وہ یادگار لمحہ جب بھٹو طلباء کی دعوت پر چائے پینے آئے

وہ یادگار لمحہ جب بھٹو طلباء کی دعوت پر چائے پینے آئے
وہ یادگار لمحہ جب بھٹو طلباء کی دعوت پر چائے پینے آئے

  

انسانی زندگی حالات و واقعات کا مجموعہ ہوتی ہے ۔زیادہ عام واقعات وقت کے ساتھ ساتھ ہی ذہن سے ختم ہوتے جاتے ہیں لیکن خاص واقعات تو عمر بھر ساتھ دیتے اور ذہن میں محفوظ رہتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسے لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔

میں اس وقت پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں ایم اے سال دوئم کا طالبعلم تھا اور اب جبکہ مجھے سروس سے ریٹائر ہوئے بھی دس سال کا عرصہ بیت چکا ہے، یہ واقعہ ایسے لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہم پولیٹیکل سائنس کے طلباء نے مل کر فیصلہ کیا کہ بھٹو صاحب کو چائے پر بلایا جائے۔ ان کے انقلابی پروگرام کے متعلق معلوم کیا جائے کہ ہمیں کہاں تک متاثر کرے گا اور ہم نے مزید فیصلہ کیا کہ ہر طالبعلم دس روپے دے تو مطلوبہ رقم اکٹھی ہوسکتی ہے اور بھٹو صاحب کی چائے کے اخراجات پورے کئے جاسکتے ہیں۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے طلبا کے علاوہ ہر طالبعلم نے 10 روپے فوراً دے دئیے۔ ہم نے لاہور کے مال روڈ پر واقع ہوٹل جس کا نام لارڈز تھا، میں انتظام کرلیا اور بھٹو صاحب کو شام کے وقت چائے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔ راشد بٹ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے صدر تھے ،وہ چند دوسرے طلباء کے ساتھ بھٹو صاحب کو جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے لینے کے لئے چلے گئے اور ہم ہوٹل میں ہی ان کا انتظار کرنے لگے۔

طلبا قطار میں کھڑے انتظار کررہے تھے جب وقت مقررہ پر بھٹو صاحب تشریف لے آئے ۔راشد بٹ نے ایک ایک طالبعلم کا تعارف بھٹو صاحب سے کرا یا۔ ہر طالبعلم سے وہ فرداً فرداً ہاتھ ملا کر خاموشی سے ایک خالی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ہم طالبعلم بھٹو صاحب سے کافی متاثر تھے کیونکہ ان میں اس وقت کوئی تکبر یا غرور نام کی چیز نہیں تھی۔ یہی بات میں نواز شریف کے متعلق بتاتا ہوں۔ یہ 1997ء کا واقعہ ہے ۔وہ الیکشن جیت چکے تھے لیکن اقتدار ابھی منتقل نہیں ہوا تھا، ایک رات وہ اپنے بھائی عباس کو جہاز میں بٹھانے کے لئے لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچے۔ جب وہ سکیورٹی چیکنگ کے افسر کے پاس پہنچے تو امیگریشن افسر نے انہیں روک لیا اور بتایا کہ آپ نہیں جاسکتے کیونکہ آپ کا نام ای سی ایل پر ہے۔ نواز شریف نے اس افسر کو دھمکی دی کہ میں اقتدار میں آکر تجھے نوکری سے نکال دوں گا۔ تجھے پتہ نہیں میں کون ہوں؟ امیگریشن افسر نے جواب دیا ’’ جناب آپ تو مجھے اقتدار میں آنے کے بعد ہی نوکری سے نکالیں گے لیکن اگر میں ای سی ایل پر نام ہونے کے باوجود آپ کے بھائی کو جانے دوں تو صبح ہی گرفتارکرلیا جائے گا اور قید بھی بھگتنا پڑے گی اور نوکری سے بھی نکالا جاؤں گا‘‘

نواز شریف نے شیر دل کوجو نئے نئے سیکرٹری وزارت داخلہ بنے تھے اور وہ اس وقت لاہور میں ہی تھے،سے کہا کہ وہ اس امیگریشن افسر کو کہے کہ عباس کو جانے دے ۔اس کے جہاز جانے میں 15 سے 20 منٹ رہتے ہیں۔ شیر دل نے جب امیگریشن افسر کو عباس کے جانے کے متعلق کہا تو اس نے جواب دیا ’’ سر میں آپ سے زیادہ واقف نہیں ہوں۔ ‘‘اس نے میرا نام لے کر کہا ’’وہ ہم کو وزارت داخلہ میں ڈیل کرتے ہیں۔ اگر وہ کہہ دیں تو میں عباس شریف کو جانے کی اجازت دے سکتا ہوں‘‘ شیر دل نے مجھے اسلام آباد میں فون کیا۔ اس وقت رات کا تقریباً ایک بج رہا تھا۔ شیر دل نے مجھے کہا’’ نواز شریف کا بھائی (یوکے) جارہا ہے مگر اس کا نام ای سی ایل پر ہے، اس لئے وہ جا نہیں سکتا۔ تم اسے کہہ دو کہ اسے جانے دے۔ صبح میں آکر منظوری دے دوں گا‘‘

میرے کہنے پر نواز شریف کے بھائی کو امیگریشن افسر نے جانے کی اجازت دے دی۔ نواز شریف نے میرا نام یاد رکھا اور جب وہ زیراعظم بنا تو سیکرٹری کو میرے خلاف ڈسپلنریری ایکشن لینے کو کہا۔ اس وقت شیر دل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور ہمارے سیکرٹری جیون خان تھے۔ شیر دل نے میرے حق میں بات کی اور کہا ’’سر یہ افسر بالکل کرپٹ نہیں ہے۔ اس کی ایمانداری تو وزارت داخلہ میں شہرت یافتہ ہے‘‘

اس طرح شیر دل کے طفیل میری نوکری بچی۔ اس پس منظرمیں دیکھتا ہوں توبھٹو میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ بہرحال بھٹو صاحب کے بیٹھنے کے بعد یونین سیکرٹری نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئیے۔ سیکرٹری نے سٹیج پر آکر صدر یونین راشد بٹ کو سپاس نامہ پیش کرنے کی دعوت دی۔ راشد بٹ نے سٹیج پر روسٹرم کے سامنے بھٹو صاحب کی خدمت میں سپاس نام پیش کیا۔ ایک مقام پر جب راشد بٹ نے یہ کہا کہ بھٹو صاحب ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ تھے تو وہ امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے ہوئے تھے ۔اس وقت کینڈی جو بعد میں قتل ہوا، امریکہ کا صدر تھا۔ بھٹو صاحب اس سے ملے ،دوران ملاقات بھٹو صاحب سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ایک مقام پر رک کر کہنے لگے ’’مسٹر بھٹو اگر تم امریکی شہری ہوتے تو میں تمہیں اپنا وزیر خارجہ بناتا‘‘ بھٹو صاحب نے فوراً جواب دیا ’’نو سر اگر میں امریکی شہری ہوتا تو میں وزیر خارجہ کی بجائے آپ کی جگہ ہوگا‘‘ طلباء نے خوش ہوکر زور زور سے تالیاں بجائیں اور داد دی۔ اس کے بعد راشد بٹ اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے اور سیکرٹری نے بھٹوصاحب کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔ بھٹو صاحب اُٹھ کر روسٹرم پر آئے اور طلبا سے خطاب کیا اور پوچھا’’ اردو میں تقریر کروں یا انگریزی میں‘‘

لڑکوں نے یک زبان ہوکر کہا ’’انگریزی میں‘‘ لیکن چند لڑکے کہہ رہے تھے ’’اردو میں‘‘ جب انگریزی اور اردو کی تکرار جاری تھی تو میں نے آہستہ سے کہا’’ پنجابی میں‘‘ بھٹو صاحب نے فوراً جواب دیا’’ پنجابی میں بھی کروں گا لیکن اس وقت مجھے انگریزی میں تقریر کرنے دی جائے‘‘

لڑکوں نے کہا ’’ٹھیک ہے‘‘ بھٹو صاحب نے انگریزی میں تقریر شروع کی، انگریزی میں تقریر کیا تھی ان کے منہ سے جیسے پھول جھڑرہے تھے۔ تقریر میں بھٹو صاحب نے مجیب الرحمن کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی ہم یحییٰ کے مقررہ وقت سے پہلے ہی کسی فارمولے پر اتفاق رائے پیدا کرلیں گے اور جلد ہی عوام کو مارشل لاء سے نجات دلائیں گے۔ اس پر لڑکوں نے زوردار تالیا ں بجائیں۔ انہوں نے مزید کہا’’ ہماری ٹیم پہلے ہی ڈھاکہ روانہ ہوچکی ہے جہاں وہ مجیب الرحمن کی پارٹی کے لوگوں سے آنے والے وقت کی دستوری پچیدگیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی‘‘

اس کے بعد تعلیمی اصلاحات پر کچھ باتیں ہوئیں اور آخر میں ا ن کو چائے کی دعوت دی گئی۔ بھٹو صاحب لڑکوں میں گھل مل گئے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے جاتے تھے۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے ’’تمہیں پنجابی زیادہ پسند ہے‘‘ میں بہت حیران ہوا کہ میں نے تو ہلکی سی آواز میں کہا تھا۔ انہوں نے کیسے پہچان لیا۔ میں نے کہا’’ سرزیادہ فکر کی بات نہیں۔ میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا۔ میرا مطلب ہرگز نہیں تھا کہ آپ پنجابی میں تقریر کریں‘‘

کہنے لگے ’’ایک اچھے بیٹسمین کو ملک کی تمام بڑی زبانوں پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کم از کم تقریر کی حد تک تو ضروری ہے۔ تم نے اچھی تجویز دی میں پشتو کے ساتھ پنجابی بھی سیکھنا شروع کروں گا تاکہ ہر صوبے میں ان کی نجی زبان میں تقریر کرسکوں‘‘ یہاں ہمیں ایک اچھے سیاستدان اور فوجی ذہن کا فرق پتہ چلتا ہے۔ فوجی ذہن ماضی کے ساتھ حال میں کم رہتا ہے جبکہ سیاست دان آنے والے سالوں پر نظر رکھتا ہے۔

چائے تقریر ختم ہوچکی تھی اور سیر حاصل بحث بھی ہوچکی تھی۔ پھر بھٹو صاحب نے جانے کی اجازت طلب کی کیونکہ ساڑھے سات بجے انہوں نے کسی اور کو وقت دیا ہوا تھا ملاقات کا۔ ان خوشگوار لمحات پر بھٹو صاحب رخصت ہوئے۔ طالبعلموں نے پرتپاک طریقے سے انہیں رخصت کیا ۔

( ظفر اللہ اقبال ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں،اپنی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی کے واقعات پر قلم اٹھاتے ہوئے وہ تاریخ کا وہ پہلو بھی دکھا دیتے ہیں جو عام طور پر اوجھل ہے۔پرانے زمانے کی تہذیب وتمدن کا چہرہ بھی تازہ کردیتے ہیں۔ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے numanzafar@hotmail.com)

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -