کلثوم نوازکا سفرِ زیست

کلثوم نوازکا سفرِ زیست

ایک سال سے زیادہ عرصے سے لندن کے کلینک میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز شریف بالآخر زِندگی کی بازی ہار گئیں،اِس دُنیا میں آنے والے ہر مرد و زن کو چاہے وہ صاحبِ ثروت ہو یا غربت و عسرت کی زندگی گزار رہا ہو، بہرحال اپنی ابدی زندگی کی طرف سفر کرنا ہوتا ہے، سو کلثوم نواز بھی کینسر سے لڑتے لڑتے اِس پر روانہ ہو گئیں، اُن کے لواحقین،عزیز و اقارب اور سیاسی سفر میں اُن کے ساتھی خواتین و حضرات دُکھی ہیں اور غمزدہ خاندان کو دلاسا دے رہے ہیں، مرحومہ کے اسیر شوہر نواز شریف، اُن کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کو اڈیالہ جیل سے پیرول پر رہائی ملی ہے، جس میں تجہیز و تکفین تک توسیع بھی ہو گئی ہے ، عجیب اتفاق ہے کہ جب نواز شریف کے والد میاں محمد شریف اِس دُنیا سے رخصت ہوئے تو پورا خاندان سعودی عرب میں جلا وطنی کے دن گزار رہا تھا اور نواز شریف کو اپنے عزیز والد کے جسدِ خاکی کو کندھا دینے کی سعادت نہ مل سکی تھی،کیونکہ اُنہیں اِس مقصد کے لئے وطن واپس آنے کی اجازت نہ ملی، آج اُن کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کی بھی یہی کیفیت ہے کہ اُن کی واپسی پر گرفتاری کا امکان ہے،اِس لئے شاید وہ بھی اپنی والدہ کی تدفین کے موقعہ پر پاکستان میں موجود نہ ہوں۔انسان پر ایسے وقت آتے رہتے ہیں اور گزر بھی جاتے ہیں، ہر شخص اِس دُنیا میں طویل یا مختصر جتنا بھی وقت گزارتا ہے دیکھا یہ جاتا ہے کہ ان برسوں میں وہ کس طرح زندہ رہا اور زندگی کے جو لمحات اُسے عطا ہوئے تھے ان سے وہ اپنے رب کی بندگی کے ذریعے کس حد تک اُس کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب رہااور اس کے بندوں کے ساتھ اس کا سلوک کیا رہا یہ دُنیا مسافر خانہ ہے ہر کسی کو جانا ہے، رہے نام اللہ کا۔

بیگم کلثوم نواز کو پہلی مرتبہ سیاسی جدوجہد کے راستے پر اُس وقت چلنا پڑا جب اُن کے شوہر کی دوسری حکومت کو جنرل پرویز مشرف نے بزورِ قوت ختم کیا اور اُنہیں اُن کے عزیزوں، دوستوں، سیاسی ساتھیوں اور رفقا سمیت حوال�ۂ زنداں کر دیا۔اِس سے پہلے کلثوم نواز سیاست میں کبھی متحرک نہ رہی تھیں،ایک گھریلو خاتون کے طور پر زندگی گزار رہی تھیں،لیکن آزمائش کے اِن لمحات میں اُنہیں نواز شریف کے والد محترم میاں محمد شریف نے سیاسی جدوجہد کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کی اجازت دی تو دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سیاست میں اپنا نقش جمانا شروع کر دیا۔ ایک موقعہ پر جب وہ ایک جلوس کی قیادت کے لئے باہر نکلیں تو اُنہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئیں تو قانون کے رکھوالوں نے اُنہیں گاڑی سمیت لفٹر کے ذریعے سیاسی منظر سے دور لے جانے کا فیصلہ کیا،لیکن وہ اِس حالت میں بھی کئی گھنٹوں تک پورے استقلال کے ساتھ گاڑی میں موجود رہیں، اُن کی جانب سے عزم و حوصلے کے اِس مظاہرے سے حکومتی کارندوں کے حوصلے پست ہوتے ہوئے محسوس کئے جا سکتے تھے اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ فوجی حکمران کو درست طور پر محسوس ہوا کہ اگر یہ خاتون اِسی طرح میدان میں ڈٹ کر آگے بڑھتی رہی تو اِس کے راستے کی دیوار بننا مشکل ہو جائے گا، چنانچہ ایسی تدبیریں کی جانے لگیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ خاتون سیاسی منظر سے ہٹ جائے۔یہ موقعہ اس صورت میں میسر آیا کہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی مداخلت سے ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ پورا خاندان جلا وطن ہو گیا، اور حکومت نے سُکھ کا سانس لیا کہ ایک نئی سیاسی آزمائش سے دوچار ہونے سے بچ گئی، نواز شریف کی سیاست سے بے دخلی کے بعد مُلک کے اندر مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی،ایک حصے کو جس کا نام پاکستان مسلم لیگ(قائداعظم) رکھا گیا، جنرل پرویز مشرف کی سیاسی سرپرستی میسر آ گئی اور فوجی حکومت کی چھتر چھاؤں میں یہ جماعت 2002 ء کے انتخابات کے بعد برسر اقتدار آ گئی۔نواز شریف کی حامی جماعت مسلم لیگ(ن) کے نام سے جانی جانے لگی،اسمبلیوں میں اس کی نمائندگی بھی موجود رہی،لیکن یہ سارا عرصہ اِس جماعت نے آزمائش میں گزارا، قیادت جلا وطن تھی، جس نے ایک دو بار واپسی کی کوشش کی جو بُری طرح ناکام بنا دی گئی اور جہاز واپس کر دیا گیا۔

نواز شریف حکومت کی برطرفی اور پھر جلا وطنی کے بعد مسلم لیگ(ن) کے لئے حالات میں پہلی بار خوشگوار تبدیلی2008ء کے انتخابات آئی، جب اس جماعت کو پنجاب میں کامیابی ملی اور شہباز شریف وزیراعلیٰ منتخب ہوئے،اِس عرصے میں بیگم کلثوم نواز نے کوئی سیاسی کردار ادا نہیں کیا وہ اسی طرح گھریلو زندگی گزارتی رہیں جس طرح پرویز مشرف کے دور کی مختصر سیاسی سرگرمیوں سے پہلے گزار رہی تھیں۔2013ء میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے تو بھی کلثوم نواز سیاسی طور پر زیادہ متحرک نہ ہوئیں۔البتہ اِس عرصے میں اُن کی بیٹی مریم نواز نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور تعلیم کے شعبے میں بعض کارنامے انجام دیئے، وفاقی دارالحکومت کے سکولوں کو اَپ گریڈ کیا گیا اوران کی کوششوں سے200 کے قریب سکول جدید ترین سہولتوں سے مزین کئے گئے۔

بیگم کلثوم نواز دوسری بار اُس وقت سیاسی منظر پر آئیں جب جولائی2017ء میں نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل کیا گیا اور لاہور میں اُن کی نشست خالی ہو گئی تو مسلم لیگ(ن) نے ضمنی انتخابات میں یہاں سے کلثوم نواز کو میدان میں اُتارا، نواز شریف کی نااہلیت کے بعد یہ پہلا معرکہ تھا کہ جو مسلم لیگ(ن) انتخابی میدان میں لڑ رہی تھی، مرکز میں شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے اور پنجاب میں شہباز شریف بدستور وزیراعلیٰ تھے، لیکن مسلم لیگ(ن) کو شکایت تھی کہ اسے ہموار میدان نہیں دیا جا رہا،اس کے کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے راتوں رات پر اسرار انداز میں اٹھایا جا رہا ہے اور اُن کی انتخابی مہم میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں، کلثوم نواز تو اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد علاج کے لئے اچانک لندن چلی گئیں، انتخابی مہم مریم نواز نے سنبھالی اور ضمنی انتخاب کا معرکہ اِس حالت میں جیت لیا کہ ڈیڑھ ماہ پہلے نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ ختم ہوئی تھی اور پارٹی کے اندر مایوسی طاری تھی،بعض سیاست دان اپنے قائد کی ’’جی ٹی روڈ سیاست‘‘ کو پسند نہیں کر رہے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے، جو اُنہیں ’’قیمتی سیاسی مشوروں ‘‘سے نواز رہے تھے کہ محاذ آرائی سے گریز کریں،اِس انتخاب میں خاص بات یہ تھی کہ تحریک انصاف کی امیدوار تو اصل حریف کے طور پر میدان میں اُتری ہی تھیں، لیکن چالیس دوسرے امیدوار بھی ’’جیت کی امید پر‘‘انتخاب لڑ رہے تھے۔لیکن یہاں اِس ضمنی انتخاب میں جیتنے اور دوسرے نمبر پر آنے والی امیدوار کے سوا باقی سب امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں،جن میں تحریک لبیک ،پیپلزپارٹی اور جماعتِ اسلامی سمیت سارے آزاد امیدوار بھی شامل تھے یہ آخری سیاسی سرگرمی تھی،جو کلثوم نواز کے حصے میں آئی، وہ 15ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت تو گئیں،لیکن بطورِ رکن اسمبلی حلف اُٹھانے کے لئے نہ آ سکیں،اِس کے بعد اُن کی صحت مسلسل گرنا شروع ہو گئی، کلینک میں کینسر کا علاج ہو رہا تھا اور یہاں پاکستان میں کہا جا رہا تھا کہ اس کلینک میں تو کینسر کا علاج ہی نہیں ہوتا یہ سب ڈرامہ ہے،جو نواز شریف سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کر رہے ہیں، اسی بہانے باہر جا کر واپس نہیں آئیں گے خود نواز شریف کے بائی پاس کے وقت بھی ایسی باتیں کی جا رہی تھیں آج اُن کلپس کو سُنیں یا اُن خبروں کو پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے، سیاسی اختلافات آدمی کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں، کلثوم نواز اِس سارے عرصے میں سیاست اور دنیا سے بے خبر اپنی بیماری سے لڑتی رہیں،جب نواز شریف اپنی دس سال کی سزا کاٹنے کے لئے اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان آئے تو وہ بے ہوش تھیں، بعد میں بھی اُنہیں معلوم نہ تھا کہ اُن کے شوہر اور بیٹی وطنِ عزیز میں قید و بند کی کن آزمائشوں سے گزر رہے ہیں،اُن کی زِندگی کا سفر ختم ہوا وہ بیماری کی کلفتوں سے بھی آزاد ہو گئیں، لیکن جو زندہ ہیں اُن کی آزمائش جاری ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ اِس سفر میں ابھی کتنے سنگِ گراں اُن کے راستے میں حائل ہوں گے۔ اب کلثوم نواز رخصت ہوئی ہیں تو اُنہیں اچھے لفظوں میں یاد کرنے والے بہت ہیں، وہ بھی ایسا کر رہے ہیں، جنہیں کل تک اُن کی بیماری بھی ڈرامہ معلوم ہوتی تھی۔اللہ رب العزت سب کو معا ف فرمائے

مزید : رائے /اداریہ