مقدمات کا اندراج اور سیشن ججوں کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ذمہ دار آئی جی ہوگا ، لاہور ہائیکورٹ

مقدمات کا اندراج اور سیشن ججوں کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ذمہ دار آئی ...

 لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے خبردار کیا ہے کہ سیشن ججوں کے بطور جسٹس آف پیس جاری کردہ اندراج مقدمہ کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہواتو اس کے ذمہ دار آئی جی پولیس پنجاب ہوں گے۔مسٹر جسٹس قاسم خان نے عدالت میں مزید آئی جی پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ پتہ چلا ہے بطور آئی جی پنجاب آج آپ کا پہلا دن ہے،ابھی آپ نئے ہیں آپ کو 15دنوں کا وقت دے رہے ہیں ،اگر 15روز کے بعد بھی کسی جسٹس آف پیس کے حکم کی تعمیل نہ ہوئی تو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔نئی حکومت نے تو کہا ہے ہم پنجاب پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کریں گے، عدالت۔فاضل جج نے قراردیا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے سارا دن اندراج مقدمہ کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اور عدالتی حکم کے باوجود مقدمات درج نہیں ہوتے، بر وقت مقدمات درج نہ کرنے کی وجہ سے ہائیکورٹ کے 10ججوں کوفوجداری مقدمات کی سماعت کرنی پڑ رہی ہے،عدالتی حکم کے 24 گھنٹے بعد اگر مقدمہ درج نہیں ہوتا تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔فاضل جج نے طارق خان اور توقیر فاطمہ کی طرف سے دائرالگ الگ درخواستوں پر آئی جی پنجاب پولیس کو طلب کررکھاتھا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ سیشن کورٹ کے حکم کے باوجود ان کی درخواستوں پر مقدمات درج نہیں کئے جارہے۔درخواستوں میں آئی جی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے ،عدالتی حکم پرآئی جی پولیس پنجاب عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ دی کہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔عدالتی ریمارکس پر آئی جی پولیس محمدطاہر نے بتایا کہ مقدمات بر وقت درج کرنے کے لئے کل ہی اجلاس کیا ہے ، معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔فاضل جج نے باور کرایا کہ عدالتی حکم پر اگر کسی ضلع یا تھانہ میں مقدمہ درج نہیں ہوتا تو آئی جی پنجاب صاحب آپ خود زمہ دار ہوں گے ۔عدالتی حکم کے بعد24 گھنٹے میں مقدمہ درج نہ ہونا قانون کی خلاف ورزی ہے اور عدالتی حکم عدولی پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لاہورہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر