپنی ماں سے پوچھو اور وہ جو بھی جواب دے وہ ہمیں بھی بتا دینا۔‘‘

وحید غصّے میں بپھرے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ زیبا انہیں پکارتی رہ جاتی ہیں اور ان کے پیچھے جانا چاہتی ہیں مگر ان کے والد (ادیب) انہیں روک دیتے ہیں ’’تم اپنے کمرے میں جاؤ۔‘‘

وہ تڑپ کر بے بسی سے دیکھتی ہیں اور بھاگتی ہوئی رخصت ہو جاتی ہیں۔ محمد علی کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ہے۔

وحید غصّے میں بھرے ہوئے اپنے گھر پہنچتے ہیں اور ماں کو بتاتے ہیں کہ محمد علی نے ان کے ساتھ کیا توہین آمیز سلوک کیا ہے۔ وہ محمد علی کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ صبیحہ بالآخر یہ اعتراف کر لیتی ہیں مگر بیٹے کے سامنے یہ وضاحت بھی کرتی ہیں کہ وہ خود بھی ایک نواب کا بیٹا ہے جس نے صبیحہ سے باقاعدہ شادی کی تھی مگر شوہر کی آنکھ بند ہوتے ہی اونچی حویلی والوں نے دھکّے دے کر باہر نکال دیا۔ وہ روتے ہوئے بتاتی ہیں کہ انہوں نے میرا بیٹا بھی مجھ سے چھین لیا جس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے کہ اب وہ کہاں ہے۔ کس حال میں ہے؟

وحید ماں سے پُرعزم لہجے میں کہتے ہیں ’’امّی مجھے فخر ہے کہ آپ میری ماں ہیں۔ دنیا والے چاہے کچھ کہیں‘ میرے لئے آپ ماں ہی رہیں گی۔‘‘

صبیحہ جو آج تک اس تصوّر سے سہمی ہوئی ہیں کہ حقیقت کا علم ہونے پر بیٹے کا کیا ردّعمل ہو گا فیصلہ کن انداز میں کہتی ہیں ’’دنیا والے کچھ بھی کہتے پھریں۔ اگرتُو مجھے ماں کہتا ہے تو پھر مجھے کسی کی پروا نہیں ہے۔ کسی کی پروا نہیں ہے۔‘‘

ایک اور منظر میں وحید غصّے میں بھرے ہوئے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور کوئی ہتھیار تلاش کرنے لگتے ہیں۔ صبیحہ گھبرا کر دیکھتی ہیں اور روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وحید ایک چھُرا نکال کر جانے لگتے ہیں۔ ماں انہیں پکڑ لیتی ہے۔

وحید کہتے ہیں ’’ امّی مجھے نہ روکیں۔ آج میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

’’کسے؟‘‘ وہ پریشان ہو کر دریافت کرتی ہیں۔

’’اس نے آج آپ کو گالی دی ہے۔ میں اس کا خون کر دوں گا۔‘‘

صبیحہ وحید کو روک لیتی ہیں ’’کس کا ذکر کر رہا ہے؟‘‘

’’وہی نواب زادہ۔ نہ جانے اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟ اپنے خون پر بہت ناز ہے۔ آج میں اس کو اسی کے خون میں نہلا دوں گا۔‘‘

صبیحہ بے اختیار وحید کے منہ پر تھپڑّ مارتی ہیں اور روتے ہوئے کہتی ہیں ’’اختر! وہ تیرا بڑا بھائی ہے۔ میرا بیٹا ہے۔‘‘

وحید کا تاثر انتہائی بھرپور ہے۔ وہ بے یقینی‘ یقین‘ بے بسی اور اچانک صدمے کے اثر سے ساکت رہ جاتے ہیں اور زیرلب کہتے ہیں۔ ’’میرا بھائی! وہ میرا بھائی ہے؟‘‘

کچھ اور سین بھی ایسے ہیں جنہیں فن کاروں نے غیر فانی بنا دیا ہے۔ ایک سین میں جب محمد علی (انور) وحید کے گھر آتے ہیں اور صبیحہ انہیں پیار سے بیٹا کہتی ہیں تو وہ جذباتی ہو جاتے ہیں۔ انہیں ہوش سنبھالنے پر یہ بتایا گیا ہے کہ تمہارے ماں باپ مر چکے ہیں اور وہ ماں کی محبت کو ترسے ہوئے ہیں۔

وہ صبیحہ سے کہتے ہیں ’’آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی ماں یاد آ جاتی ہیں۔‘‘

صبیحہ محبت سے پوچھتی ہیں ’’کہاں ہیں تمہاری ماں؟‘‘

وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ’’وہاں‘‘ پھر بھیگی ہوئی آواز میں کہتے ہیں ’’میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

صبیحہ اچانک اداس ہو جاتی ہیں۔ آخر وہ بھی ایک بچھڑے ہوئے بیٹے کی ماں ہیں۔

محمد علی بے ساختہ پوچھتے ہیں ’’کیا میں آپ کو ماں کہہ سکتا ہوں؟‘‘

وہ پیار بھرے لہجے میں کہتی ہیں ’’کیوں نہیں‘ میں بھی تو تمہاری ماں کی طرح ہوں۔‘‘

ماحول انتہائی غمگین ہو چکا ہے کہ اچانک وحید اپنی طبیعت کے مطابق شرارت سے بول پڑتے ہیں ’’لو بھئی‘ تم نے تو ہماری امّی پر بھی قبضہ جما لیا۔‘‘

سب اچانک ہنس پڑتے ہیں اور ماحول ایک بار پھر پُرمسرت ہو جاتا ہے۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 211 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -