عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کوناراض کرکے بھی ہمیشہ طاقت ور رہے ہیں ، فضل الرحمن

عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کوناراض کرکے بھی ہمیشہ طاقت ور رہے ہیں ، فضل ...

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ ہم عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرکے بھی طاقت ور رہے ہیں ،تمام ادارے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے اسی وقت عہدہ براہ ہوسکتے ہیں جب آئین پر عمل ہوگا ،دینی مدارس سرکاری طور پر منظور شدہ نیٹ ورک ہیں ،تمام مکاتب کے مدارس ایک ہی نیٹ ورک سے منسلک ہے لیکن حکومت نے یکطرفہ طور پر رجسٹریشن منسوخ کردی ، اب بھی وقت ہے حکومت اپنے فیصلہ واپس لے ورنہ عاطف میاں کی طرح یہ فیصلہ بھی واپس کرائینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جے یو آئی ف کی آئندہ پانچ سال کیلئے رکنیت سازی کے افتتاح پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نئے مدارس فارموں کو سربازار پھاڑیں گے اور مزاحمت کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ مدارس کے مہتمین کے خلاف ایک ایک سال کی قید سنائی جارہی ہے ،دینی مدارس کی مخالفت دین کی مخالفت کے بغیر نہیں ہوسکتی یہ سنگین مسئلہ ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے ۔انہوں نے کہاکہ تمام دینی مدارس کے اجلاس صوبائی سطح پر طلب کر لیے گئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اس وقت ملک کیلئے بہت مشکل صورتحال ہے، خارجہ پالیسی اضطراب کا شکار ہے ، حکمران سفارتی آداب سے عاری نظر آرہے ہیں کیونکہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات جو اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوئی اس اعتماد کو نئی حکومت نے دھچکا لگایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک مستحکم مستقبل کا ضامن تھا وہ عدم اعتماد کا شکار ہورہا ہے جبکہ نئے وژن کی بات کرنے والوں کے پاس خوابیدہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مشرق و مغرب کی لڑائی میں پاکستان پھر آماجگاہ بن رہا ہے مگر ہمارے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ قادیانی آج پھر متحرک ہوگئے جنہیں حکمران سپورٹ کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو بین الاقوامی معیشت کے تابع بناکر یہودی لابی کے کنٹرول میں دینے کی کوشش ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور بلندی درجات کیلئے دعا گو ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس منسوخ کیا جانا چاہئے ۔

مولانا فضل الرحمن

مزید : صفحہ آخر