کل مسالک علماء بورڈ کا محرم میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے مختلف سرگرمیوں کے انعقاد کا فیصلہ

کل مسالک علماء بورڈ کا محرم میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے مختلف سرگرمیوں ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)کل مسالک علماء بورڈ اور ادارہ امن و تعلیم کے زیر اہتمام اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے محرم الحرام میں امن و امان، بین المسالک مفاہمت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مختلف تقریبات اور سرگرمیوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔یکم محرم الحرام سے عشرہ وحدت امت منایا جائے گا۔جمعتہ المبارک کو پیغام امام حسینؓ پر خطبات جمعہ دیے جائیں گے۔ کل مسالک علماء بورڈ کے اجلاس میں مولانا محمد عاصم مخدوم،مولانا حافظ کاظم رضا نقوی،مولانا عبدالرب امجد ،مولانا ڈاکٹر بدر منیر مجددی،مولانا شکیل الرحمن ناصر،حافظ محمد نعمان حامد،حافظ شعیب الرحمن قاسمی ،پیر ولی اللہ شاہ،ڈاکٹر عبدالغفار رنداھاوا ،علامہ پرویز اکبر ساقی،علامہ محمد حسین گولڑوی،علامہ یونس ریحان،علامہ وقار الحسنین نقوی،علامہ سید نوبہار شاہ،مولاناضیاء الرحمن فاروقی ،علامہ اصغر عارف چشتی ودیگر نے شرکت کی۔

،مولانامحمدعاصم مخدوم نے اجلاس کا اعلامیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے تمام مرکزی پروگرامات میں شرکت کریں گے، اور کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے تمام مکاتب فکر سے رابطہ میں رہیں گے۔اس سلسلے میں مولاناشکیل الرحمن ناصر کی سربراہی میں کنٹرول روم قائم کیاگیاہے ،مولاناعاصم مخدوم نے کہاکہ تمام مکاتب فکر کے علماء کے اتحاد پر مشتمل پلیٹ فارم کل مسالک علماء بورڈ حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ محرم الحرام میں ضابطہ اخلاق طے کرنے اور اس پر عملدارآمد کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد کئے جا چکے ہیں اور اب ہم امن و مفاہمت کے اس پیغام کو لے کر تمام علمائے کرام اور خطباء و ذاکرین تک رسائی کریں گے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا محمد عاصم مخدوم نے اس بات پر زور دیا کہ اس با برکت مہینہ میں کسی قسم کے اختلافی موضوعات کی بجائے اہلبیت اطہار کی شان بیان کی جائے گی۔ ہم سب کو اپنے اپنے عقائد پر کاربند رہتے ہوئے آپس میں باہمی روابط کو فروغ دینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ملک مز ید انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔محرم الحرام کے دوران امن اور اتحاد بین المسلمین کا قیام وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء اور ذاکرین حکومتی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کریں۔ ملک میں امن و امان کے لیے مذہبی طبقات کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔1952 ء کی متحدہ علماء کمیٹی ہو، یا متفقہ آئین تشکیل دینا ہو، یا ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت کا معاملہ ہو، متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل ، اتحاد تنظیمات مدارس اور دیگر اتحاد میں تمام مسالک کاایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کی علامت ہیکہ تمام مسالک ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں۔ادارہ امن وتعلیم کے رہنما نے کہا کہ میڈیا اور علمائے کرام محرم الحرام میں امن و امان اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے علمائے کرام کے مرتب کردہ مفاہمتی بیانیے اورسفارشات کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسالک اور فرقوں کا وجود مسلّم ہے اور ہر فرقے اور مسلک کا اپنے آپ کو ہی برحق سمجھنا بھی ایک حقیقت ہے۔ لیکن دیگر مسالک کے بارے میں ایسا طرزِعمل اختیار نہیں کیا جا سکتا جو کسی بھی قسم کی کشیدگی کا سبب بنے۔ہر ایک فرقے اور مسلک کو اپنے عقائد بیان کرنے کی اجازت ہے لیکن دیگر مسالک کے خلاف شدت پسندی کے جذبات کو فروغ دینا، کیچڑ اچھالنا، گالی گلوچ اور نفرت انگیزی مناسب نہیں،حضرت امام حسینؓ کتاب و سنت کی روشنی میں نکتہ اتحاد ہیں ان کی زندگی تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ ظلم و استبداد کے نظام کے خلاف جہاد اور پورے خاندان کے ساتھ قربانی تاقیامت مشعل راہ ہے اس ماہ ذکر حسینی کے ساتھ فکر حسینی کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ حکومت ریاست مدینہ جیسا نظام لانے کے لئے اس فکر کے تحت عملی اقدامات اٹھائے۔ حکومت کے ضابطہ اخلاق پر عمل کیا جائے۔ ایک دوسرے کے بزرگوں کا احترام کیا جائے۔ مسلمانوں کے مابین محبت رسول، محبتِ آل رسول، احترام صحابہ کرامؓ اوراحترام ازواج پیغمبر کی بنیاد پر قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے،

مزید : میٹروپولیٹن 4