سری نگر، بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید نوجوان آزادی کے حق میں نعروں کی گونج میں سپرد خاک

سری نگر، بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید نوجوان آزادی کے حق میں نعروں کی گونج میں ...

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے نوجوانوں فرقان اور لیات کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ قابض فوجیوں نے نوجوانوں کو گزشتہ روز ضلع کپواڑہ کے علاقے گلورہ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا تھا۔ شہید نوجوانوں کو انکے آبائی علاقے لنگیٹ اورسوپور میں سپرد خاک کیا گیا ۔ دونوں شہداء کے جسد خاکی جلوسوں کی صورت میں قبرستان پہنچائے گئے جہاں ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی جسکے بعد بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعروں کی گونج میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ دریں اثنا نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں سرینگر میں شہید ہونے والے پی ایچ ڈی سکالر عبدالاحد گنائی کو اپنے آبائی علاقے لالپورہ لولاب میں سپرد خاک کیا گیا۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو نوں جوانوں کی شہادت پرضلع کپواڑہ لنگیٹ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال ہے۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے ۔ قابض انتظامیہ نے نوجوانوں کی شہادت پر احتجاجی مظاہرے روکنے کیلئے لنگیٹ اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ انتظامیہ نے طلباء کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے ڈگری کالج ہندواڑہ اور دیگر تعلیمی اداروں میں کلاسز منسوخ کر دی ہیں۔ دوسری طرف سروا شکشا ابھی یان سے وابستہ ٹیچروں کی بڑی تعداد نے پرتاپ پارک سرینگر میں مشعل بردار ریلی نکالی ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ٹیچرز نے اپنے مطالبات کے حق میں جب راج بھون کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو بھارتی پولیس نے انہیں کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن کے قریب روک دیا اور مظاہرے میں شریک متعدد ٹیچرز کو گرفتار کرلیا ۔

سپردخاک

مزید : علاقائی