صدہ جیل میں معمر قبائلی کی وفات پر عمائدین کا احتجاجی مظاہرہ

صدہ جیل میں معمر قبائلی کی وفات پر عمائدین کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور(سٹی رپورٹر)قبائلی ضلع کرم کے نوجوانوں اورعمائدین نے صدہ جیل میں جاں بحق ہونے والے بزرگ شہری کے موت پردپٹی کمشنرکرم کے خلاف گورنرہاؤس پشاورکے سامنے احتجاجی دھرنادیاجس کی قیادت قاری سیف الرحمن، عبید الرحمن، ملک عبدلوالی، تاج نبی، شوکت عزیز اور دیگر کررہے تھے۔مظاہرین کاکہناتھاکہ فاٹا انضمام کے بعدبھی زیادہ تر علاقوں سے پرانا قانون ایف سی آر ختم نہ ہوسکا، قبائلی ضلع کرم میں اب بھی ڈپٹی کمشنر ایف سی آر قانون کا استعمال کررہاہے ، ان کاکہناتھاکہ ضلع کرم میں معدنیات کے لیز کے سلسلے میں دو قبیلوں کے مابین تنازعے پر ضلعی انتظامیہ نے دونوں فریقین سے حدود ذمہ داری کے تحت متعدد افراد اور قبائلی عمائدین کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں 70سالہ ملک گل بت خان بھی شامل تھا گزشتہ روز جیل میں زیرحراست قبائلی ملک گل بت خان مبینہ طورپر برقت طبعی امداد نہ ملنے کے نتیجہ میں جاں بحق ہوگئے۔ قبائلی ملک کے رشتہ داروں اور علاقے کے مشران نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک گل بت خان کئی روز سے جیل میں علیل تھے اور انہیں کسی قسم کی طبی امداد نہیں پہنچائی جارہی تھی۔انہوں نے کہا کہ دو قبائل خانی خیل اور گنداو کے مابین معدنیات کے لیز کے سلسلے میں تنازعہ چلا آرہا تھا جس پر مقامی انتظامیہ نے دونوں قبائل کے عمائدین کو گرفتار کرلیا صدہ جیل میں وہ مبینہ طور پر جاں بحق ہوگیا ہے انہوں نے کہا کہ ایف سی آر قانون ختم ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود ایف سی آر کا غلط استعمال افسوسناک ہے عمائدین نے مطالبہ کیا کہ ڈی سی کرم بصیر خان، تحصیلدار ، صوبیدار میجر کو فوری طور پر برطرف کیا جائے اور لیز لینے والا ٹھیکیدار خالق نور وزیر کے خلاف کاروائی کی جائے مقامی انتظامیہ نے کے مطابق گنداو اور خانی خیل قبائل کے مابین معدنیات کے لیز کے سلسلے میں تنازعہ شدت اختیار کرگیا تھا اور خونریزی کا خدشہ تھا اس وجہ سے دونوں فریقین سے متعدد افراد اور قبائلی عمائدین کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں حاجی گل بت پاڑہ چمکنی پر دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر