اوآئی سی سی آئی ممبران کی 2.7بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری

اوآئی سی سی آئی ممبران کی 2.7بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری

اسلام آباد (این این آئی) سال 2017میں غیر یقینی صورتحال اور درپیش چیلنجزکے باوجود اوآئی سی سی آئی(اوور سیز انویسٹرز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسری)کے ممبران کی جانب سے اپنے کاروبارکو توسیع دینے کیلئے ملک میں 2.7ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی۔2017میں او آئی سی سی آئی ممبران کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری گذشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد زیادہ تھی جس کو زیادہ تر توانائی ، کیمیکل اور ٹیلی کام کے شعبوں میں صرف کیا گیا تھا۔او آئی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور حال ہی میں سرمایہ کاروں کے نقطہ نظر سے متعلق منعقد کئے گئے سروے میں چیمبر کے190میں سے 130ارکان نے حصہ لیاجن کے اثاثوں کی کل مالیت 90ارب ڈالر ہے جبکہ 2017میں ان کمپنیوں کا ریوینیو 30ارب ڈالر تھا۔اس بات کا انکشاف صدرعرفان وہاب خان کی سربراہی میں اوآئی سی سی آئی کی مینجمنٹ کمیٹی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے رسمی ملاقات میں کیا۔ملاقات میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نقطہ? نظر اور سرمایہ کاری کے مواقعوں پر اوآئی سی سی آئی کی جانب سے کئے گئے حالیہ سروے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر اوآئی سی سی آئی کی جانب سے پی ٹی آئی کی حکومت کو ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ملاقات میں اوآئی سی سی آئی کے صدر عرفان وہاب خان نے مزید کہا کہ ایک بار پھر اوآئی سی سی آئی ممبران ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے 2017میں ایک کھرب روپے سے زائد کا ٹیکس ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ 2017کا سروے پاکستان میں موجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے جو پاکستان کے اعلیٰ معاشی اور سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے میں پرامید ہیں۔جون 2018میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کیئے جانے والے اوآئی سی سی آئی سیکیورٹی سروے میں سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کی ہے۔2014کے بعد سے پاکستان میں غیر ملکیوں کی آمد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور متعددملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہوں اور غیر ملکی اسٹاف نے پاکستان کے دورے کئے۔پاکستان کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کیلئے پیش کی گئی سفارشات پر تبصرہ کرتے ہوئے عرفان وہاب خان نے کہا کہ اوآئی سی سی آئی کے 190ممبران کے مشترکہ نقطہ نظر کے مطابق نئی حکومت کو جلداز جلد ملکی صلاحیت کے مطابق ٹھوس ترقی اور ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے جرات مندانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔اوآئی سی سی آئی ممبران نے ایف بی آراور ٹیکس کے معاملات میں اصلاحات اورقرضوں کی ادائیگی جیسے معا ملات پر واضح پالیسی کے ذریعے کاروباری اعتماداور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کوفروغ دینے اور کاروبار کو آسان بنانے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی سفارش کی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہے جودیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اوآئی سی سی آئی پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے بارے میں پرامید ہے۔او آ ئی سی سی آئی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے علاوہ حکومت کی جانب سے ترقی پر مبنی اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں بنانے سے ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور مسابقتی ماحول میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔ ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ بھی ملکی معیشت کو نمایاں طورپر مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ ملک میں کاروبار میں آسانی ، شفافیت میں اضافہ، گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور گورنمنٹ ٹوسیٹیزن خدمات کے مقاصد کے ساتھ پاکستان کو ڈیجیٹل پاکستان میں تبدیل کرنے کے بھی بہت زیادہ مواقع موجودہ ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر خدمات اور برآمدی شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔عرفان وہاب خان نے مزید کہا کہ او آئی سی سی آئی بین الاقوامی اور قومی سطح پر اپنے ممبران کے تجربوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد کو اجاگر کرنے میں حکومتِ پاکستان کی مددکرنے کیلئے تیار ہے ۔واضح رہے کہ اوآئی سی سی آئی نے 11ستمبر کو اوآئی سی سی آئی کے ممبران پینتیس ملکوں کے سفارتکاروں کے ساتھ ایک سیشن کا انعقاد کیا تھا جس میں ان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر ایک جامع بریفنگ دی گئی تھی۔ صحافیوں سے ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں عرفان وہاب نے کہا کہ سب کو سرمایہ کاری کے حوالے سے مساوی مواقع ملنے چاہیں اور فری ٹریڈ ایگریمنٹ سمیت تمام معاہدوں پر نظرثانی ہونی چاہیے ۔

مزید : علاقائی