11ستمبر اور 11۔اگست (1)

11ستمبر اور 11۔اگست (1)
11ستمبر اور 11۔اگست (1)

  

گیارہ ستمبر 1948ء قائد اعظمؒ کا یوم وفات ہے۔ اس سے ایک سال اور ایک ماہ قبل قائد اعظمؒ نے 11۔ اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں بطور گورنر جنرل پاکستان اپنی پہلی تقریر کی تھی۔ قائد اعظمؒ اور تحریک پاکستان کے مخالفین قائد اعظمؒ کی تقریر سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ اس دو قومی نظریے سے دستبردار ہوگئے تھے، جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا اور اب قائد اعظمؒ وطنیت کی بنیاد پر ’’پاکستانی قومیت‘‘ کے قائل ہوگئے تھے۔ دوسرا نتیجہ بعض گمراہ عناصر قائد اعظمؒ کی اس تقریر سے یہ نکالتے ہیں کہ قائد اعظمؒ پاکستان میں اسلام کو بطور نظام حیات نافذ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ قائد اعظمؒ کودینِ اسلام میں مہارت کا کوئی دعویٰ نہیں تھا۔ نہ ہی وہ خود کو مولوی یا ملا سمجھتے تھے، لیکن قرآن مجید اور اسلامی قوانین کے بارے میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور اس کا اظہار اُن کی کئی تقاریر اوربیانات سے جھلکتا ہے۔ اسلام یا سیکولرازم میں سے قائد اعظمؒ کا انتخاب کیا تھا۔ قائد اعظمؒ ہی کے الفاظ میں ہم ان کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’اس عظیم الشان کتاب میں اسلامی زندگی سے متعلق ہدایات کے باب میں زندگی کا رروحانی پہلو، معاشرت، سیاست، معیشت، غرض انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے، جو قرآن مجید کی تعلیمات کے احاطہ سے باہر ہو۔ قرآن کی اصول ہدایات اور سیاسی طریق کار نہ صرف مسلمانوں کے لئے بہترین ہیں، بلکہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کے لئے جو سلوک اور آئینی حقوق ہیں، اس سے بہتر کا تصور ممکن نہیں‘‘۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ قائد اعظمؒ کے اس ارشاد میں اُن کے نزدیک قرآن مجید کی تعلیمات معاشرت، معیشت، سیاست اور انسانی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی ہماری راہنمائی کرتی ہیں اور غیر مسلموں کے آئینی حقوق کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات سب سے بہتر ہیں۔ سیکولر ریاست اور سیکولر طرز فکر سے اسلام کا تصور حیات یکسر مختلف ہے اور قائد اعظمؒ کو اس کا پوری طرح احساس تھا۔ سیکولر ریاست اور اسلامی ریاست کے فرق کو سمجھنے کے لئے بھی آئیے،ہم قائد اعظمؒ سے راہنمائی لیتے ہیں۔

قائد اعظمؒ نے کہا:’’ اسلامی حکومت کے تصور کا یہ بنیاد امتیاز پیش نظر رہے کہ اطاعت اور وفاکیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے۔ اس لئے تعمیل کا مرکز قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں، اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے، نہ کسی پارلیمان کی نہ کسی شخص یا ادارہ کی۔ قرآن کے احکام ہی سیاست اور معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصولوں اور احکام کی حکمرانی کا نام ہے‘‘۔ قائد اعظمؒ کے اس فرمان سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایک اسلامی سلطنت اور اسلامی حکومت کے حوالے سے قائد اعظمؒ کی سوچ، فکر اور فہم و شعور میں کوئی ابہام نہیں تھا۔اسلام میں اطاعت اللہ کے احکامات کی ہے، جو قرآن حکیم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسولؐ اور نبیؐ پر نازل فرمائے۔ سیاست، معاشرت اور معیشت میں جواحکامات قرآن کریم میں موجود ہیں، ایک اسلامی حکومت ان پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ نہ کوئی پارلیمنٹ اور نہ ہی کوئی بادشاہ اسلامی احکامات میں رد و بدل کرسکتا ہے۔ قرآنی اصولوں اور احکامات کے سامنے اسلامی حکومت میں سب کو سرِ تسلیم خم کرناہوگا۔ قائد اعظمؒ سے جب پوچھا گیا کہ ہندوستان میں وہ سلطنت ہمیں کیسے نصیب ہوسکتی ہے تو قائد اعظمؒ کا جواب تھا کہ مسلم لیگ کی تنظیم، جدوجہد اور راستہ اسی سلطنت کے قیام کے لئے ہے۔

صوبہ سرحد کے کانگرسی لیڈروں خان عبدالغفار خان اور ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے جب جولائی 1947ء میں پاکستان سے الگ پٹھانوں کی آزاد ریاست کا شوشہ چھوڑا تھا اوریہ دعویٰ کیا تھا کہ آزاد پٹھانستان میں ریاست کا آئین جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کے اسلامی نظریات کی بنیاد پر مرتب کیا جائے گا۔ دوسری طرف ہندوؤں کی جماعت کانگرس میں شامل یہ پختون لیڈر یہ بے بنیاد پراپیگنڈا بھی کررہے تھے کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کے اسلامی تصورات کو نظر انداز کردے گی۔ (جاری ہے)

قائد اعظمؒ نے خان برادران کے اس زہریلے اور جھوٹے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی جو مسلمانوں کی بھاری اکثریت پر مشتمل ہے، وہ شریعت اسلامی اور قرآنی اصولوں کو کیسے نظر انداز کرسکتی ہے‘‘۔ ہر باشعور انسان یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ خان عبدالغفار خان اور ان کے ہم خیال لوگ متحدہ ہندوستان کے علمبردار تھے۔ وہ نہرو اور گاندھی سے مل کر متحدہ ہندوستان میں اسلامی شریعت کو کیسے نافذ کروا سکتے تھے۔ اسلامی نظریات کے مطابق جمہوری اصولوں اور سماجی انصاف پر مبنی نظام اگر قائم کیا جاسکتا ہے، تو وہ صرف پاکستان ہی میں ممکن ہے، جس کی عظیم اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ وہ گمراہ عناصر یا سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے لوگ جو خود پاکستان میں قرآن اوررسول کریمؐ کی تعلیمات کے مطابق اسلامی نظام حیات کے نفاذ سے خوف زدہ ہیں۔

اُن کا یہ پروپیگنڈہ آج بھی جاری ہے کہ قائد اعظمؒ پاکستان میں اسلامی نظام کی حکمرانی کے خلاف تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم جب پاکستان کا مقدمہ مسلمان قوم اور قیام پاکستان کے مخالفین کے سامنے پیش کرتے تھے اور جن اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر قائد اعظمؒ قیام پاکستان کے مطالبہ پُر زور دیتے تھے، وہ بنیاد دو قومی نظریہ تھی اور یہ ایک مستقل نظریہ ہے، یعنی مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور ان کا ایک اپنا نظام حیات ہے۔ ہماری تہذیب اور تمدن، اخلاقی ضوابط، قانونی احکامات، رسم و رواج، ہماری تاریخ غیر مسلموں سے مختلف ہے۔ ہماری رجحانات، روایات، عزائم اور زندگی سے متعلق ہمارا زاویۂ نظر قائد اعظمؒ کے ارشادات کے مطابق غیر مسلموں سے مختلف تھا اور مختلف ہے۔ 1945ء میں سرحد مسلم لیگ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے فرمایا تھا کہ ’’مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں، جہاں وہ خود اپنے ضابطۂ حیات، اپنے تہذیبی ارتقاء، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کرسکیں‘‘۔

پھر قائد اعظمؒ نے اسی تین روزہ کانفرنس کے تیسرے دن اپنی تقریر میں ان خیالات کا اظہار فرمایا کہ ’’ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہماری۔ اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں، جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لئے متحرک کرتے ہیں‘‘۔

قائد اعظمؒ کے ان ارشادات کا تعلق قیام پاکستان کے بعد سے ہے، اگرچہ قائد اعظمؒ کی ہی دونوں تقاریر نومبر 1945ء میں کی گئیں، مگر اسلامی قانون اور اسلامی ضابطۂ حیات کی حکمرانی عملی طور پر قیام پاکستان کے بعد ہی ممکن تھی، قائد اعظم جو بھی کہہ رہے تھے، اس پر عمل آزادئ پاکستان کے بعد ہی ہو سکتا تھا اور قائد اعظمؒ کی عظمتِ کردار یہ تھی کہ وہ صرف وہی ارشاد فرماتے جس پر وہ عمل کرنا چاہتے تھے۔ قائد اعظمؒ کی گفتار اور کردار میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائد اعظمؒ نے جب یہ فرمایا کہ حصول آزادی کے لئے ہمیں متحرک ہی ہمارے دین اسلام اور ہمارے اسلامی نظریات نے کیا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ قیام پاکستان کے فوری بعد قائد اعظمؒ نے دینِ اسلام، اسلامی قوانین، اسلامی تصورات اور اسلامی ضابطۂ حیات کو فراموش کردیا ہو۔ قائد اعظمؒ جیسے بااصول، باکردار اور دیانت دار لیڈر پر ایسا الزام دشمن بھی عائد نہیں کرسکتا کہ قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظمؒ کے نظریات اور تھے اور قیام پاکستان کے بعد اُن کے تصورات مختلف تھے۔ 30جون 1947ء کے روزنامہ ڈان میں قائد اعظمؒ کا یہ فرمان شائع ہوا تھا کہ ’’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین سے انحراف نہیں کرے گی‘‘۔ پھر قائد اعظم کی 11۔ اگست 1947ء کی تقریر سے کوئی ایسا مفہوم نکالنا کہ قائد اعظمؒ اسلامی شریعت اور قرآنی قوانین سے انحراف کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ یہ بدنیتی اور صریحاً قائد اعظمؒ پر الزام تراشی ہے۔

25جنوری 1948ء کو قائد اعظمؒ نے کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کا ایک طبقہ دانستہ طور پر شرارت کرتے ہوئے یہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی بنیاد شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ آج بھی اسلامی اصولوں کا اطلاق اسی طرح ممکن ہے، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھا۔ اسلام اور اس کے نظریات نے ہمیں جمہوریت کا سبق پڑھایا ہے۔ اسلام نے ہر شخص کے لئے مساوات، عدل اور انصاف کا حکم دیا ہے‘‘۔

قائد اعظمؒ نے اپنی اسی تقریر میں رسول کریمؐ کے حضور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے رسول کریمؐ ایک عظیم راہبر، عظیم قانون دینے والے، عظیم مدبر اور عظیم حکمران تھے۔

قائد اعظم نے اپنی 25جنوری 1948ء کی اس تقریر میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ اسلام نہ صرف رسم و رواج، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ ہے،بلکہ اسلام ہر مسلمان کے لئے ایک ضابط�ۂ حیات ہے، جس میں سیاست اور اقتصادیات کے شعبوں کے لئے بھی ہمارے لئے راہنما اصول موجود ہیں اور ان ہی خیالات کا اظہار اپنے خطبات میں بار بار کیا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ قائد اعظمؒ نے اپنی 11۔ اگست 1947ء کی تقریر میں پاکستان کی غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی اور شہری حقوق کی جوبات کی، وہ بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہی کی تھی اور اس کا ثبوت آپ کو قائد اعظمؒ کی 14۔ اگست 1947ء کی تقریر سے بھی دیا جاسکتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے اپنی اس تقریر میں وضاحت کردی تھی کہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور حسنِ سلوک کا سبق ہم نے پیغمبر اسلامؐ سے لیا ہے، جنہوں نے تیرہ سو سال پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رواداری کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ قائد اعظمؒ نے مسلمان حکمرانوں کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان جہاں جہاں بھی حکمران رہے، ان کی تاریخ ایسے انسانیت نواز اصولوں سے بھری ہوئی ہے کہ ان کے ادوار میں غیر مسلموں سے نہایت اچھا سلوک کیا گیا اور مسلمان حکمرانوں کا یہ طرز حکمرانی اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں تھا۔

گیارہ ستمبر قائد اعظمؒ کے یوم وفات کے موقع پر یہ وہ چند گزارشات تھیں، جو قائد اعظمؒ کے افکار و نظریات کے حوالے سے میں نے سیالکوٹ کے ایک مقامی سکول میں اپنی نوجوان نسل کے روبرو پیش کیں، کیونکہ نوجوان طبقے سے قائد اعظمؒ کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ کاش ہم قائداعظمؒ کے افکار اور سیرت و کردار سے روشنی حاصل کریں۔

مزید : رائے /کالم