بیگم کلثوم، عزم اور بردباری کی امین،وفات نصیحت کا باعث!

بیگم کلثوم، عزم اور بردباری کی امین،وفات نصیحت کا باعث!
بیگم کلثوم، عزم اور بردباری کی امین،وفات نصیحت کا باعث!

  

’’دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے،سجناں وی مر جانا‘‘ پنجابی کی یہ ضرب المثل بھی اپنی نوعیت کی ہے جیسے دوسری کہی گئیں۔ اس ضرب المثل کے ظاہری معنی تو موت سے متعلق ہیں لیکن تشریح کی جائے تو یہ ہیں کہ مصیبت میں کوئی حریف یا سخت مخالف بھی ہو تو خوش نہ ہوا جائے اور یاد رکھا جائے کہ ایسی پریشانی یا مصیبت خود پر بھی آ سکتی ہے، یہ جہاں تو ہے ہی رنج و خوشی کا، اس میں کوئی خوش ہوتا ہے تو کوئی روتا بھی ہے۔اس سلسلے میں بھی کہا گیا‘‘ جَگ ماہی دا وسے ،کوئی روئے تے کوئی ہسے‘‘ چنانچہ ہمارے بزرگ تو ہمیں یہی سمجھاتے رہے کہ دنیا میں امن و سکھ اسی طرح ممکن ہے کہ ہرکوئی دوسرے کا احساس کرے لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ یہاں تو اس ضرب المثل پر غور کیا جاتا ہے کہ ’’دشمن کا دشمن، دوست ہوتا ہے‘‘ اور یہ دنیا فانی اسی فارمولے پر چلی جا رہی ہے۔ اس کا روزمرہ نظارہ ہمیں سیاسی دنیا میں ہو جاتا ہے، جہاں سیاسی اختلاف کو دشمنی کی حد تک لے جایا جاتا ہے اور اسی نقطہ ء نظر سے اقتدار اور حزب اختلاف کے رویئے الگ الگ ہوتے ہیں اور یہی جب حزب اختلاف سے حزب اقتدار بنتی ہے تو پھر کرداروں کے کردار تبدیل ہو جاتے ہیں۔

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی اہلیہ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ ہارلے سٹریٹ لندن کے ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد وفات پا گئی ہیں، ان کو گلے کا کینسر لاحق ہوا، اور علاج ہی کے لئے لندن لے جائی گئی تھیں، بیگم کلثوم نواز کی یہ علالت خبر کا ذریعہ تو رہی تاہم اس وقت تک خیریت تھی، جب تک ان کی طبیعت زیادہ خراب نہ ہوئی اور ان کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ ایک طرف وہ علیل تھیں اور دوسری طرف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تین ریفرنس دائر تھے اور ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت بھی جاری تھی، اس سماعت کے دوران سابق وزیراعظم ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد عدالت میں پیش ہوتے رہے، تاہم بیگم کلثوم کی علالت کے باعث محمد نوازشریف اور مریم نواز حاضری سے استثنیٰ بھی لیتے رہے اور دو تین بار لندن گئے اور پھر واپس آئے۔ آخری بار جب وہ لندن گئے تو یہاں یہ تاثر پھیلایا گیا کہ وہ نہیں آئیں گے، ادھر خاندانی ذرائع بتا رہے تھے کہ بیگم کلثوم وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی علالت شدت اختیار کر گئی ہے۔

اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ سیاسی مخاصمت تھی کہ سوشل میڈیا اور بیانات کی صورت میں ناروا بحث ہوتی رہی اور بیگم کلثوم کی علالت پر شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا، یوں بلاوجہ ایک تضاد اور بیان بازی شروع ہو گئی۔ بعض معتبر حضرات نے بھی شکوک کا ہی اظہار کیا۔ یہ سطور گواہ ہیں کہ ہم نے انہی دنوں گزارش کی تھی کہ شریف فیملی کو اس اختلاف اور نکتہ چینی سے بچنے کے لئے ہسپتال انتظامیہ کو ذمہ داری نبھانے پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ قواعد کے مطابق بیگم کلثوم کی صحت کے بارے میں ہیلتھ بلیٹن جاری کیا کرے جو ان کا فرض ہے کہ کسی بھی اہم شخصیت کی علالت کے حوالے سے عوام کو مریض کی حالت سے آگاہ کرنا ہسپتال انتظامیہ ہی کا فرض ہے لیکن ایسا نہ ہوا۔ شبہات اور ابہام آخری وقت تک رہے اور بالآخر مرحومہ دنیا سے رخصت ہوئیں تو اطلاع بھی آ گئی۔

یہ ہماری سیاسی زندگی کا المیہ ہے کہ یہاں سیاست دشمنی کی حد تک چلی جاتی ہے اور تنقید تو کجا دشنام کا ایسا کلچر پیدا ہو گیا ہے کہ ’’الامان و الحفیظ‘‘ چنانچہ اس حوالے سے بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے اور اب بیگم کلثوم نواز اللہ کو پیاری ہوئیں تو ہر کوئی ان کے غم میں گھلا جاتا ہے حتیٰ کہ معذرتیں کی اور معافیاں بھی مانگی جا رہی ہیں، ہر اپنا اور غیر، دوست اور دشمن، حلیف یا حریف سبھی تعزیت کا اظہار کررہے ہیں ان میں وہ حضرات بھی شامل ہیں جو بیماری پرشکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ اب افسوس اور دکھ کا اظہار کررہے ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ عام زندگی میں مخالفت کا موجودہ سخت گیر طریقہ تبدیل کر دیا جائے اور مخالفت برائے مخالفت کی بجائے تنقید برائے تعمیر کا راستہ اختیار کیا جائے اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی بلکہ معاشرہ بہتر ہوگا۔

بیگم کلثوم نواز کے بارے میں ایک ہی روز میں بہت کہا اور لکھا گیا ہے کہ کوئی پہلو شاید اوجھل نہیں رہا۔ہر کوئی ان کی تعریف کر رہا ہے۔ وہ لوگ بھی خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جو ان کی بیماری کا ’’مخول‘‘ بناتے تھے۔ بیگم کلثوم تعریف ہی کے قابل تھیں ان کی زندگی کے سبھی پہلو سامنے آ گئے ہیں، نامور پہلوانوں کے خاندان سے تعلق اور ایک ہمدرد والد جو ڈاکٹر تھے کی صاحبزادی ہوتے ہوئے ان کو تعلیم کا شوق تھا اور اردو ادب سے لگاؤ بھی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے کے علاوہ پی ایچ ڈی بھی کی۔ یوں وہ ڈاکٹر کلثوم نواز تھیں، اگرچہ انہوں نے کبھی اسے اپنے نام کے ساتھ استعمال نہیں کیا۔ ہمیں ایک رپورٹر کی حیثیت سے ان کی تحریک نجات والی جدوجہد دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ پختہ عزم کی خاتون تھیں۔

گھریلو بیوی ہونے کی وجہ سے وہ بیرونی سیاست میں دخل نہیں دیتی تھیں لیکن گھر کی چار دیواری میں اپنے شوہر کی سب سے بڑی مشیر تھیں، بڑی اور تابع فرمان بہو ہونے کی وجہ سے میاں محمد شریف ان کو بہت پیار کرتے اور سسر، بہو کے درمیان بڑی زبردست قسم کی ذہنی اور فکری ہم آہنگی تھی۔طے شدہ امر ہی کے تحت وہ سیاست میں عملی جدوجہد کے لئے باہر نہیں آئی تھیں۔ تاہم جب 2000ء میں ان کے شوہر محمد نوازشریف کے خلاف ہائی جیکنگ کیس بنا تو اپنے سسر میاں محمد شریف کی باقاعدہ اجازت سے میدان میں نکلیں اور بہت اچھا تاثر چھوڑا، حتیٰ کہ ان کی گاڑی کرین سے اٹھا کر لے جانے کی کارروائی نے عالمی خبرکا درجہ حاصل کیا۔

کلثوم نواز نے انہی دنوں دوسری سیاسی جماعتوں سے روابط بڑھائے۔ اس سلسلے میں سید ظفر علی شاہ اور بیگم تہمینہ دولتانہ نے ان کی معاونت کی اور اس مرحلے پر نوابزادہ نصراللہ خان کی فراست سے پیپلزپارٹی سمیت کئی اور سیاسی جماعتیں اے آر ڈی کے نام سے بننے والے سیاسی اتحاد میں شامل ہو گئیں۔ بیگم کلثوم نواز کا یہ کردار جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے شریف فیملی کو ملک بدر کر دینے تک جاری رہا، پھر یہی بیگم کلثوم نواز ہیں جو خاتون اول کی حیثیت سے پھر سامنے آئیں، اپنے تحمل، بردباری اور سنجیدہ مزاج سے غیر ملکی رہنماؤں کو بھی متاثر کیا۔ آج وہ ہم میں نہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔آخری گزارش یہ کرنا ہے کہ اس باوقار خاتون کی وفات سے ہی سبق حاصل کیا جائے اور اب جو تعزیت کا اظہار ہوا اس سے متاثر ہوں اور طے کر لیں کہ سیاسی مخالفت، سیاسی تنازعہ اور دشمنی تک نہیں جائے گی اور دشنام طرازی سے گریز و پرہیز کرکے سب کا احترام کیا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم