’’گھر کے باہر ڈیوٹی پر متعین سپاہی اونچی آواز میں گانے سنتے تھے‘‘

’’گھر کے باہر ڈیوٹی پر متعین سپاہی اونچی آواز میں گانے سنتے تھے‘‘

لاہور (خصوصی رپورٹ) سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز جنہوں نے پرویز مشرف کے دور میں جمہوریت کا علم بلند کیا نے ’جبر اور جمہوریت‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں اس وقت پیش آنیوالا واقعہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔ بیگم کلثوم نواز لکھتی ہیں، جو سپاہی ہمارے گھر کے دروازے کے باہر ڈ یو ٹی دیا کرتے تھے، ان کا یہ معمول تھا کہ دن رات اونچی آواز میں پنجابی گانے لگائے رکھتے تھے جو ہمیں پریشان کرنے کیلئے بھی تھا اور شاید اس پروپیگنڈہ کا حصہ بھی کہ یہاں ہیریں گائی جاتی ہیں اور بڑے ڈھول ڈھمکے ہوتے ہیں جبکہ اس گھرانے میں ان چیزوں سے پرہیز کیا جاتا رہا ہے جب کبھی ان سپاہیوں سے گانوں کی ریکارڈنگ بند کرنے کیلئے کہا جاتا تو وہ ہمیں پریشان کرنے کیلئے اس کی آواز اور زیادہ تیز کر دیتے۔ ذہنی کرب اور اذیت کے یہ وہ لمحات تھے جب بے بسی اور بیچارگی کا احساس سوہان روح بن کر رہ گیا تھا۔ اس انتہائی پریشانی کے عالم میں ایک ہی سہارا تھا اور وہ آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیؐ کے صدقہ سے اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کی رحمت ہے۔

اور یہ اسی کا احسان اور فضل ہے جس نے مشکل سے مشکل حالات میں کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ گھر کا ہر فرد اپنا وقت ذکر اور استغفار میں گزرتا اور میرے سسر اور ساس کا تو یہ عالم تھا کہ ہر لمحہ جائے نماز پر ہی گزرتا تھا۔

گانے آواز

مزید : علاقائی