قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 63

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 63
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 63

  

خوشترگرامی

ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہونے والی جنگوں سے پہلے دہلی میں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ یہ سلسلہ 1956 ء سے لے کر 1961 ء تک باقاعدہ رہا۔ یوں وہاں کثرت سے آنا جانا رہا اور اس دوران وہاں دہلی کلاتھ مل کے مشاعروں میں شرکت کا موقع بھی ملا۔دہلی کلاتھ مل والوں کی لائل پور میں بھی ایک کلاتھ مل تھی جسے لائل پور کاٹن مل کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ ہر سال بہ اہتمام ایک ہندو پاک مشاعرہ باقاعدگی سے دہلی میں کرواتے تھے اور ایک مشاعرہ لائل پور میں کرواتے تھے ۔ اس طرح ادھر کے شاعر ادھر اور ادھر کے شاعر ادھر کثرت سے آتے جاتے تھے۔

میں ایک ایسا شاعر تھا جسے ہر مشاعرے میں دونوں جگہ بلوایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں روی چوپڑا دہلی کلاتھ مل کے پبلک ریلیشنگ آفیسر تھے۔ یہ لاہور کے رہنے والے تھے اور لاہور کی ایک لڑکی سے ان کی شادی ہو چکی تھی۔ اس کے بھائی یہاں سیکرٹری لیول کے آدمی تھے۔ یہ لڑکی گلبرگ کی رہنے والی تھی اور سب ماڈرن لوگ تھے ۔ اس لئے جب شادی ہو گئی تو کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوا ۔ دہلی میں بھی یہ میاں بیوی بچوں کے کے ساتھ رہ رہے تھے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 62  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان کے علاوہ اس کلاتھ مل کے لاہور ہی سے متعلق ایک اور معتمد افسر ساہنی تھے۔ ان دونوں افسران کی وجہ سے وہاں کے مشاعرے میں بڑی گہما گہمی ہوتی تھی ۔ ایک تو دہلی کلاتھ مل والے شاعروں کو اچھے ہوٹلوں میں ٹھہراتے تھے اور دوسرے کھانے وغیرہ کا خاص انتظام ہوتا تھا۔ وہاں مشاعرے کی بھی دو الگ الگ نشستیں ہوتی تھیں ایک مزدوروں کے لئے اور دوسری خاص خاص لوگوں کیلئے ۔ مشاعرہ بہت بڑے پنڈال میں ہوتا تھا۔

جو عورتیں مل والوں کی طرف سے ہوتی تھیں وہ اپنی جگہ ۔ لیکن اس کے علاوہ روی چوپڑا اور ساہنی صاحب بھی اپنے اپنے ہاں پاکستانی شاعروں اور اپنے دوست ہندوستانی شاعروں کو دعوت پر بلواتے تھے۔ افسوس یہ ہے کہ پچھلی بار جب میں تین سال پہلے دہلی مشاعرے میں گیا تو یہ دونوں صاحبان فوت ہو چکے تھے۔ ان لوگوں کے پاکستانی سفارتخانے کے افسروں سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ یہ 1961 ء سے پہلے کی بات ہے ۔ اس زمانے میں ایک دعوت سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹریوں کی طرف سے اور ایک دو دعوتیں سفارت خانے ہی کے دوسرے ایک دو افسروں کی طرف سے ہوتی تھیں۔ ان دعوتوں میں گھریلو ماحول ہوتا تھا اور چھوٹی چھوٹی نشستیں ہوتی تھیں۔ اسی طرح ہم لوگ مشاعرے کے بعد بھی وہاں ہفتہ عشرہ گزارتے تھے۔

دہلی میں اور اچھے لوگوں کے علاوہ خوشتر گرامی کی ذات بڑی دلچسپ تھی۔ وہ رسالہ ’’بیسوی صدی ‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ یہ رسالہ شروع میں لاہور سے نکلا تھا لیکن پارٹیشن کے بعد یہ پرچہ اور خوشتر گرامی دونوں دہلی منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے سالک صاحب سے لے کر نیچے تک سبھی لوگوں سے تعلقات تھے اور ان کے دوستوں کی اکثریت لاہور ہی سے تھی جو زیادہ تر مسلمان تھے۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ شراب سے نفرت کرتے تھے اور گوشت سے محبت کرتے تھے۔ مچھلی اور مرغی ان کا من بھاتا کھانا تھا اور وہ اقبال کے اس شعر کو تحریف کر کے پڑھا کرتے تھے ۔ اصل شعر تھا:

تری دنیا جہانِ مرغ و ماہی

مری دنیا فغانِ صبح گاہی

وہ کہا کرتے تھے:

مری دنیا جہانِ مرغ و ماہی

تری دنیا فغانِ صبح گاہی

وہ کسی کی دعوت کرتے تھے تو رقعہ میں لکھتے تھے کہ امید ہے کہ آپ اس دعوت مرغ و ماہی میں تشریف لائیں گے۔ وہ کثرت سے مرغ اور مچھلی پکایا کرتے تھے۔ میں نے ان کی دعوت تو بہت سی کھائی ہوئی تھیں۔ لیکن غلط فہمی کی بنا پر انہوں نے جس دعوت کا اہتمام کر دیا وہ ایک اور ہی دعوت تھی۔

میرے ساتھ میرے سندھ کے ایک دوست فضل علی شاہ جا موٹ تشریف لے گئے۔ ان کی سندھ کی ایک بڑی فیملی ہے۔ نہیں فلم میکنگ اور اداکاری کا بہت شوق تھا۔ یہ ایس گل کے نام سے فلم انڈسٹری میں آئے ۔ فلم ’’ بیقرار ‘‘ بنائی پھر ’’التجا ‘‘ اور ایک دو دوسری فلمیں بھی بنائیں ۔ میرے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی تھے اور کاروباری تعلقات بھی۔۔ان کے ساتھ ایک بار طے پایا تھا کہ ہم دہلی جائیں گے اور وہاں کی سیر کریں گے۔ چنانچہ جب ہم دہلی گئے تو خوشتر صاحب سے ملنے کیلئے دہلی گئے۔ وہ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ ان کا انداز یہ تھا کہ جب ایک چیز کا ذکر آجائے تو وہ اس کا پورا شجرہ نسب بتا کر بات ختم کرتے تھے۔ مثال کے طور پر اگر وہ پوچھتے کہ چائے پئیں گے۔ ہم کہتے پئیں گے۔ اب وہ چپڑاسی کو بلاتے اور کہتے کہ کرپار ام ادھر آؤ ۔ اسے کہتے کہ یہ مہمان لاہور سے آئے ہیں۔ پھر پوچھتے کہ یہ کہاسے آئے ہیں وہ کہتا کہ لاہور سے ۔ پھر کہتے کہ لاہور میرا وطن ہے اور یہ پاؤڈر والی چائے نہیں پئیں گئے۔ اس لئے تم فلاں حلوائی کے پاس جاؤ اور اسے بتاؤ کہ خوشتر صاحب کے مہمان لاہور سے آئے ہیں ان کیلئے چائے بنانی ہے ۔ اور دودھ چاہیے جو پاؤڈر والا نہ ہو۔

جب چپڑاسی رخصت ہو ا ور دروازے تک پہنچا تو اسے دوبارہ آواز دی ’’کر پارام ‘‘ میں نے کیا کہا تھا وہ پوری بات دہرائے گا پھر چلا جائے گا۔ اس کے جانے کے بعد کہنے لگے اس کو جس حلوائی کے پاس بھیجا ہے‘ آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ لوہاری دروازے کے اندررام چند حلوائی ہوتاتھا ۔ وہ پارٹیشن کے بعد یہاں آگیا تھا اور اب مر گیا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے ۔ ان کی دوکان بہت چلتی ہے کیونکہ یہ گوالوں سے دودھ نہیں لیتے بلکہ انہوں نے اپنی بھینسیں رکھی ہوئی ہیں اور جب آدمی دودھ دو ہتا ہے تو یہ خود سر پر کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان کی چالیس بھینسیں ہیں جن میں سے اتنے من دودھ نکلتا ہے ۔ اس نے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرنا گناہ سمجھا ہوا ہے اور سرکاری آدمی لوگوں کے سامنے آکر ان کا دودھ ٹیسٹ کرتا ہے۔ پھر اس دودھ سے اس کی جو مٹھائیاں بنتی ہیں ان کا تو جواب نہیں۔

غرضیکہ ایک اتنی لمبی چوڑی داستان سنانے کے بعد کہنے لگے کہ یہ دودھ وہاں سے آئے گا۔ پھر دودھ کے آتے آتے جو مٹھائی منگوار ہے تھے اس کا شجرہ نسب مجھے سنا دیا۔ غرض جب تک چائے تیار ہو گی وہ چائے کے اجزاء اور چائے کے ساتھ پیش کی جانے والی اشیاء کے شجرہ نسب بیان کرتے رہیں گے۔

اس بار جب ان کے پاس گئے تو وہ ہمیں دعوت کا کہنا بھول گئے اور اپنے دل میں بات نہیں آسکتی تھی۔ اس لئے ہم ملاقات کے بعد ان کے پاس سے اُٹھ کر آگئے ۔ اگلے دن ہم اپنے پروگرام کے مطابق گھومے پھرے اور شام کو کسی دوست کے ہاں دعوت بھی کھائی۔ اس سے اگلے دن ہم ایک اور تقریب میں گئے تو کچھ دوستوں نے سخت شکایت کے لہجے میں کہا کہ آپ نے خوشتر صاحب کے ساتھ کیا کیا ہے۔ انہوں نے کل رات آپ لوگوں کے لئے دعوت کا بندوبست کیا ہوا تھا لیکن آپ آئے ہی نہیں اور کہنے لگے کہ انہوں نے تو آپ کے اعزاز میں اتنے آدمی بھی بلا رکھے تھے۔

ہم اسی وقت خوشتر صاحب کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ آپ ہمیں لوگوں میں کیوں بدنام کر رہے ہیں۔ آپ نے کب ہماری دعوت کی تھی۔ کہنے لگے کہ پرسوں جب آپ آئے تھے تو میں نے آپ سے کہا تھا ۔ ہم نے کہا کہ جی آپ نے کب کہا تھا۔ آپ تو مٹھائیوں کا شجرہ نسب اور دودھ کی ذات پات بتاتے رہے تھے۔ کہنے لگے کہ نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نے آپ کو دعوت کا نہ کہا ہو۔ میں نے تو آتے ہی آپ سے یہ کہا تھا۔

خیر جب ٹھنڈے ہوئے تو لطیفوں پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ رات جب بہت دیر انتظار کے باوجود آپ لوگ نہیں آئے تو جن دس پندرہ دوسرے دوستوں کو میں نے بلوایا ہوا تھا۔ انہیں کھانا کھلا کر رخصت کر دیا اور خود پھر بھی آپ لوگوں کا انتظار کرتا رہا۔ اس دوران ہمارے ایک اور دوست آگئے۔ میں ان کا نام یہاں نہیں بیان کروں گا کیونکہ وہ بہت معزز آدمی تھے۔ تو کہنے لگے کہ ان دوست کو میں نے آپ لوگوں کے دعوت میں نہ آنے کا واقعہ سنایا۔ وہ سن کر پریشان ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے قتیل صاحب اور ان کے دوست کا کھانا ابھی تک رکھا ہوا ہے مگر وہ نہیں آئے اور اب تو میں وہ کھانا کتوں کو ڈالنے والا تھا ۔ اب آپ آگئے ہیں تو آپ کھالیں۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 64 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -