کلثوم نواز نے آمریت میں بہادر خاتون ہونے کا ثبوت دیا

کلثوم نواز نے آمریت میں بہادر خاتون ہونے کا ثبوت دیا

لاہور(رپورٹ : دیبا مرزا)پاکستان کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں بطور سیاسی کارکن اور بطور ماں دو ایسی خواتین کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ جنہوں نے آمرانہ دور میں سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے جہاں پر اپنی پارٹیوں کو زندہ رکھنے کے لئے اپنا خون دیا تو وہیں پر انہوں نے بطور ماں بھی ایک بھرپور کردار ادا کیا ۔بیگم نصرت بھٹو شہید کے شوہر ذوالفقار علی بھٹو شہید کو جب پابند سلاسل کردیا گیا تو انہوں نے لاہور کی سڑکوں پر کارکنوں کے ساتھ نکل کر بھرپور سیاسی جدوجہد کی اور اس کے نتیجے میں ان کے سر پر پڑنیو الی لاٹھیوں سے ان کا سر پھٹ گیا لیکن وہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنی ساری زندگی وہ پیپلز پارٹی کو زندہ رکھنے کی جدوجہد کرتی ہوئی دکھائی دیں اور پھر تاریخ نے ان کی اسی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے انہیں مادر ملت فاطمہ جناح کے بعد انہیں بھی اس کا خطاب ملا ۔ٹھیک اسی طرح سے بیگم کلثوم نواز نے بھی اس وقت ایک بہادر اور نڈر خاتون ہونے کا ثبوت دیا جب ان کے شوہر میاں محمد نواز شریف کو جیل میں بند کردیا گیا اور وہ اپنے شوہر کو جیل سے باہر نکلوانے اور ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو زندہ رکھنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں اور انہیں مال روڈ پر اس وقت کی پولیس نے ان کی گاڑی کو کئی گھنٹوں تک ہوا میں معلق رکھا لیکن اس کے باوجود بیگم کلثوم نواز کے حوصلے پست نہ ہوئے اور وہ اپنی سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھاتی رہیں ان کی اس جدوجہد کو دیکھتے ہوئے کارکنوں کو ایک نئی جہت اور حوصلہ ملا اس لئے اگر انہیں بھی مادر ملت کا خطاب دیدیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔بیگم کلثوم نواز کو لاہور کے حلقہ این اے 120کی عوام نے ان کی بیماری اور حلقہ میں نہ آنے کے باوجود انہیں ضمنی الیکشن میں ریکارڈ ووٹوں سے منتخب کیا لیکن مرحومہ اپنی علالت کے باعث پاکستان آکر اپنی اس جیتی ہوئی نشست سے اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہ اٹھا سکیں اور اس طرح سے اسمبلی کی مدت پوری ہو گئی ۔یہاں پر اگر شہید بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ بھی زیادتی ہوگی بلا شبہ وہ بھی ایک نڈر بہادر خاتون لیڈر تھیں جن کو علم تھا کہ انہیں شہید کردیا جائے گا لیکن اس کے باوجود وہ اپنی لندن کی پرسکون زندگی کو چھوڑ کر پاکستان آئیں اور شہادت کا رتبہ پایا۔مریم نواز شریف نے بھی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اور اپنے اوپر بننے والے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے والد محترم میاں نواز شریف کے ساتھ قید کاٹ کر اپنی والدہ محترمہ بیگم کلثوم نواز کی بہادر بیٹی ہونے کا حق ادا کردیا ہے اب یہ مریم نواز اور ان کے والد کا آئینی و قانونی حق ہے کہ انہیں پیرول پر رہائی دی جائے تاکہ وہ مرحومہ کی آخری رسومات میں شریک ہو سکیں ۔ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنے سیاسی نظریاتی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مرحومہ کی ایک جدوجہد کرنے والی سیاسی خاتون ہونے کا اعزاز دیکر ان کی سیاسی سطح پر تدفین کروانے کااعلان کردیں تو یہ ان کا بلا شبہ ایک بڑا پن ہو گا کیونکہ مرحومہ کو پاکستان کی خاتون اول ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔

کلثوم بہادر خاتون

مزید : کراچی صفحہ اول