بہادر خاتون کو سلام

بہادر خاتون کو سلام
بہادر خاتون کو سلام

  

جنرل پرویز مشرف اقتدار کے نشے میں مست تھے وہ اپنے لئے ’’ہم‘‘ سے زیادہ ’’مَیں‘‘ پسند کرتے تھے،لمحہ موجود کے کئی جمہویت پسند اُن کے ’’نو رتن‘‘ تھے تو کچھ ’’مُلا دو پیازہ‘‘ بھی تھے، بعض نے اپنی ’’عزت‘‘ بچانے کے لئے اپنی گردن ان کے ہاتھوں میں دے دی تو بعض نے ’’اپنی عظمت‘‘ بڑھانے کے لئے اُن کے آگے دامن پھیلا دیئے، بڑے بڑے ’’اَنا پرست‘‘ شخصیت پرستی میں گم ہو گئے تو بڑے بڑے ’’علمائے حق‘‘ انہیں ایک ’’نجات دھندہ‘‘ کے طور پر پیش کرنے لگے۔ نواز شریف جیل میں تھے، فیملی کے تمام مرد بھی جیل میں تھے،البتہ ان کے بوڑھے باپ جو اپنے قدموں پر چل بھی نہیں سکتے تھے انہیں اجازت تھی کہ وہ اپنے کمرے میں ٹہل سکتے ہیں۔ خواتین جو روایتی گھریلو خواتین تھیں، سیاست سے نہ ان کا کوئی تعلق تھا،نہ واسطہ۔۔۔ ان حالات میں نواز شریف کی گھریلو خواتین نے سڑک پر نکلنے کا اعلان کر دیا۔۔۔مَیں اپنی موٹر سائیکل پر فیروز پور روڈ ’’ناپنے‘‘ نکلا ہوا تھا کہ دیکھا پولیس کے جوان بندوقیں تانے سڑکوں پر الرٹ کھڑے ہیں۔۔۔ مَیں سمجھا قریبی جیل سے کوئی خطرناک قیدی بھاگ نکلا ہو گا، یہ پولیس کے جوان یقیناًاس کے لئے کھڑے ہیں، مگر قریب ہی چند لوگ نواز شریف کے نام کے نعرے لگاتے نظر آئے۔

مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔۔۔ جب ان کی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو یہ کارکن نعرے لگا لگا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، مگر جب ان کی جماعت اور قیادت کسی امتحان میں پڑتی ہے تو یہ کارکن سڑکوں پر نکلنے کی بجائے اندر ہی اندر سلگتے رہتے ہیں۔۔۔ سبھی غم اپنے گھروں کے اندر مناتے ہیں اور سڑکوں پر نکلنے سے گریز کرتے ہیں،مگر یہاں چند سر پھرے دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں میں تبدیلی آئی نہیں، تبدیلی آ چکی ہے‘‘۔۔۔میرے لئے یہ منظر خاصا دلچسپ تھا، مَیں ایک سائیڈ پر کھڑے ہو کر اِس منظر کو دیکھنے لگا۔۔۔

تھوڑی دیر بعد کارکنوں کے نعروں میں شدت آ گئی، پولیس کے ڈنڈے بھی حرکت میں آ گئے،جنگ کا سماں بن گیا، کچھ نوجوانوں کے سر پھٹ گئے تو کچھ بزرگوں کے بازو شل ہو گئے، چند خواتین کے سروں کے دوپٹے پیروں تلے کچلے گئے، اچانک ایک جلوس کے ساتھ ایک خاتون کو گرجتے ہوئے دیکھا۔۔۔ یہ خاتون جنرل پرویز مشرف کا نام لے کر اس کی مذمت کرتے ہوئے نواز شریف اور فیملی کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔۔۔ یہ محترمہ کلثوم نواز تھی۔۔۔ پولیس نے اس کی گاڑی کو گھیرتے ہوئے روکنے کی کوشش کی تو اُس نے اپنے قدموں پر چلنا شروع کر دیا،یہ منظر ایسا تھا کہ اچانک مجھے بے نظیر بھٹو کے لئے حبیب جالب مرحوم کا کہا گیا شعر یاد آ گیا:

’’ڈرتے ہیں سنگینوں والے اک نہتی لڑکی سے‘‘

مجھے حیرانی ہوئی کہ ایک گھریلو خاتون کس حوصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،مگر مجھے خیال آیا کہ ہمارے مُلک میں جب جب ’’مرد پابندِ سلاسل‘‘ ہوئے یا ’’مَردوں‘‘ نے مردانگی چھوڑ دی تو پھر اِس مُلک کی خواتین نے اپنے دوپٹوں کو سروّں پر باندھ کے مردانہ وار جمہوری حقوق کی جنگ لڑی۔۔۔ اِس حوالے سے پہلی مثال محترمہ فاطمہ جناح ؒ ہیں، جنہوں نے جنرل ایوب خان کے خلاف آواز بلند کی۔۔۔ اور سڑکوں پر نکلیں۔دوسری خاتون، نصرت بھٹو اور پھر بے نظیر بھٹو تھیں، جنہوں نے آمریت کے خلاف سڑکوں پر لاٹھیاں کھائیں اور چوتھی خاتون محترمہ کلثوم نواز تھی،جو ایک آمر کے خلاف سڑکوں پر نکل چکی تھی۔۔۔

گو کہ چاروں خواتین کے سیاسی حالات، واقعات اور ماحول مختلف تھا،مگر حیرت انگیز طور پر ان تمام معزز خواتین کے سامنے کوئی نہ کوئی آمر تھا۔۔۔ محترمہ کلثوم نواز کے احتجاج نے جنرل پرویز مشرف کو اِس قدر مجبور کر دیا کہ اس نے نواز شریف کو فیملی سمیت جلا وطن کر دیا، اس جلا وطنی کے بعد محترمہ کلثوم نواز ایک بار پھر ایک روایتی خاتون کے کردار کی طرف ہٹ گئیں۔۔۔ مگر حالات و واقعات ایک بار پھر ایسے بن گئے تھے کہ وہ عملی سیاست میں آئیں اور لاہور کے حلقے سے ایم این اے بن گئیں،دراصل ایک بار پھر وہ قومی سیاست میں اپنے کردار کے لئے داخل ہوئی تھیں۔ اس بار بھی انہیںآمریت کے خلاف ہی باہر نکلنا تھا، انہوں نے ’’خلائی مخلوق‘‘ کا سامنا کرنا تھا،مگر بیماری نے انہیں پارلیمینٹ کی بجائے لندن روانہ کر دیا۔

ان کی بیماری کے حوالے سے طرح طرح کے الزام لگائے گے،ان کی بیماری کو ایک ڈرامہ قرار دیا گیا۔۔۔ پہلے کہا گیا وہ ’’بیمار‘‘ نہیں ہے، پھر کہا گیا وہ ’’مر چکی‘‘ ہے،پھر کہا گیا نواز شریف پاکستان سے بھاگنے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے۔ پھر کہا گیا وہ مر چکی ہے اور الیکشن سے چند دن پہلے ان کے انتقال کی خبر شائع کرا کر عوامی ہمدردی سمیٹی جائے گی۔۔۔ پھر ایک شخص کو لندن کے ہسپتال میں بھیجا گیا کہ وہ دیکھ کر بتائے کہ مریضہ زندہ ہے یا مردہ، مگر کلثوم نواز بستر مرگ پر اِن تمام الزامات اور پروپیگنڈے سے بے نیاز بیماری سے لڑتی رہی اور بالآخر خدا کے حضور پہنچ گئی، اُن کی موت سے پوری قوم کو صدمہ ہواہے، ان کے چاہنے والے اُن کے لئے تعزیت کر رہے ہیں،ان کی عظمت کے گن گا رہے ہیں، ان کی جمہوری جدوجہد کو سلام کر رہے ہیں اور ان کے کردار کی گواہی دے رہے ہیں، مگر ایسے بھی ہیں جو موت پر بھی ’’طنزیہ‘‘ رویہ اختیار کر رہے ہیں،مگر بعض ایسے بھی کہ جن کے ضمیر کلثوم نواز کی موت پر شرمندہ ہیں۔۔۔

اور وہ اپنے الفاظ پر قوم سے معافی مانگ رہے ہیں،وہ سیاست میں ذات پر حرف زنی سے پریشان نظر آتے ہیں، بعض نے معافی مانگی ہے،جو ایک قابلِ قدر بات ہے،مگر اس سے بڑھ کر قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہم کب زندہ قوم کے کردار کے لئے خود کو بدلیں گے۔ہم کب تسلیم کریں گے کہ اپنے اپنے حالات، واقعات اور ماحول کے مطابق محترمہ فاطمہ جناحؒ ، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور کلثوم نواز ہمارے معاشرے کی بہادر خواتین تھیں،جنہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو بدلنے کی کوشش کی۔۔۔ اپنے اور قوم کے حقوق کے لئے سڑکوں پر مار کھائی، غلیظ الزامات سہے،مگر حق کا پرچم بلند رکھا۔۔۔مَیں سلام پیش کرتا ہوں محترمہ فاطمہ جناحؒ ، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور کلثوم نواز شریف کو جنہوں نے اپنے کردار سے اِس مُلک و قوم کو بہت کچھ دیا۔

مزید : رائے /کالم