ہمیں پیار ہےپاکستان سے!

ہمیں پیار ہےپاکستان سے!

6ستمبر یوم دفاع پاکستان کے موقع پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے افواج پاکستان سے یکجہتی کے لئے 'ہمیں پیار ہے پاکستان سے'کے زیر عنوان ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا تھا۔اس تقریب کا بنیادی مقصد نئی نسل میں اخوت ٗ یگانگت ٗ محبت اور وحدت بیدار کرنا تھا ۔یہ تقریب تین حصوں پر مشتمل تھی۔پہلے حصے میں خطبہ استقبالیہ اور تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کرنا ٗ دوسرے حصے میں جنگ ستمبر کے شہدا اور غازیوں کے کارناموں اور اُن کی قربانیوں پر تبصرہ کرنے کیلئے "ٹاک شو"کا اہتمام جبکہ تقریب کے تیسرے مرحلے میں شہدا کی فیملیز کے ساتھ ملی نغموں کے ذریعہ اظہار یکجہتی شامل تھی۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبولؐ کا ہدیہ پیش کرنے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد وسیم نے جبکہ نعت پیش کرنے کی سعادت علینہ نور نے حاصل کیا۔خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج یونیورسٹی کا آڈیٹوریم کا مرکزی ہال سمیت گیلری بھی بھری ہوئی ہے اور کافی سارے طلبہ سائیڈوں پر کھڑے بھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اتنی کثیر تعداد میں طلباء کا اجتماع ایک زندہ قوم کی دلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید مرتے نہیں ٗ آج جنگ ستمبر کے شہداء ہمیں دیکھ رہے ہیں کہ قوم اُن کی بہادری اور شجاعت کے تذکرے کررہی ہے۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ جنگ ستمبر میں ہماری افواج نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کے جارحانہ اور ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا تھا ۔انہوں نے کہا کہ قوم اپنے شہدا کی لازوال قربانیوں کو کبھی نہیں بھلا سکتی ہے۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج تجدید عہد کا دن ہے ٗ آج ہمیں اپنے راستوں اور منزلوں کا تعین کرنا ہوگا کہ ہم نے زندگی میں کس چیز کو فوقیت دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دشمن کے ہتھیاروں کا مقابلہ حصول تعلیم سے کرنا ہوگا۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے جوانوں سے کہا کہ حصول تعلیم اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔وائس چانسلر کے خطاب کے بعد مباحثہ )ٹاک شو(شروع ہوا جس میں سابق چیف ائیر سٹاف ٗ سہیل امان ٗ لیفٹیننٹ جنرل )ریٹائرڈ(امجد شعیب ٗ معروف شاعر و مصنف ٗ افتخار عارف ٗ وائس چانسلر اوپن یونیورسٹی ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید میجر پرویز صدیق )تمغہ بسالت(کے والدین اور شہید لانس نائیک غضنفر علی کی بیوہ سائرہ تبسم نے اپنے بچوں کی ہمراہ شرکت کی تھی۔پروگرام 45منٹ مباحثے کا اہتمام پی ٹی وی نے کیا تھا ٗ میزبانی کے فرائض ٹیلی ویژن اینکر ناہید چوہدری نے ادا کی تھی۔مباحثے کا آغاز ٹی وی اینکر کی جانب سے6۔ستمبر 1965کو دشمن کے حملے اور پاکستانی دفاع سے متعلق سوال پوچھنے سے ہوا۔سابق چیف ائیر سٹاف ٗ سہیل امان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے ٗ ہم پر جنگ مسلط کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ6ستمبر 1965ء کی رات کے اندھیروں میں دشمن کے ہوا بازوؤں نے اچانک ہمارے پیارے وطن پاکستان پر حملہ کیا جس کے جواب میں ہمارے پاک ائیرفورس کے طیاروں نے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کیا ٗ اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ہمارے طیارے بھارت کے اندر گئے اور اُن کو شکست سے دوچار کیا۔ملی نغموں کی اہمیت اور میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے افتخار عارف نے کہا کہ جنگ ستمبر میں افواج پاکستان کی بعد سب سے اہم کردار میڈیا ہی کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان نغمے سناتا رہا ٗ نورجہاں ٗ امانت اور فتح علی خان کے ڈراموں نے بھی بہت اہم کردا ر ادا کیا تھا۔افتخار عارف نے کہا کہ 65ء کی جنگ میں پاکستانی ادب نے اپنی شناخت حاصل کرلی تھی۔

ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بتایا کہ ہمیں نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ آزادی کتنی مشکل سے حاصل کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی حاصل کرنا مشکل کام تھا لیکن اِسے برقرار رکھنا اُس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ نوجوانوں میں وطن سے محبت کا جذبہ اجاگر کرنے کے لئے جنگ ستمبر کا باب نصابات میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہن سازی کے لئے اُن کو اِس طرح کے سیمینارز اور شہداء کی فیملیز کے ساتھ گفتگومیں مدعو کرنا بھی ضروری ہے۔ٹاک شو کے درمیان میں ٹی وی اینکر ناہید چوہدری نے تقریب میں شامل شہداء کی فیملیز سے اُن کے خیالات و احساسات اور اُن پر گزرے ہوئے لمحات کے بارے میں دریافت کیا۔

راقم بلاخوف و تردید کہتا ہے کہ جنگ ستمبر میں افواج پاکستان کی عظیم قربانیوں ٗ اتفاق و اتحاد اور یکجہتی اورعوام کے جذبوں اور وطن سے محبت کا جو سبق ہمیں اوپن یونیورسٹی کی اس تقریب سے ملی ٗ اتنی ہمیں سکول ٗ کالجز کی کتابوں سے نہیں ملی تھی۔تعلیمی اداروں میں اوپن یونیورسٹی کے طرز پر اس طرح کے تقاریب نئی نسل کی آگائی کے لئے ضروری ہے۔

سابق چیف ائیر سٹاف ٗ سہیل امان نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ہم نے اپنے پاؤں کھڑے ہونے کا مصمم ارادہ کیا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں کسی اور کا مرہنون منت نہیں ہونا چاہئیے۔ہمیں کسی کے ہتھیار کسی کی مالی ضرورت نہیں ٗ ہم اپنی تمام ضروریات اپنے وسائل سے پورا کریں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل )ریٹائرڈ(امجد شعیب نے کہا کہ چند روز قبل جب امریکہ نے پابندی لگائی تو چیف آف آرمی سٹاف ٗ قمر جاوید باجوہ نے جواب دیا کہ ہمیں نہ آپ کی مالی امداد چاہئیے نہ ہتھیار۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مضبوطی کے لئے خود انحصاری کی پالیسی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے مابین کبھی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے جنگ کا روایتی طریقہ ترک کردیا ہے ٗ اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہمیں پسپا کرنا چاہتے ہیں۔امجد شعیب نے نوجوانون سے کہا کہ آپ سوشل میڈیا کے ٹارگٹ نہ بنیں اور نہی ہی اس کے ایکٹر بنیں۔

ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیمینارز ٗ تقاریب اور شہداء کی فیمیلیز کے ساتھ گفتگو سیریز کے ذریعہ وطن عزیز کی دفاع کے لئے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرتی رہے گی اور نئی نسل میں وطن کا جذبہ اجاگر کرتی رہے گی ۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ آزادی کتنی مشکل سے حاصل کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دشمن کے ہتھیاروں کا مقابلہ حصول تعلیم سے کرنا ہوگا۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے جوانوں سے کہا کہ حصول تعلیم اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی زبان و ادب کے فروغ سے نوجوانوں کی ذہن سازی کرتی رہے گی۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیمینارز ٗ تقاریب اور شہداء کی فیمیلیز کے ساتھ گفتگو سیریز کے ذریعہ وطن عزیز کی دفاع کے لئے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرتی رہے گی ۔

تقریب کے تیسری مرحلے میں طلبہ و طالبات نے ملی نغموں سے جوانوں کے جذبوں کو خوب گرمایا۔ آڈیٹوریم میں بیٹھے تمام طلبہ و طالبات ملی نغموں کے دوران پاکستان کی جنڈیاں لہراتے رہے۔

مزید : ایڈیشن 1