دینی مدارس کے نصاب اور نظام میں حکومتی مداخلت برداشت نہیں کریں گے،اویس نورانی

دینی مدارس کے نصاب اور نظام میں حکومتی مداخلت برداشت نہیں کریں گے،اویس ...

لاہور (پ ر) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور متحدہ مجلس عمل کے ترجمان صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے نصاب اور نظام میں حکومتی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت مدارس کے معاملات کو چھیڑنے سے باز رہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی ضیا الرحمن کو کمشنر افغان مہاجرین کے عہدے سے ہٹانا انتقامی کاروائی ہے۔ قوم حکومت کو سی پیک منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹنے دے گی۔ چندے سے ڈیم بنانے کی سوچ بچگانہ ہے۔

حکومت کی پہلے بیس دنوں کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ قادیانیوں نے پاکستان دشمنی میں اسرائیل اور بھارت سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ جغرافیائی سرحدوں کی طرح نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔ پی ٹی آئی نے اقتدار کی ہر شاخ پر ایک ایک الو بٹھا دیا ہے۔ چوراسی کروڑ کے قرضے معاف کرانے والی فہمیدہ مرزا کو وفاقی وزیر بنا کر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ قوم کی ضرورت بھاشن نہیں راشن ہے۔ وزراء کا طرزعمل جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جے یو پی پنجاب کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے مزید کہا کہ عمران خان اور اس کے سرپرستوں کے مفادات کا ٹکراؤ نوشتہ دیوار ہے۔ جنرل مشرف کے وکیل کو وزیر بنا کر قوم کو مایوس کیا گیا ہے۔ مشرف دور میں توانا پاکستان کے اربوں روپے خرد برد کرنے والی زبیدہ جلال کا وزیر بننا عمران خان کے دعووں کی نفی ہے۔ پی ٹی آئی سمجھوتوں کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ مقتدر قوتوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار نہیں دیا بلکہ شریک اقتدار کیا ہے۔ پنجاب کا سنیئر وزیر نیب زدہ ہے۔ جے یو پی کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ جے یو پی اپوزیشن میں رہ کر حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی ڈٹ کر مخالفت کرے گی۔ منتخب بلدیاتی اداروں کو آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ختم نہیں کرنے دیں گے۔ ہر ماہ ناقص حکومتی کارکردگی پر حقائق نامہ جاری کیا جائے گا۔ حکومت کو دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل سے بھاگنے نہیں دیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4